Al-Risala · January 2026

انسان، اعلیٰ انسان

Al-Risala, January 2026, pp. 31–32

By Maulana Wahiduddin Khan

مسٹر منوہر پاریکر گوا کے چیف منسٹر تھے۔ ان کی پیدائش 31 دسمبر 1955 کو گوا میں ہوئی، اور 17 مارچ 2019 کو چیف منسٹر رہتے ہوئے کینسر سے ان کی وفات ہو گئی۔ وہ چار بار گوا کے چیف منسٹر رہے، اور ایک مرتبہ مرکزی وزیر برائے ڈیفنس بھی رہے۔ وہ انڈیا کے ایک مقبول سیاست ان کی وفات پر آئی آئی ٹی ممبئی کے ایکٹنگ ڈائریکٹر پروفیسر اے کے سریش نے کہا کہ ان کے جیسا آدمی ملین میں ایک ہوتا ہے:

On Monday evening, a day after the former chief minister's demise, IIT-Bombay held a condolence event in his honour. The acting director, Professor AK Suresh, described the loss as not only a "void in the political arena, but also one in humanity". "People like him are one in a million, and the values that IIT aims to instill within its students are those that he imbibed within himself, and in doing so he has made IIT proud." said Suresh. (The Times of India, New Delhi, Mar 19, 2019, p. 11)

وہ با اخلاق اور امانت دار (honest) آدمی تھے۔ سیاست میں رہتے ہوئے انھوں نے بہت سے اچھے کام کیے۔ ان کے بارے میں بہت سے واقعات بیان کیے جاتے ہیں، جو ان کی ایمانداری اور ذمہ داری کے ثبوت ہیں، اور جس سے ان کی شخصیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ مثلاً ایک مرتبہ ایک ناکہ بندی پر دیر رات کو پولیس والے نے ایک گاڑی کو روکا، اور پوچھا کہ اتنی رات کو کیا کر رہے ہو۔ یہ کار والے آدمی گوا کے سی ایم مسٹر پاریکر تھے، جو بغیر ریڈ بتی کی گاڑی میں سیکورٹی کے بغیر سامنے والی سیٹ پر بیٹھ کر جا رہے تھے، جس وجہ سے پولیس والا ان کو پہچان نہیں پایا۔ ایک مرتبہ کا واقعہ ہے، وہ پنجی (Panji) کے ایک فائیو اسٹار ہوٹل میں سادہ انداز میں گئے۔ وہاں پر موجود سیکورٹی گارڈ ان کو پہچان نہیں پایا، اور روٹین کے مطابق ان کو عام آدمی کی طرح جانچ کے مراحل سے گزار کر اندر داخل ہونے دیا۔ انھوں نے بغیر کسی پس و پیش کے رول کو فالو کیا۔

میں جب واچ مین کو حقیقت معلوم ہوئی تو اس کو لگا کہ اب اس کی نوکری چلی جائے گی، مگر مسٹر پاریکر نے اس کی ہمت افزائی کی، اور کہا کہ ایسا کچھ نہیں ہوگا۔

ایک مراٹھی نیوز ویب سائٹ PuneriSpeaks نے 17 مارچ 2019 کو ان کو یاد کرتے ہوئے حسب ذیل باتیں لکھی ہیں :

مسٹر منوہر پاریکر ہمیشہ اپنے اسکوٹر پر وزارتِ اعلیٰ کی آفس جاتے تھے۔ ایک سادہ زندگی گزارنے والے منوہر پاریکر کی یہی پہچان تھی۔ اپنی اسکوٹر پر ہیلمٹ پہن کر وہ پنچی میں چکر لگاتے ہوئے وزارت پہنچا کرتے تھے۔ باقی وزرائے اعلیٰ کی طرح کبھی ان میں دکھاوا نہیں تھا۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ منوہر پاریکر کو سادہ طرزِ زندگی پسند تھا۔ اسی لیے وہ مشہور بھی تھے۔ اچانک کسی عام ہوٹل میں کھانا کھانے چلے جانا، عام لوگوں کی طرح اسکوٹر پر گھومنا ان کے لیے معمول تھا۔ ایک مرتبہ کا واقعہ ہے، منوہر پاریکر ہمیشہ کی طرح صبح صبح اپنی اسکوٹر پر جارہے تھے۔ راستہ میں ٹریفک کی بھیڑ کم تھی۔ ایک ٹریفک سگنل پر ان کے پیچھے ایک لڑکا انتہائی تیزی سے آڈی کار چلاتا ہوا آیا، اس کو یہ لگا کہ منوہر پاریکر سگنل پر نہیں رکیں گے، مگر نظم و ضبط کے پابند پاریکر سگنل پر رک گئے۔ اچانک رکی اسکوٹر کی وجہ سے آڈی ڈرائیور زور سے بریک لگاتے ہوئے بڑی مشکل سے گاڑی روکی، اور انتہائی غصے کے ساتھ منوہر پاریکر سے بولا: کہاں بیچ راستے میں رک گیا ہے، ایک طرف ہو جا، تجھے معلوم نہیں میں کون ہوں، میرا باپ DSP ہے۔ مگر پرسکون اور سادہ مزاج منوہر پاریکر نے اپنا ہیلمٹ اتارتے ہوئے اس لڑکے سے کہا: تو پھر اپنے باپ سے جا کر کہنا کہ تجھے وزیر اعلیٰ ملے تھے۔ اور سنو، گاڑی آہستہ چلایا کرو۔ مشورہ دیتے ہوئے انہوں نے نرمی سے جواب دیا۔ حالانکہ وہ خود وزیر اعلیٰ تھے، وہ اگر چاہتے تو جواب میں شدت کا طریقہ اختیار کر سکتے تھے۔ مگر انھوں نے نرم انداز میں اس لڑکے کو سمجھایا۔ ایسی ہی چھوٹی چھوٹی باتیں انسان کو اعلیٰ انسان بناتی ہیں۔ مسٹر پاریکر کی زندگی یہ سبق دیتی ہے کہ آدمی اگر چاہے تو اس کے لیے ہر جگہ اچھا انسان بننے کا موقع موجود ہے۔ شرط صرف یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو مکمل طور پر کبر کی نفسیات سے بچائے۔ (ڈاکٹر فریدہ خانم)

Printed page