جدید اسلامی لٹریچر
Al-Risala, July 2026, pp. 24–27
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جتنے پیغمبر بھیجے ، سب ان کی قوموں کی زبان میں بھیجے : وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ رَسُولٍ إِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِهِ (14:4) - اس آیت سے یہ اصول اخذ ہوتا ہے کہ انسانوں کو اللہ رب العالمین کے منصوبہ تخلیق سے آگاہ کرنے کی لازمی شرط یہ ہے کہ یہ آگاہی ہر فرد کی اپنی زبان اور قابل فہم انداز میں دی جائے۔
اس اعتبار سے غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس زمانہ میں جس طرح دوسری چیزوں میں انقلاب آیا ہے اسی طرح زبان وادب میں بھی زبردست انقلاب آیا ہے۔ سائنس کے زیر اثر موجودہ زمانہ میں بالکل ایک نیا انداز بیان وجود میں آیا ہے۔ آج کا انسان اسی بات کو اہمیت دیتا ہے جو جدید سائنسی اسلوب میں ڈھال کر اس کے سامنے پیش کی جائے۔ اور جو چیز سائنسی اسلوب میں ڈھلی ہوئی نہ ہو وہ جدید انسان کو اپیل نہیں کرتی ، وہ اس کے دل و دماغ میں اپنی جگہ نہیں بناتی۔ اس صورت حال کا تقاضا تھا کہ موجودہ زمانہ میں جدید اسلامی لٹریچر تیار کیا جائے۔ جو وقت کے علمی اور ادبی اسلوب کے مطابق ہو۔ اس کی اہمیت غیر مسلم قوموں کے لیے بھی تھی اور خود مسلمانوں کے اعلی تعلیم یافتہ طبقہ کے لیے بھی۔ مگر یہاں دوبارہ مسلمانوں کی رد عمل کی نفسیات رکاوٹ بن گئی۔ انداز یا نیا ادبی اسلوب پیدا کرنے والی قومیں وہی تھیں ، جن سے ہمارے مسلم رہنما نفرت میں مبتلا اور جن کو وہ حقارت کی نظر سے دیکھتے تھے۔ ان کی اس نفسیات کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ توجہ اور دل جمعی کے ساتھ جدید اسلوب کو سمجھنے کی کوشش نہ کر سکے۔ نتیجتاً وہ جدید اسلوب میں اسلامی لٹریچر پیش کرنے میں بھی ناکام رہے۔
دور جدید میں اسلام کے احیا اور تجدید کے کام کی یہ ایک بنیادی ضرورت تھی۔ مگر کتابوں کے ان گنت انبار کے باوجود یہ بنیادی ضرورت ابھی تک غیر تکمیل شدہ حالت میں پڑی ہوئی ہے۔ لوگوں کے اندر اس کا شعور تک موجود نہیں۔ میری ملاقات ایک صاحب سے ہوئی جو ایک مشہور حلقہ
سے تعلق رکھتے ہیں۔ میں نے کہا کہ مسلمان ابھی تک یہ نہ کر سکے کہ وہ وقت کے فکری مستویٰ پر اسلامی لٹریچر تیار کریں۔ انھوں نے اس سے اختلاف کیا اور کہا کہ فلاں عظیم شخصیت نے یہ کام انجام دے دیا ہے۔ ان کی کتابیں وقت کے فکری مستویٰ پر اسلامی تعلیمات کو پیش کر رہی ہیں۔ میں نے کہا کہ آپ مذکورہ شخصیت سے قریبی تعلق رکھتے ہیں۔ آپ ان سے چند سطر میں صرف لکھوا کر بھیج دیجیے کہ وقت کا فکری مستویٰ کیا ہے اور اس سے مراد کیا ہے۔ مگر آج تک ان کی طرف سے اس کا کوئی جواب نہیں آیا۔
میں اردو، عربی، فارسی اور انگریزی میں اپنے چالیس سالہ مطالعہ کی بنا پر یہ کہہ سکتا ہوں کہ اس پورے دور میں مسلمانوں کا دینی طبقہ کوئی ایک بھی ایسی قابلِ ذکر کتاب وجود میں نہ لاسکا، جو جدید سائنٹفک اسلوب اور وقت کے فکری مستویٰ پر اسلامی تعلیمات کو پیش کرنے والی ہو۔ سے عقیدت رکھنے والے کسی خوش فہم دماغ میں ایسی کتابوں کا وجود ہو سکتا ہے، مگر حقیقی دنیا میں ایسے لٹریچر کا وجود نہیں۔
1980 میں میری ملاقات امریکا کے ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ شخص مسٹر اسٹیو اسکلر (Steve Sklar) سے ہوئی۔ وہ فلوریڈا کے ایک عیسائی خاندان میں 1947 میں پیدا ہوئے۔ کو تقابلی مطالعہ کا شوق ہوا، اور انہوں نے تمام بڑے بڑے مذاہب سے متعلق کتابیں پڑھ ڈالیں۔ گفتگو کے دوران انھوں نے کہا کہ میں نے ان مسلم مصنفوں کی کتابوں کے انگریزی ترجمے پڑھے ہیں، جو موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کے درمیان بڑے مفکر سمجھے جاتے ہیں۔ مگر یہ کتابیں میرے نزدیک بالکل کوڑا (rubbish) ہیں۔ مغربی ملکوں میں ان کے ذریعہ سے اسلام کے تعارف کا کام نہیں کیا جا سکتا۔
انھوں نے کہا کہ یہ انگریزی ترجمے زبان کے اعتبار سے ناقص ہیں۔ ان کی زبان جاندار تاہم اس سے قطع نظر مضمون کے اعتبار سے بھی ان کتابوں میں ایسی کمیاں ہیں کہ وہ مغربی انسان پر کوئی گہرا اثر نہیں چھوڑ سکتیں۔ اس سلسلہ میں انھوں نے چند باتیں بتائیں۔
نے کہا کہ ان کتابوں کے پڑھنے سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان کا لکھنے والا مغرب کے خلاف شدید نفرت میں مبتلا ہے۔ وہ مغرب اور مغربی تہذیب کو حقارت کی نظر سے دیکھتا ہے۔ ان کے اس مزاج کی وجہ سے ان کی کتابیں غیر سائنٹفک ہو کر رہ گئی ہیں۔ ہندو مفکرین کی کتابوں میں اپنے مخاطب کے لیے محبت کا جذبہ ملتا ہے، مگر موجودہ زمانہ کے مسلم مفکرین کی کتابوں میں کم از کم مغربی مخاطب کے لیے نفرت اور حقارت کے سوا اور کچھ نہیں۔
چنانچہ ان کتابوں کی ایک کمی یہ ہے کہ ان میں غلط قسم کی تعميم (generalisation) پائی جاتی یہ لوگ مغربی سوسائٹی سے کوئی منفرد اور استثنائی واقعہ لیں گے اور اس کو اس طرح بیان کریں گے گویا کہ یہی مغربی سوسائٹی کی عام حالت ہے۔ مثلاً ایک مسلم مصنف نے اپنی کتاب میں یہ واقعہ نقل کیا ہے کہ ایک شخص ایک مغربی خاتون کے گھر پر اس سے ملنے کے لیے گیا۔ اس نے گھنٹی بجائی، اس وقت مغربی خاتون غسل خانہ میں نہارہی تھی۔ وہ گھنٹی کی آواز سن کر بالکل ننگی باہر نکل آئی۔ اس قسم کا واقعہ کوئی استثنائی واقعہ ہو سکتا ہے۔ مگر یہی مغربی سوسائٹی کی عام حالت نہیں۔ ان مصنفین کا حال یہ ہے کہ وہ مغربی سوسائٹی کا کوئی برا واقعہ لیں گے، اور اس کو مغربی سوسائٹی کی عام حالت دوسری طرف یہی لوگ اسلام کے بارے میں یہ کرتے ہیں کہ وہ اس کا ایک نہایت اچھا واقعہ منتخب کرتے ہیں اور اس کو اسلامی سوسائٹی کی عام حالت بتاتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ اس قسم کا تقابل علمی اعتبار سے صحیح نہیں۔
اسی طرح ان کتابوں میں ایک عام کمی یہ پائی جاتی ہے کہ اس میں آئیڈیل کا تقابل پریکٹس سے کیا جاتا ہے۔ مثلاً اسلام کے تصور مساوات کو بتانے کے لیے وہ خطبہ حجة الوداع کے الفاظ نقل کریں گے اور مغرب کے تصور مساوات کو بتانے کے لیے ساؤتھ افریقہ کی مثال دیں گے۔ حالاں کہ یہ تقابل سراسر غلط ہے۔ ان کو چاہیے کہ آئیڈیل کا تقابل آئیڈیل سے اور پریکٹس کا تقابل پریکٹس سے مثلاً پیغمبر کے حجة الوداع کی تقریر کا تقابل انھیں اقوام متحدہ کے حقوق انسانی کے چارٹر سے کرنا چاہیے، نہ کہ ساؤتھ افریقہ کی عملی صورت حال سے، وغیرہ وغیرہ۔
مسٹر اسٹیو اسکلر کی مذکورہ نشاندہی بالکل درست ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ جدید قومیں ہمارے مسلم رہنماؤں کے لیے نفرت اور حقارت کا موضوع بن گئیں۔ یہ ذہن اتنا عام ہوا کہ مسلمانوں کی غیر سیاسی شخصیتیں بھی اس نفسیات سے محفوظ نہیں رہیں۔ اس کی عبرت ناک مثال وہ ہے جس کو مولانا سعید احمد اکبر آبادی (1985-1908) نے نقل کیا ہے۔
مولانا ابو البرکات عبد الرؤف دانا پوری نے سیرت نبوی پر اپنی کتاب ”اصح السیر“ کے مقدمہ میں لکھا ہے کہ چوں کہ طبقات ابن سعد کو ایک عیسائی نے ایڈٹ کیا اور چھاپا ہے اور اس نے ضرور کتاب کے اصل مخطوطہ میں رَد و بدل کیا ہوگا۔ اس لیے میرے نزدیک وہ معتبر اور قابل استناد نہیں ہے۔ اصح السیر میں یہ بات پڑھ کر مولانا سعید احمد اکبر آبادی نے مولانا حبیب الرحمن الاعظمی کی طرف رجوع کیا، جن کی نظر مخطوطات پر بڑی وسیع اور عمیق ہے۔ نے جواب میں تحریر فرمایا کہ طبقات ابن سعد کا ایڈیشن جس مخطوطہ پر مبنی ہے، اس کو میں نے دیکھا اور مطبوعہ ایڈیشن اور مخطوطہ دونوں کا حرفاً حرفاً مقابلہ کیا ہے اور کہیں ایک حرف کا فرق بھی نہیں پایا (ماہنامہ برہان، دہلی، جون 1982)
اس نفسیات کی بنا پر مسلمانوں کے لیے یہ ممکن نہ ہو سکا کہ وہ جدید اسلوب یا جدید معیار ادب کو سمجھیں، جن کو پیدا کرنے والی خود یہی مغربی قومیں تھیں۔ جدید قوموں سے نفرت مسلمانوں کے لیے اس میں مانع ہوگئی کہ وہ جدید اسلوب کو سمجھیں، اور اس میں مہارت پیدا کرکے لسان قوم میں اسلامی ہمارا مشن ہے گلوبل انفراسٹرکچر کو اویل کر کے تمام انسانوں تک خدائی پیغام پہنچانا۔ ایسا اس لیے ہے کہ ہمارے دل میں کسی کے خلاف شکایت نہیں ہے۔ اگر آپ کا دل شکایت سے خالی ہو تو آپ گلوبل آؤٹ سورسنگ کے چیمپئن بن جاتے ہیں۔