Al-Risala · July 2026

کلام کی دو قسمیں

Al-Risala, July 2026, pp. 18–19

By Maulana Wahiduddin Khan

کلام کی دو قسمیں ہیں۔ ایک وہ جب کہ متکلم بولنے سے پہلے یہ جاننے کی کوشش کرے کہ سامع یا قاری کا ذہن کیا ہے، اور اس کا کنسِرن یہ ہو کہ اس کی بات فریقِ ثانی کے ذہن کو ایڈریس یعنی وہ پہلے خود موضوعِ کلام پر غور کرے، اور اچھی طرح سوچنے کے بعد اپنی بات اس انداز میں پیش کرے کہ سننے یا پڑھنے والے کو اس سے کوئی واضح ٹیک اوے (takeaway) حاصل ہو۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ آپ کے ذہن میں جو الفاظ ہوں، ان الفاظ کو آپ لکھنا یا بولنا شروع کر دیں، بغیر یہ سوچے ہوئے کہ فریقِ ثانی کو اس میں کوئی ٹیک اوے ملے گا یا نہیں۔ میرا تجربہ یہ ہے کہ لکھنے والے یا بولنے والے لوگ زیادہ تر سوچے بغیر بولتے ہیں۔ اس وجہ سے مقرر یا محرّر کی باتیں عام طور پر وضوح (clarity) سے خالی ہوتی ہیں، اور جب کلام یا مضمون میں وضوح نہ ہو، تو پڑھنے یا لکھنے والے کے لیے اس میں کوئی ٹیک اوے کیسے مل سکتا ہے۔

صحیح مقرر یا محرّر وہ ہے جو زیرِ بحث بات پر پہلے خود سوچے، وہ اس کو پوری طرح ہضم کرے، اور اپنے جواب سے پہلے بات کے مالہ و ماعلیہ پر اچھی طرح غور کرے، اور پھر اپنے جواب کا اظہار گویا پہلے آپ کو مخاطب بنائے، اور اس کے بعد دوسرے شخص کو۔ مگر یہ اہم صفت عام طور پر مقرر یا محرّر کے یہاں موجود نہیں ہوتی۔ یہ بات میں ذاتی تجربے کے بعد کہہ رہا ہوں۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ لوگ کسی کی ایک بات سنتے ہیں، یا کسی کی ایک بات کو پڑھتے ہیں، اور جب میں ان سے اس بات کا خلاصہ پوچھتا ہوں، تو وہ صحیح طور پر اس کا جواب نہیں دے پاتے۔ کیوں کہ جو تقریر انھوں نے سنی ہے، یا جو مضمون پڑھا ہے، اس میں وضوح نہیں ہوتا، جس سے وہ کہی ہوئی باتوں کو سمجھیں، اور ان کا مائنڈ اس سے ایڈریس ہو۔

وضوح کسی تحریر یا تقریر کی اہم صفت ہے۔ یہ طریقہ عین قرآن کے مطابق ہے۔ ایک آیت ان الفاظ میں آئی ہے: ﴿وَقُلْ لَّهُمْ فِي أَنْفُسِهِمْ قَوْلاً بَلِيغاً﴾ (63 یعنی ان سے ایسی بات کہو، جو ان کے دل میں اتر جانے والی ہو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو فرد کے مائنڈ کو ایڈریس

مجیب کا جواب ایسا ہونا چاہیے کہ اگر وہ آپ کے جواب سے اتفاق نہ کرے، تب بھی آپ کے جواب میں اتنا وضوح ہونا چاہیے، کہ سامع اس کو بخوبی طور پر سمجھ جائے۔ اسی کو کہتے ہیں کہ جواب ہونا چاہیے جو سائل کے ذہن کو ایڈریس کرنے والا ہو۔

Printed page