Al-Risala · July 2026

یہود کی ایک روش

Al-Risala, July 2026, p. 16

By Maulana Wahiduddin Khan

یہود کی ایک روش کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے :

تَجْعَلُوْنَهُ قَرَاطِیْسَ تُبْدُوْنَهَا وَتُخْفُوْنَ کَثِيْرًا (6:91) ۔ یعنی، یہود کو جو آسمانی کتاب دی گئی تھی، اس کو انھوں نے ورق ورق کر دیا۔ کچھ کو ظاہر کیا اور زیادہ کو ظاہر نہیں کیا۔

اس آیت میں ”قرطاس“ سے مراد کاغذ ہے، یعنی ایک مادی چیز۔ یہاں بظاہر کاغذی اور مادی تقسیم کا ذکر ہے، مگر اصل اشارہ معنوی تقسیم کی طرف ہے۔ یہود کے دورِ زوال میں یہی ہوا کہ انھوں نے دین خداوندی کی روح کو اس کے فارم سے جدا کر دیا۔ اس دور میں ان کے علما اور مشائخ، یعنی احبار اور رہبان، دین خداوندی کے فارم کا خوب چرچا کرتے تھے، لیکن دین خداوندی کی اسپرٹ کا ان کے یہاں کوئی چرچا نہ تھا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ دینِ خداوندی، جو اصلاً اسپرٹ پر مبنی دین تھا، عملاً فارم پر مبنی دین بن گیا۔

یہ جو کچھ ہوا، وہ اصلاً ”یہودیت“ کا ظاہر ہ نہیں تھا، بلکہ وہ دورِ زوال کا ظاہر ہ تھا۔ ہر امت کے ساتھ اس کے دورِ زوال میں یہی واقعہ پیش آتا ہے، حتی کہ خود امت مسلمہ کے ساتھ بھی۔ قرآن کی اس آیت کو مزید وضاحت کے ساتھ جاننا ہو تو آپ بائبل کا مطالعہ کیجیے۔ مطالعے سے یہ بات تفصیل کے ساتھ معلوم ہوتی ہے۔ یہود دینِ خداوندی کے معنوی پہلو کو چھوڑے ہوئے تھے اور دین کے ظاہری پہلو کو اس طرح بیان کرتے تھے جیسے کہ وہی اصل دین ہے۔ حقیقت ہے جس کو حضرت مسیح نے تمثیل کی زبان میں اس طرح بیان کیا کہ اے اندھے راہ بتانے والو، تم مچھر کو چھانتے ہو اور اونٹ کو نگل جاتے ہو:

You blind guides! You strain out a gnat but swallow a camel.

Printed page