انسان جاگ اٹھا
Al-Risala, July 2026, pp. 45–56
By Maulana Wahiduddin Khan
24 جنوری 1993 کو میں جبل پور میں تھا۔ یہاں ناگپور کے جناب عبدالسلام اکبانی (پیدائش 1947) سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے اپنا ایک ذاتی واقعہ بیان کیا جس میں بہت بڑا سبق ہے۔ عبدالسلام اکبانی صاحب نے 1990 میں ناگپور کے ایک ہندو پر بھا کر ہزارے سے 6 لاکھ روپے میں ایک زمین کی خریداری کا معاملہ کیا۔ طے ہوا کہ عبدالسلام صاحب بطور ایڈوانس 2 لاکھ روپے مالک کو دے دیں گے۔ چھ ماہ بعد رجسٹرّی ہوگی اور اسی وقت بقیہ رقم ادا کردی جائے دو مہینے کے بعد مالک زمین نے کچھ وجہ بتا کر دولاکھ روپے اور وصول کر لیا۔ اب مالک زمین کے ہاتھ میں چار لاکھ رو پے آگیا۔ اس درمیان میں زمین کی قیمت بڑھ گئی ۔ اس کے بعد مالک زمین کا ارادہ بدل گیا۔
چھ مہینے کے بعد عبدالسلام صاحب نے مالک زمین سے کہا کہ اب مقرر وقت پورا ہو گیا ہے، اب زمین کی رجسٹرّی करा دو۔ مگر وہ حیلے والی باتیں کرنے لگا۔ اس نے کہا کہ ابھی ہمارا ارادہ رجسٹرّی کرنے کا نہیں ہے۔ اس طرح وہ برابر رجسٹرّی کے معاملہ کو ٹالتا رہا۔ اس کے ذہن میں یہ تھا کہ عبدالسلام صاحب کا چار لاکھ روپے تو میرے پاس موجود ہی ہے۔ زیادہ سے زیادہ وہ عدالت میں میرے خلاف کیس کریں گے۔ میں مقدمات کا ماہر ہوں۔ ان کو عدالت میں دوڑاتا رہوں گا۔ کار وہ مجبور ہو کر میری شرطوں پر صلح کر لیں گے۔
ایک روز عبدالسلام صاحب مسٹر ہزارے کے یہاں پہنچے۔ اس وقت وہاں ان کے سسر مسٹر ساور کر بھی موجود تھے۔ ان کا آر ایس ایس سے گہرا تعلق تھا۔ مسٹر ساور کر نے کچھ دل خراش باتیں آخر میں یہ کہا کہ آپ کیا کر سکتے ہو۔ آپ یہی کرو گے کہ ہمارے خلاف کورٹ میں جاؤ گے ۔ اور اگر آپ نے ایسا کیا تو ہم آپ کی چپلیں گھسوادیں گے۔
عبدالسلام صاحب نے کہا کہ آپ میری چپلیں جب گھسوائو گے جب کہ میں کورٹ میں جاؤں۔
مگر میں کورٹ میں جاؤں گا ہی نہیں۔ پھر آپ کیسے میری چپلیں گھسواؤ گے ۔ مسٹر ساور کرنے کہا کہ پھر آپ کیا کریں گے ۔ عبدالسلام صاحب نے کہا کہ میں خود آپ کو ثالث بناؤں گا۔ ایک طرف آپ کا داماد ہے۔ دوسری طرف آپ کا یہ بھتیجا ہے۔ اب آپ کو جو ٹھیک لگے اس کا فیصلہ کر دو۔ مسٹر ساور کر کی بیوی اندر بیٹھی ہوئی اس گفتگو کو سن رہی تھی۔ اس نے اشارہ سے مسٹر ساور کر کو اندر کچھ باتیں ہوئیں ۔ اس کے بعد مسٹر ساور کر باہر آئے تو وہ بدلے ہوئے تھے۔ اتنے میں مسٹر ساور کر کی بیوی اندر سے چائے لے کر آ گئی۔ مسٹر ساور کر چپ چاپ چائے پیتے رہے۔ اس کے بعد کہا کہ اچھا آپ کل آ جائیے۔ ہم کل ہی آپ کا فیصلہ کرا دیتے ہیں۔ اگلے دن عبدالسلام صاحب وہاں گئے تو مسٹر ساور کر خود اپنی گاڑی پر انھیں لے کر رجسٹرار آفس گئے ۔ وہ اثر و رسوخ والے آدمی چنانچہ انھوں نے کوشش کر کے اسی دن زمین کی رجسٹری کرادی ۔ عبدالسلام صاحب نے صرف طے شدہ رقم ادا کی۔
اس کے بعد مسٹر ساور کر کا یہ حال ہوا کہ جب بھی وہ سڑک پر ملتے تو گاڑی روک کر عبدالسلام صاحب کو حسب قاعدہ دونوں ہاتھ جوڑ کر سلام کرتے اور خیریت پوچھتے۔ ایک روز عبدالسلام صاحب اپنے کسی کام سے ہاؤسنگ فائننس بورڈ کے دفتر میں گئے۔ اتفاق سے وہاں مسٹر ساور کر بھی موجود مسٹر ساور کرنے جب عبدالسلام صاحب کو دیکھا تو بورڈ کے ڈائرکٹر سے ان کا تعارف کراتے ہوئے کہا: میں نے مسلمان تو بہت دیکھے مگر بُڈھے آدمی کا جوان باپ ایک ہی بار دیکھا۔ اور وہ یہ اس نے میرے کو بہت بڑا سبق سکھایا ہے۔ اس نے مجھے بتایا کہ آدمی اگر کسی سے مقدمہ نہ لڑے، تو کورٹ میں اس کی چپلیں بھی گھسنے والی نہیں ہیں۔
مسٹر ساور کر اگر چہ آریس ایسے سے تعلق رکھتے تھے۔ لیکن اس سے پہلے وہ ایک انسان تھے۔ عبدالسلام صاحب نے ان سے جب یہ کہا کہ میں آپ کا بھتیجا ہوں اور یہ آپ کا داماد ہے۔ آپ خود ہی ثالث بن کر دونوں کے درمیان فیصلہ کر دو، تو انھوں نے اپنے اس قول سے مسٹر ساور کر کے ”انسان“ کو جگا دیا یعنی ضمیر کو۔ اور جب کسی کے اندر کا انسان جاگ اٹھے تو وہ ہمیشہ انصاف ہی کا فیصلہ کرتا ہے۔ کسی کے اندر کا انسان ظلم اور بے انصافی کا فیصلہ کرنے پر قادر نہیں۔ (الرسالہ، دسمبر 1993)
قیادت نامہ — ایک تبصرہ از: علقمہ صفدر قاسمی، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی مولاناوحید الدین خاں کی کتاب "قیادت نامہ" میرے لیے ان چند کتابوں میں سے ایک ہے جس نے میرے سوچنے، سمجھنے اور چیزوں کو دیکھنے کا زاو بدل دیا۔ یہ کتاب مسلم قیادت کے موضوع پر بالکل منفرد اور حقیقت پسندانہ زاویے سے لکھی گئی کتاب ہے۔ جہاں ایک طرف اس کے ہر سطر میں حقیقت پسندی نظر آتی ہے، وہیں دوسری جانب مسلمانوں کی سیاست و قیادت کی ناکامی بھی متعین انداز میں واضح ہوتی ہے۔ مولانا وحید الدین خاں مسلمانوں کے مسائل کی نہ صرف درست تشخیص کرتے ہیں، بلکہ غلط تشخیص کی بنیاد پر مسلم رہنماؤں اور قائدین نے جو غلط تدبیریں اختیار کیں، ان کی حقیقت بھی نہایت خیر خواہانہ انداز میں واضح کرتے ہیں۔ تعمیر و ترقی کے نام پر گزشتہ ایک صدی سے ملت کو جو نقصانات پہنچتے رہے ہیں، مولانا نے ان سب کی کھلے اور بے لاگ انداز میں نشان دہی کی ہے۔ جیسا کہ کتاب کا نام "قیادت نامہ" سے ہی ظاہر ہے کہ یہ زیر نظر کتاب کن مباحث وموضوعات پر مشتمل ہے اور یہ خصوصاً کن حضرات کے لیے لکھی گئی ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ کسی بھی قوم کے ارتقا و تنزلی میں دو قیادتیں ہمیشہ بنیادی کردار ادا کرتی ہیں، ایک مذہبی قیادت اور دوسری سیاسی قیادت۔ مگر افسوس کہ مسلمانوں کی مذہبی اور سیاسی دونوں قیادتیں اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں ناکام ثابت ہوئی ہیں۔ دونوں ایک ہی کمزوری میں مبتلا ہیں — اور وہ ہے جذباتی رد عمل کا طریقہ ۔ دونوں قیادتیں جس طرح کے رد عمل میں مبتلا ہیں اس کے ہولناک نتائج ہم اپنی آنکھوں سے روز بروز دیکھ رہے ہیں۔ ہماری مذہبی قیادت زمانی بصیرت سے بے خبری کی بنا پر، جہاں مغرب اور مغربی فکر کے مقابلے میں جذباتی رد عمل کا شکار ہو کر بہت سی مفید اور ضروری چیزوں کو ترک کیے ہوئے ہے۔ کے نتیجہ میں ہم ترقی کی دوڑ میں پچھڑتے جا رہے ہیں۔ وہیں ہماری سیاسی قیادت بھی پلورل سوسائٹی میں ایسا طریقہ اختیار کرتی ہے، جس سے سیکولر سوچ رکھنے والے برادران وطن ہم سے دل برداشتہ ہو جاتے اس کی ایک مثال وہ ہے جو مولانا صاحب نے اپنی ڈائری میں ان الفاظ میں نقل کیا ہے، "ایک
صاحب نے کہا کہ آپ موجودہ مسلم لیڈروں کے خلاف لکھتے رہتے ہیں۔ حالاں کہ انھوں نے بھی ایک کام کیا ہے۔ انھوں نے مسلمانوں کو جگایا ہے۔ میں نے کہا کہ میں آپ کی بات میں ایک لفظ کی ترمیم کروں گا۔ ان مسلم لیڈروں نے مسلمانوں کو جگایا نہیں ہے، انھوں نے مسلمانوں کو بھڑکایا ہے۔ عجیب معاملہ ہے کہ یہی بات ہندو حلقہ میں بھی کہی جاتی ہے۔ ہندو دانشور یہ کہہ رہے ہیں کہ ہندوسویا ہوا تھا، ان کے انتہا پسند لیڈروں کا یہ کارنامہ ہے کہ انھوں نے ہندوؤں کو جگا دیا۔ بھی وہی بات ہے ان انتہا پسند لیڈروں نے ہندو قوم کو جگایا نہیں ہے، انھوں نے ہندو قوم کو بھڑکُا جس دیش کا یہ حال ہو کہ وہاں کے لوگ جگانے اور بھڑکانے کا فرق نہ سمجھتے ہوں وہ دیش ترقی کس طرح کرے گا، اس سوال کا جواب مجھے نہیں معلوم“۔
یہ چند جملے گویا پوری کتاب کی روح کا خلاصہ ہیں۔ قیادت کے لیے جو بنیادی اوصاف ضروری ہوتے ہیں دور اندیشی، تحمل، حقیقت پسندی، اور قوم کو جگانے اور بھڑکانے کے فرق کی سمجھ۔ بالعموم ان سے ناواقف ہوتے ہیں۔
اس کتاب میں مولانا نے ایک ایسا واقعہ بھی نقل کیا ہے جس سے اندازہ ہوگا کہ مسلمانوں کو ہندوستان میں پرسکون اور آرام دہ زندگی گزارنے کے لیے کس طرح کے رویے کی ضرورت ہے۔ واقعہ اگرچہ پرانی صورت حال سے متعلق ہے، مگر یہ بعید نہیں کہ ہندوستانی مسلمان آج بھی اس طریقے کو اپنا کر بہت حد تک اپنے اور اپنے معاشرے کے لیے ایک نارمل ماحول تخلیق کر سکتا ہے۔ کے اس فطری قانون کی طرف ایک حدیث رسول میں ان الفاظ میں اشارہ کیا گیا ہے: اِنَّ الرِّفْقَ لَا يَکُوْنُ فِيْ شَيْءٍ اِلَّا زَانَهُ، وَلَا يُنْزَعُ مِنْ شَيْءٍ اِلَّا شَانَهُ (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2594)۔ جس چیز میں بھی داخل ہوتی ہے، اس کو خوبصورتی عطا کرتی ہے، اور جہاں سے وہ نکل جاتی وہ چیز عیب دار ہو جاتی ہے۔ یہ بات بالکل ممکن ہے کہ اس رویے کو اپنانے کی صورت میں اچانک صورت حال تبدیل نہ ہو، ہاں یہ بالکل ممکن ہے کہ دھیرے دھیرے ماحول بدلے۔ مولانا لکھتے ہیں کہ عرب کے ایک سفر میں میری ملاقات ایک ہندوستانی مسلمان سے ہوئی، پہلے وہ ہندوستان میں مسلمانوں کے درمیان لیڈری کرتے تھے۔ اس کے بعد انہیں عرب میں ایک اچھا کام مل گیا، اور وہ وہاں منتقل ہو گئے۔ آج کل وہ عرب میں خوشحال زندگی گزار رہے ہیں۔
دوران انہوں نے کہا کہ ہندوستان کیسا وحشی ملک ہے، وہاں آئے دن فسادات ہوتے رہتے ہیں جس سے مسلمانوں کی جان و مال محفوظ نہیں۔ آپ دیکھیے ہم لوگ یہاں کتنے سکون کے ساتھ زندگی گزار رہے میں نے کہا کہ یہ ادھوری بات ہے، یہاں کا نظام آپ کو جو کچھ دے رہا ہے اس کا آپ نے ذکر کیا مگر آپ خود یہاں کے نظام کو جو کچھ دے رہے ہیں، اس کا ذکر کرنا آپ بھول گئے۔ میں نے کہا کہ آپ جس ڈھنگ سے عرب میں رہتے ہیں، اگر ہندوستان کے مسلمان ایسے ڈھنگ سے ہندوستان میں رہیں تو وہ ہندوستان میں بھی اسی طرح با عزت طور پر رہ سکتے ہیں، جس طرح آپ عرب میں رہ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ کیسے؟ میں نے کہا کہ عرب میں آپ کے پرسکون طور پر رہنے کا راز صرف ایک ہے اور وہ یہاں کے نظام کے ساتھ کامل موافقَت (ایڈ جسٹمنٹ) ہے۔ ہندوستان کے مسلمان اپنے ملک کے نظام سے اسی طرح موافقَت اور ہم آہنگی کے ساتھ رہیں تو ایک دن میں سارا جھگڑا ختم ہو جائے۔ میں نے کہا کہ ساری عرب دنیا میں وطنی کے مقابلے میں خارجی کو نمبر دو کا شہری سمجھا جاتا ہے، مگر آپ اس کو برداشت کرتے ہیں۔ یہاں ایک ہندوستانی کے مقابلے میں ایک امریکی کو کئی گنا زیادہ تنخواہ ملتی ہے مگر آپ اس امتیاز کو گوارا کیے ہوئے ہیں۔ یہاں آپ کو یہ اجازت نہیں کہ مسجد میں یا مسجد کے باہر لاؤڈ اسپیکر لگا کر تقریر کریں، یہاں آپ نہ کوئی آزاد اخبار نکال سکتے ہیں اور نہ کوئی آزاد رسالہ چھاپ سکتے ہیں۔ مگر اس کے خلاف آپ جیل بھرنے کی مہم نہیں چلاتے، یہاں واضح طور پر بہت سے غیر شرعی امور پر عمل ہورہا ہے، مگر ان کے بارے میں آپ بالکل خاموش ہیں، آپ حضرات اس قسم کی چیزوں کے خلاف کوئی احتجاج نہیں کرتے اور نہ مسائل پر کوئی جلوس نکالتے ہیں۔ میں نے کہا کہ عرب میں آپ کو جو پرسکون زندگی حاصل ہے اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ یہاں کے نظام سے ہم آہنگی اختیار کر کے آپ نے اس کی ضروری قیمت ادا کر دی ہے، اگر ہندوستان کے مسلمان یہ قیمت ادا کرنے پر راضی ہو جائیں تو وہاں بھی وہ عزت اور کامیابی کے ساتھ زندگی گزار سکتے ہیں۔ مسلمانوں میں سے جو لوگ عرب ملکوں میں جاتے ہیں، حتی کہ ان کے اکابر جو کانفرنسوں میں شرکت کرنے کے لیے عرب کا سفر کرتے رہتے ہیں، ان کی زندگیوں میں عام ہندوستانی مسلمانوں کے لیے زبردست سبق ہے کہ مسلمان عرب میں جا کر جس طرح وہاں کے
نظام سے موافقت کر کے رہتے ہیں، اسی طرح ہندوستانی مسلمان بھی ہندوستان کو اپنا ملک سمجھے اور یہاں کے حالات سے موافقت کر کے زندگی گزارے۔ اس کے بعد، ان شاء اللہ، ان کے لیے یہاں کسی قسم کا کوئی مسئلہ نہ ہوگا۔
یہ صورت حال صرف عرب ممالک ہی کی نہیں ہے۔ بلکہ یورپ و امریکہ اور دیگر ممالک کی بھی ہے، جہاں ہر جگہ مسلمان کامل موافقت کے ساتھ رہتے ہیں کہیں بھی کوئی قائد ملت حکومت کے خلاف شور و ہنگامہ نہیں کرتا۔ اگرچہ وہاں بھی دسیوں مقامات پر شریعت کے علاوہ دوسرے قوانین نافذ العمل مگر وہاں کوئی نفاذ شریعت یا تحفظ شریعت کا جلسہ جلوس نہیں ہوتا، اور یہی اس بات کی قیمت ہے جو وہاں پر سارے لوگ امن وسکون کے ساتھ رہتے ہیں۔
اسی لیے ’’قیادت نامہ‘‘ محض ایک کتاب نہیں، یہ ایک آئینہ ہے جس میں مولانا وحید الدین خاں صاحب نے مسلمانوں کی قیادت کا وہ چہرہ دکھایا ہے، جسے دیکھنا تکلیف دہ تو ہے مگر جس سے آنکھیں چرانا مزید تباہ کن ہے۔ جو قوم اپنی کمزوریوں کا سامنا کرنے کے بجائے ان پر پردہ ڈالتی رہے، جو قیادت اپنی قوم کو جگانے کے بجائے بھڑکاتی رہے، اور جو سماج ردعمل کو حکمتِ عملی سمجھتا رہے اس کا انجام تاریخ کے ہر دور میں یکساں رہا ہے۔
مولانا کا پیغام نہ مایوسی کا ہے، نہ مصلحت کوشی کا۔ بلکہ یہ ایک باشعور، پر حکمت، حقیقت پسند اور دور اندیش قوم بننے کی طرف دعوت ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ مسلمان اپنے آپ کو شکایتوں کی زنجیروں سے آزاد کریں، اپنی صلاحیتوں پر بھروسا کریں، اور اپنے ماحول سے ٹکراؤ کے بجائے تعمیری ہم آہنگی کا راستہ یہ راستہ آسان نہیں، مگر یہی وہ راستہ ہے جو تاریخ میں کامیاب اقوام نے اختیار کیا ہے۔ یہ کتاب ہر اس شخص کو ضرور پڑھنی چاہیے جو مسلمانوں کی موجودہ صورت حال پر سنجیدگی سے سوچتا ہو، خواہ وہ قائد ہو یا عام فرد۔ یہ کتاب بتاتی ہے کہ تبدیلی ہمیشہ اوپر یا باہر سے نہیں، بلکہ اندر سے آتی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’قیادت نامہ‘‘ کا مطالعہ کرنے کے لیے اس QR کوڈ کو اسکین کریں ☞
आफस के लिए निकल रह थ, तभी दो लागा न उन पर बंदूक से हमला कर दिया। टूडी निराशा में कहती रहीं:
लेकिन गोलियों की बौछार ने कुछ ही मिनटों में दोनों की जान ले ली। मिकी ने 1960 में 400 मील प्रति घंटे की रफ्तार से कार चलाकर अमेरिका का पहला तेज़ रफ्तार चालक होने का खिताब जीता था। यह यात्रा उन्होंने एक विशेष कार के जरिए की थी, जिसमें चार इंजन लगे थे। साप्ताहिक "टाइम" (28 मार्च 1988) ने इस घटना पर टिप्पणी करते हुए
"The disregard for danger that marked Thompson's driving career may have led to his death in his own
(खतरे की परवाह न करना, जिसने मिकी थॉम्पसन को तेज़ रफ्तार का राजा बनाया, वही उनके लिए मौत का कारण बन गया।) बहादुरी और निडरता अच्छी चीजें हैं। लेकिन इंसान आखिरकार कमज़ोर है; वह असीमित बहादुरी या निडरता का बोझ नहीं उठा सकता। इसलिए बहादुरी और निडरता के साथ यह भी ज़रूरी है कि इंसान सावधान रहे। उसे बुद्धिमानी और विवेक का ख्याल रखना चाहिए।
वाले लोग भी मौजूद हैं। जहाँ रुकावट खड़ी होती है, वहाँ संभावनाओं के दरवाजे भी हर ओर खुले रहते हैं। जो इंसान विरोधों या रुकावटों में उलझकर रह जाता है, वह अपने सफर को पूरा नहीं कर पाता। इसके विपरीत, जो व्यक्ति रुकावटों का सामना करते हुए अपनी सोच को समाधान खोजने की तरफ़ लगा देता है, वह ज़रूर आगे बढ़ने का रास्ता पा लेता है। उसे कोई ताकत उसकी मंज़िल तक पहुंचने से रोक नहीं सकती। जोश बिना होश मिकी थॉम्पसन (Mickey Thompson, b. 1928) अमेरिका में पैदा हुआ। उसने कार रेसिंग में अंतरराष्ट्रीय शोहरत हासिल की, यहां तक कि उसे "स्पीड किंग" कहा जाने लगा। लेकिन मार्च 1988 में उसकी गोली मारकर हत्या कर दी गई। उस समय उसकी उम्र 59 वर्ष थी। मिकी थॉम्पसन बेहद साहसी व्यक्ति थे। नवंबर 1987 में उन्होंने अपने दोस्तों को लॉस एंजेलेस में बताया कि कुछ लोग उन्हें फोन पर जान से मारने की धमकी दे रहे हैं। उनके दोस्त एर्नी अल्वाराडो (Ernie Alvarado) ने बताया कि मिकी को पता था कि कौन उन्हें मारना चाहता है। दोस्त ने पूछा: "क्या तुमने इसकी सूचना पुलिस को दी है?"
मिकी ने जवाब दिया: "इसकी कोई ज़रूरत नहीं।"
उसका पूरा क्षमता मांगता हो वही शख़्स बड़ी कामयाबी हासिल करता है जो अपनी पूरी क्षमता को एक काम में लगा दे। एक विचारक का प्रसिद्ध कथन है:
"The only thing we have to fear is fear itself."
(हमारे लिए डरने की एकमात्र चीज़ स्वयं डर ही है।)
ज़िंदगी में ऐसे क्षण आते हैं, जो देखने में ख़तरनाक लगते हैं। इन्हें देखकर इंसान डर जाता है। लेकिन जीवन जीने का सही तरीका यह है कि इंसान खतरे को खतरा न समझे, बल्कि इसे केवल एक "समस्या" के रूप में माने। समस्या मानने से दिमाग़ उसका हल खोजने में लग जाता है। इसके विपरीत, जब समस्या को खतरा समझ लिया जाता है, तो डर की मानसिकता पैदा हो जाती है। इंसान निराश होकर बैठ जाता है और जो कुछ वह कर सकता था, वह भी उसके लिए मुश्किल हो जाता है। जो व्यक्ति जीवन के संघर्ष के मैदान में उतरता है, उसे सबसे पहले यह जानना चाहिए कि वह अकेला नहीं है। यहाँ उसकी तरह कई और लोग भी हैं, जो अपने हौसले के मुताबिक जीवन के संघर्ष में लगे हुए हैं। उसके साथ प्रकृति का एक व्यापक सिस्टम भी है। इस सिस्टम में सर्दी भी है और गर्मी भी, सूखा भी है और पानी भी, मैदान भी हैं और पहाड़ भी, फूल भी हैं और
पशानगाई (भविष्यवाणी) का जो बाद में ज़्यादा तहक़ीक़ात से साबित हो गया। गार्जियन (4 नवम्बर 1984) ने पाल डिरॅक पर लेख छापा तो उसकी सुर्खी इस Prophet of the Anti-Universe. पाल डिरॅक ने एटम में पहला एंटी पार्टिकल खोजा, जिसे पाज़िट्रान (Positron) कहा जाता है। 'इस खोज ने न्यूक्लियर फ़िज़िक्स में एक इंक़िलाब बरपा कर दिया। लोग जब पाल डिरॅक से पूछते कि आपने सब-एटॉमिक की नौइयत (प्रकृति) और विशेषताओं के बारे में अपना चौंका देने वाला नज़रिया कैसे खोज निकाला तो वह बताते कि वह अपने स्टडी रूम में इस तरह फ़र्श पर लेट जाते थे कि उनका पाँव ऊपर रहता था ताकि ख़ून उनके दिमाग़ की When people asked him how he got his startling ideas about the nature of sub-atomic matter, he would patiently explain that he did so lying on the floor of his study with his feet up so that the blood rushed to his देखने में यह एक लतीफ़ा लगता है। लेकिन हक़ीक़त यह है कि कोई बड़ा फ़िक्री और बौद्धिक काम वही शख़्स कर पाता है जो अपने सारे जिस्म का ख़ून अपने दिमाग़ में समेट दे।
प्रर्दशन क्षमता का बेहतर बनाने में बाधा डालता है। मर कोच आर मैं दोनों जानते हैं कि मुझमें छुपी हुई क्षमताएं हैं, जिन्हें हमें उपयोगी
रॉबर्ट एम्मियन ने खेल में सफलता का जो राज़ बताया, वही ज़िंदगी में सफलता का भी राज़ है। जीवन के संघर्ष में जब कोई व्यक्ति असफल होता है, तो वह अपनी ही कमज़ोरियों के कारण असफल होता है। अपनी आंतरिक कमज़ोरियों को पहचानना और उन्हें दूर करके बेहतर तैयारी के साथ आगे बढ़ना ही सफलता का मूल मंत्र है। इस दुनिया में जो भी व्यक्ति सफल होता है, वह इस शर्त को पूरा करके ही सफल होता है। और जो असफल होता है, वह इसलिए असफल होता है कि वह इस शर्त को पूरा नहीं कर सका। असफल वह है, जो अपनी पूरी क्षमताओं का इस्तेमाल करने में नाकाम रहे, और सफल वह है, जो अपनी पूरी क्षमताओं का इस्तेमाल करने में सफल हो जाए। शरीर का सारा खून प्रोफ़ेसर पाल डिरेक (Paul Dirac) 1902 में पैदा हुए। अक्तूबर 1984 में उनकी 82 साल की उम्र में फ्लोरिडा में मृत्यु हुई। वह आधुनिक दौर में न्यूटन (Newton) और आйнस्टाइन (Einstein) के बाद सबसे ज़्यादा मुमताज़ और
लिए संभव नही। इंसान का यह अधिकार है कि वह नातकता के नियमा को न माने, लेकिन नैतिकता की अहमियत को इस दुनिया से खत्म करना उसके बस में नहीं। इंसान को यह अधिकार है कि वह जो चाहे करे, लेकिन उसे यह अधिकार नहीं है कि अपनी किसी चाहत को उस आदर्श सिद्धांत की हैसियत दे दे, जिसके आधार पर आखिरकार सभी इंसानों का फैसला किया जाएगा। इंसान इस दुनिया में आज़ाद है, लेकिन उसकी आज़ादी सीमित है, न कि