Story of an African Farm
Al-Risala, July 2026, pp. 43–44
By Maulana Wahiduddin Khan
اس کتاب کا ایک اقتباس میں نے اپنی کتاب الاسلام کے مقدمہ میں ان الفاظ میں نقل کیا ہے : اس میں ایک اجنبی مسافر ایک کسان کے لڑکے کو ایک شکاری کا قصہ بیان کرتا ہے۔ شکاری کو سچائی کی خوبصورت سفید چڑیا کی تلاش تھی جس کی ایک جھلک اس نے ایک جھیل کے کنارے دیکھی تھی۔ اس نے خوش اعتقادی کے پھندے اور تصورات کے پنجرے میں چڑیا کو پکڑنا چاہا۔ مگر اسے معلوم ہوا کہ سچائی کو سچائی ہی کے ذریعے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اس نے تو ہمات کی وادی کو چھوڑ دیا اور سچائی کے پہاڑ پر چڑھنا شروع کر دیا۔ یہاں تک کہ وہ ایک اونچی کھڑی ہوئی چٹان کے سامنے پہنچ گیا۔ اس نے اس چٹان کو کاٹ کاٹ کر سیڑھیاں بنانی شروع کیں۔ سالہا سال تک وہ سیڑھیاں بناتا رہا اور اوپر چڑھتا رہا، یہاں تک کہ بوڑھا ہوتے ہوتے وہ اس چوٹی پر پہنچ گیا۔ مگر اب اسے معلوم ہوا کہ اس کے آگے ایک اور چٹان ہے جو اس سے بھی زیادہ اونچی ہے۔ مگر اب اس کی عمر ختم ہو جاتی ہے اور وہ وہیں مر جاتا ہے۔ تاہم مرتے وقت اوپر سے ایک سفید پر آ کر اس کے پاس گرا۔ اب اسے یقین ہو گیا کہ مطلوب چڑیا اس اگلی چٹان پر ہے۔ اگرچہ وہ خود سچائی کی چڑیا تک نہیں پہنچ پاتا، مگر وہ اس اطمینان کے ساتھ جان دے دیتا ہے کہ میرے بعد آنے والے کو پچھلی سیڑھیاں بنانی نہیں پڑیں گی۔ وہ پر کو اپنے ہاتھ میں لیتا ہے اور یہ کہتے ہوئے مر جاتا ہے کہ جہاں آج میں بوڑھا اور کمزور ہو کر گر پڑا ہوں ، دوسرے لوگ یہاں سے کھڑے
ہوں گے ۔ نوجوان اور تازہ دم ۔ جو سیڑھیاں میں نے کاٹی ہیں ، وہ اس سے چڑھیں گے ۔ کبھی نہ جانیں گے کہ سیڑھیاں بنانے والے کا نام کیا تھا۔ مگر وہ ان سیڑھیوں کو چڑھتے رہیں گے اور بالآخر سچائی تک پہنچ جائیں گے :
یہی وہ حقیقت پسندانہ طریقہ ہے جو انسان کو اپنے مقصد کی طرف مسلسل آگے بڑھاتا ہے۔ تعمیری کام ہمیشہ درست منصوبہ بندی ، بتدریج کوشش کے ذریعہ انجام پاتا ہے۔ ایسے آدمی کا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ وہ ہمیشہ ممکن سے آغاز کرتا ہے۔ وہ کبھی ناممکن سے آغاز کرنے کی کوشش نہیں اسی طرح وہ چھوٹے سے آغاز کرتا ہے ، وہ بڑے سے آغاز کرنے کی کوشش نہیں کرتا۔ طرح وہ درست منصوبہ بندی (right planning) سے کام شروع کرتا ہے ، وہ کبھی وش فل تھنکنگ (wishful thinking) سے آغاز نہیں کرتا۔ اس اعتبار سے وہ اپنے کام کا مسلسل جائزہ لیتا رہتا ہے۔ اس کا طریقہ یہ نہیں ہوتا کہ کام تو کرے ، مگر اس کا جائزہ نہ لے۔ قارئین الرسالہ کو یہ اطلاع دیتے ہوئے ہم اللہ تعالی کا شکر ادا کرتے ہیں کہ ماہنامہ الرسالہ اکتوبر 1976ء میں جاری ہوا۔ اس طرح اکتوبر 2026ء میں اس کی اشاعت کے پچاس سال مکمل ہو اس مناسبت سے الرسالہ کا ایک خصوصی نمبر شائع کیا جا رہا ہے۔ یہ خصوصی شمارہ اکتوبر تا دسمبر 2026ء کے مشترکہ شمارے کی صورت میں ہوگا ۔