Al-Risala · January 2026

امانی اور فکری زوال

Al-Risala, January 2026, pp. 27–29

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن میں اہل کتاب قوموں کی زوال یافتہ روش کا تفصیل سے ذکر آیا ہے۔ ان میں سے ایک رویہ وہ ہے جس کو انسانی زبان میں خوش خیالی کہا جاتا ہے۔ مثلاً یہ کہ ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے محبوب ہیں (المائدۃ، 5:18)۔ یہودی اور نصرانی پیدا ہونا ہی ہدایت یاب ہونا ہے (البقرۃ، 2:135)۔ کوئی آدمی جہنم میں نہ جائے گا۔ اور اگر گیا بھی تو اس کا جانا صرف چند روز کے لیے ہوگا (البقرۃ، قرآن نے ان کی ان خوش خیالیوں کو "امانی" (البقرۃ، 2:111) کہا ہے۔ ارشاد ہوا کہ اس قسم کے امانی خواہ یہود قائم کریں یا مسلمان قائم کریں، خدا کے نزدیک ان کی کوئی حیثیت نہیں۔ ابدی قانون تو یہ ہے کہ جو شخص جیسا کرے، اس کے مطابق اس کو بدلہ دیا جائے (النساء، 4:123)۔ امانی کے معنی ہیں بے بنیاد توقعات۔ عبداللہ بن عباس، مجاہد اور فراء نے کہا ہے کہ اس سے مراد وہ موضوع روایات اور بے سند قصے ہیں جو یہودی علما و مشائخ نے وضع کیے اور پھر وہ پوری قوم میں رائج قوم یہود کے انتہائی مبالغہ آمیز فضائل، یہودیت سے تعلق رکھنے والی معمولی معمولی چیزوں کے مقدس اور متبرک ہونے کی طلسماتی داستانیں کثرت سے ان کے درمیان پھیلی ہوئی تھیں۔ پوری قوم حقیقی عمل سے غافل تھی اور انہیں موضوع روایات اور بناوٹی قصے کہانیوں پر جی رہی تھی۔ ٹھیک یہی حال آج مسلمانوں کا ہو رہا ہے۔ کتاب اللہ کے بجائے عملاً "کتاب الامانی" ان کے دین کا ماخذ بنی ہوئی ہے۔ فضائل اعمال کی بے اصل روایات اور بزرگوں کے کشف و کرامت کی فرضی داستانیں بے شمار تعداد میں قوم کے اندر پھیلادی گئی ہیں اور مسلم عوام کی کثیر تعداد انہیں خوش خیالیوں کے سہارے جی رہی ہے۔

موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے درمیان بہت سی اصلاحی تحریکیں اٹھیں، مگر وہ سب کی سب اپنے نشانے کو حاصل کرنے میں ناکام رہیں۔ اس ناکامی کا سبب یہ ہے کہ موجودہ زمانے کے مسلم رہنماؤں نے اس مفروضے کے ساتھ اپنا کام شروع کیا کہ یہاں ایک "خیر امت" موجود ہے اور

اس کو زندہ کرنے کے لیے صرف یہ کرنا ہے کہ اس کے اندر جوش و ولولہ پیدا کر دیا جائے۔ اقبال کا یہ شعر اسی ذہن کی نمائندگی کرتا ہے:

نوارا تلخ تر می زن چو ذوق نغمہ کم یابی خدی را تیز تر می خواں چو محمل را گراں بینی یعنی، اگر جذبہ اور شوق کم پڑ جائے تو اپنی آواز میں شدت پیدا کر، اور جب سفر بوجھ لگنے لگے تو حوصلہ بڑھانے والے ترانے کو بلند آواز میں گا۔

مگر امت کی احیا کا یہ صحیح طریقہ نوہیں۔ امت کی احیا کا مطلب یہ ہے کہ امت کے افراد کو صحیح اور مثبت راستے پر ڈالا جائے ان کو "امانی" سے باہر نکالا جائے۔ قانون فطرت کے مطابق اس دنیا میں کوئی بھی تعمیری مشن غوغائی سیاست سے شروع نہیں ہوتا۔ تعمیری مشن ہمیشہ افراد سازی سے شروع احیائے امت کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلے اس بات کو تسلیم کیا جائے کہ موجودہ زمانے کے مسلمان خیر امت کی سطح پر نہیں ہیں، بلکہ وہ ایک زوال یافتہ امت (degenerated رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کے یہود و نصاریٰ کون تھے۔ وہ دراصل دورِ قدیم کی زوال یافتہ امت تھے۔ قرآن میں ان کی جو حالت بیان کی گئی ہے، وہ امت مسلمہ کے موجودہ دورِ زوال کے لیے ایک آئینہ ہے۔ یعنی امت مسلمہ کو اپنی اصلاح کے لیے وہی طریقہ اختیار کرنا چاہیے، جو قرآن میں اہل کتاب کی اصلاح کے لیے بیان کیے گئے ہیں۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ بعد کے مسلم رہنماؤں کے لیے کرنے کا کام یہ نہیں ہے کہ وہ امت کے افراد کو خیر امت فرض کر کے کام کا آغاز کریں، بلکہ وہ اصلاح سے پہلے اس حقیقت کو تسلیم کریں کہ یہ امت زوال کے اُس مرحلے میں پہنچ چکی ہے جہاں یہود و نصاریٰ پہنچے تھے۔ اس بنا پر اُن کی اصلاح کے لیے عملاً ہی طریقہ کارآمد ہو سکتا ہے جو قرآن میں یہود و نصاریٰ کی اصلاح کے لیے بیان کیے گئے اور ان تمام باتوں کا خلاصہ سورۃ الحدید (17-16 :57) میں اس طرح بتایا گیا ہے کہ پہلے افرادِ امت کے شعور کو بیدار کرنا اور اس کے بعد اس کی عملی اصلاح کرنا۔

ایک مسلم نوجوان اگست 2008 میں کشمیر گئے۔ وہاں وہ تین ہفتہ رہے۔ ان کی عادت ہے کہ وہ روزانہ اپنی ڈائری لکھتے ہیں۔ وہ کشمیر سے واپس آئے تو انھوں نے مجھ کو اپنی ڈائری دکھائی۔ اس ڈائری کا ایک اندراج یہ تھا:

”4 اگست 2008 کی ایک رات کو میرا قیام ادارہ ”اپنا گھر“ میں تھا۔ وہاں ادارے کے ایک طالب علم جاوید احمد (19 سال) بھی موجود تھے۔ صبح کو میں بیدار ہوا تو جاوید احمد نے ماہ نامہ الرسالہ سے متعلق اپنا ایک خواب بیان کیا، جو انھیں کے الفاظ میں اس طرح تھا: ”میں نے دیکھا کہ ایک بوڑھا شخص ہے۔ اس کے چہرے پر ہلکی ہلکی سفید داڑھی ہے۔ وہ اُن پڑھ ہے۔ وہ چیخ چیخ کر کہہ رہا ہے— مجھے الرسالہ کا ممبر بناؤ، مجھے الرسالہ کا ممبر بناؤ۔ اس خواب میں مذکورہ بوڑھا آدمی گویا کہ کشمیر کی روح ہے۔ کشمیر کی روح چیخ چیخ کر کہہ رہی ہے کہ جو منفی افکار میرے درمیان پھیلائے جارہے ہیں، اُن سے میں بے زار ہوں، اُن کو بند کرو۔ میرے درمیان الرسالہ کو پھیلاؤ، میرے درمیان الرسالہ والے مثبت افکار کو عام کرو۔ کشمیر میں اکتوبر 1989 میں متشددانہ جہاد کا آغاز ہوا۔ یہ سلسلہ مختلف صورتوں میں، تادم تحریر (مارچ 2012) جاری ہے۔ اس نام نہاد جہاد کے دوران کشمیر میں جان و مال کا بے حساب نقصان ہوا ہے۔ اس خود ساختہ جہاد نے اہل کشمیر کو تباہی کے سوا اور کچھ نہیں دیا۔ اب کشمیر کی سلامتی کی صرف ایک صورت ہے، اور وہ یہ ہے کہ کشمیر میں اُن افکار کو زیادہ سے زیادہ پھیلایا جائے جس کا پیغام ماہ نامہ الرسالہ میں مسلسل طور پر دیا جارہا ہے۔ اسی میں اہل کشمیر کے لیے زندگی ہے۔ اس کے سوا جو کچھ ہے، وہ موت اور تباہی کے سوا کچھ اور نہیں۔ نام نہاد کشمیری تحریک سے کچھ لیڈروں کو فائدہ ہوسکتا ہے، لیکن خود کشمیر یا کشمیری عوام کا اس میں کچھ فائدہ نہیں— اب آخری وقت آگیا ہے کہ اس معاملے میں نظرثانی کی جائے اور جذباتیت کو چھوڑ کر حقیقت پسندی

Printed page