Al-Risala · January 2026

زندگی کی تلخیاں

Al-Risala, January 2026, pp. 48–54

By Maulana Wahiduddin Khan

آپ کسی آدمی سے ملیے۔ تھوڑی دیر کی بات چیت کے بعد آپ پائیں گے کہ اس کے پاس ایک تلخ یاد ہے، اور اس کی بنا پر وہ یہ سمجھتا ہے کہ میں ایک بدقسمت انسان ہوں۔ بظاہر وہ اپنی باتوں سے یہ تاثر دیتا ہے کہ دوسرے لوگ خوش قسمت ہیں۔ یہ صرف میں ہوں، جو بدقسمتی کے حالات میں جی مگر یہ ایک بے خبری کی بات ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر انسان کے لیے زندگی تلخیوں کے تجربات کا نام ہے۔ کسی کے لیے ایک قسم کا تلخ تجربہ، اور کسی کے لیے دوسرے قسم کا تلخ تجربہ۔ دنیا میں کوئی بھی شخص تلخ تجربے سے بچا ہوا نہیں۔

مگر ہوتا یہ ہے کہ کوئی عورت یا مرد جس تلخ تجربے سے وہ خود گزر رہا ہو، اس کو وہ ذاتی طور پر محسوس کرتا ہے، جب کہ دوسرے انسان کا تلخ تجربہ اس کے لیے صرف ایک دور کی سنی سنائی خبر ہوتی اپنا تلخ تجربہ اس کے لیے خود اس کے اپنے سینے کا درد ہوتا ہے، جب کہ دوسرے کا تلخ تجربہ اس کے لیے اپنا درد نہیں ہوتا۔ اس بنا پر وہ شعوری یا غیر شعوری طور پر یہ سمجھ لیتا ہے کہ میں تو تلخ تجربے کو بھگت رہا ہوں، جب کہ دوسرے لوگ اس سے بچے ہوئے ہیں۔ یہ فرق صرف سوچ کا فرق ہوتا ہے، نہ کہ حقیقت کا فرق۔ یہ فرق اس لیے ہوتا ہے کہ آدمی ایک حقیقت سے باخبر ہوتا ہے، اور دوسری حقیقت سے وہ بے خبری کا شکار ہوتا ہے۔

یہ ظاہر اتنا زیادہ عام ہے کہ شاید اس سے کوئی بھی مرد یا عورت بچا ہوا نہیں۔ خوشی دراصل اسی کا نام ہے کہ آدمی اس بے خبری سے باہر آئے۔ وہ غور وفکر کے ذریعے اس حقیقت کو جان لے کہ زندگی کی تلخیاں زندگی کا لازمی حصہ ہیں۔ زندگی ایک تلخ تجربہ ہے۔ تلخی کے احساس سے صرف وہ شخص خالی ہو سکتا ہے، جو موت کا شکار ہو کر عملاً اس دنیا سے رخصت ہو جائے۔ اپنی بے خبری کو توڑیے، اور پھر ایسا نہیں ہوگا کہ آپ اس غلط فہمی کے شکار ہوں کہ آپ ایک بد نصیب انسان ہیں، اور دوسرے تمام لوگ خوش نصیب انسان۔

جناب امجد احمد را ئچور (ٹرین منیجر، ساؤتھ انڈ یار یلوے) کی سب سے چھوٹی بیٹی مس نشرہ بتول کی شادی کی تقریب 18 اکتوبر 2025 کو گرین پیلس فنکشن ہال، رائچور میں منعقد ہوئی۔ اس موقع پرسی پی ایس رائچور کی جانب سے ایک قرآنی اسٹال کا اہتمام کیا گیا۔ گلبرگہ سے مولانافیاض الدین عمری اور حیدر آباد سے مولانا عبد السلام عمری نے بھی اس میں شرکت کی۔ بہت سے مہمانوں نے قرآن کی تقسیم کے اقدام کو پسند کیا، اور مختلف زبانوں میں قرآن کے تراجم اور انگریزی کتابیں وہ لے کر گئے ۔ (ظہیر الدین خواجہ، رائچور)

شادی کے تعلق سے مسٹر ساجد احمد خان (ناگپور ٹیم) نے ایک نہایت سبق آموز تجربہ شیئر کیا ہے، جو کہ حسب ذیل مسٹر شاہد کا تعلق ناگپور سے ہے، وہ ریلوے میں سروس کرتے ہیں۔ انہوں نے اپنا واقعہ بتایا کہ ان کی بیٹی کو کرونا (Corona) سے پہلے HSC تک کھیل کود میں دلچسپی تھی، پڑھنے لکھنے میں زیادہ دلچسپی نہیں تھی۔ کرونا کے بعد اس کو نہ صرف اپنی پڑھائی میں دلچسپی پیدا ہوئی اور اس نے MBA کیا۔ بلکہ اس کو مذہبی کتابوں کے مطالعہ کا بھی شوق پیدا ہوا۔ چنانچہ اس نے ایمیزون (Amazon) سے مولانا وحید الدین خان صاحب کا انگلش ترجمہ قرآن منگوایا اور اسے پڑھا۔ شاہد صاحب کہتے ہیں کہ قرآن پڑھنے کے بعد اس کی زندگی بالکل بدل گئی۔ اُس کو لگا کہ اگر اس نے قرآن کو ترجمہ کے ساتھ نہیں پڑھا ہوتا تو اس کی زندگی ضائع ہو جاتی ترجمہ قرآن مکمل کرنے کے بعد اس نے مولانا وحید الدین خاں صاحب کی انگریزی تفسیر منگوا کر پڑھی۔ اس کو یہ خیال پیدا ہوا کہ جس طرح قرآن کا ترجمہ پڑھ کر میری زندگی تبدیل ہوئی ہے، تو یہ اس کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ اس ترجمہ قرآن کو ہر انسان تک پہنچائے۔ اس درمیان اس کی شادی طے ہوگئی۔ چنانچہ شادی کی پلاننگ کے موقع پر اس نے اپنے والد سے کہا کہ شادی کی غیر ضروری رسومات میں خرچ کرنے سے بہتر ہوگا کہ سارے مہمانوں کے لیے ایک ریٹرن گفٹ کے طور پرہم قرآن تقسیم کریں۔ لہذا انہوں نے پلان کیا، اور تمام مہمانوں کے درمیان 350 سے زیادہ تراجم قرآن کے نسخے تقسیم کیے گئے۔ تمام مہمانوں نے شکریہ اور خوشی کے ساتھ قرآن کا ترجمہ لیا۔ ہندی ، مراٹھی اور انگریزی تراجم قرآن لینے والوں کا یہ تاثر تھا کہ ”ہم اس کو تلاش کر رہے تھے اور ہم اس کو ضرور پڑھیں گے۔ بین الاقوامی طلبہ کی آمد : 18 نومبر 2025 کو CPS انٹرنیشنل سینٹر، نئی دہلی میں ہنری مارٹن انسٹی ٹیوٹ، حیدر آباد کے بین الاقوامی طلبہ کا ایک گروپ آیا۔ ان کے ساتھ انٹرا ایکشن نشست ہوئی، جس میں طلبہ نے اسلام، مولانا

وحید الدین خاں کی تعلیمات، اور CPS کے وژن اور سینٹر کی سرگرمیوں کے بارے میں با معنی تبادلہ خیال کیا۔ پروگرام کے اختتام پر تمام طلبا کو انگریزی ترجمہ قرآن اور دوسرے تعارف اسلام پر مبنی لٹریچر دیے گئے۔ قومی یوتھ کنونشن: ہری جن سیوک سنگھ ایک این جی او ہے، جس کی بنیاد مہاتما گاندھی نے 1932 میں رکھی تھی۔ نومبر 2025 کو اس نے وزارت ثقافت، حکومت ہند کے تعاون سے نیشنل یوتھ کنونشن کا انعقاد کیا۔ یہ کنونشن اڑیسہ کے پہلے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر ہری کرشنا مہتاب (1987-1899) کی 125 ویں یوم پیدائش کی مناسبت سے منعقد کیا گیا، جو مجاہد آزادی اور گاندھی وادی رہنما تھے۔ اس موقع پر ڈاکٹر رجت ملہوترا نے CPS انٹرنیشنل، کی نمائندگی کی اور اسلام میں بین المذاہب مکالمے کے اہمیت پر خطاب کیا۔

یوتھ سیشن، امریکہ: 12 دسمبر 2025 کو سی پی ایس یو ایس اے نے میساچوسٹس میں وے لینڈ کمیونٹی کے یوتھ گروپ کے ساتھ ایک سیشن منعقد کیا، جس کا موضوع تھا: اسلام کے بارے میں غلط فہمیاں۔ اس پروگرام کے ذریعے واضح کیا گیا کہ غلط فہمیاں کس طرح آسانی سے ایک ذریعے سے دوسرے ذریعے تک منتقل ہوتی ہیں اور کیسے اس کو دور کیا جا سکتا ہے۔ اسی کے ساتھ یہ رہنمائی بھی کی گئی کہ آپس میں پیدا ہونے والی غلط فہمیوں کو دور کرنے میں خود احتسابی اور غور وفکر کتنی اہمیت رکھتی ہے۔ اس کو صرف دوستانہ ماحول اور باہمی گفت و شنید کے ذریعہ ہی دور کیا جا سکتا ہے، نہ کہ نزاعی ماحول پیدا کرنے سے۔ آخر میں تمام شرکا کو مولانا وحید الدین خان صاحب کی انگریزی کتاب، قرآنک وزڈم بطور تحفہ پیش کی گئی۔

Assalamu Alaikum, I'm Iram. I wanted to send this email to express my heartfelt gratitude to the CPS International for responding so quickly to my query and, from then on, for putting a smile on my face and bringing more clarity to my life through my journey of understanding the true essence of Islam. Sometimes, as a 26-year-old, life can get confused. After my sessions with Ms. Fathima Sarah (Bengaluru), I have genuinely fallen in love with Islam all over again because of its intricacies and how beautifully Allah has created everything to make perfect sense. My love for my Creator and His mercy has grown tremendously, and I pray it only continues to grow, Insha'Allah. I am deeply grateful to Ms. Fathima Sarah and the organization for helping me understand Allah's creation plan, why we exist, and how much love Allah truly has for us. In a world full of noise and chaos, I'm truly thankful that Allah guided me to discover the true meaning of Islam, hope, and peace. (iram******@gmail.com, on 30 Oct 2025)

और जो हमारे लिए नहीं वह तुम्हारे लिए भी नहीं।" उमर फ़ारूक का यह सफ़र तमाम दुनिया के शासकों के लिए बेशक एक सर्वश्रेष्ठ आदर्श प्रस्तुत आख़िरत का ज़िक्र आते ही अपना दावा छोड़ दिया उम्मे सलमा (रज़ि०) कहती हैं कि - मदीना के दो मुसलमान एक पुरानी विरासत का झगड़ा लेकर अल्लाह के रसूल (सल्ल०) के पास आए। उस मामले में दोनों के पास न तो कोई गवाह था और न सबूत। रसूलुल्लाह (सल्ल.) ने फ़रमाया - "तुम लोग अपना झगड़ा मेरे पास लाते हो और मैं भी एक इंसान हूँ, हो सकता है तुममें से कोई अपनी बात ज़्यादा अच्छे ढंग से रखे और मैं उसी हिसाब से फ़ैसला कर दूँ। लेकिन अगर मैंने किसी के हक़ में ऐसा फ़ैसला कर दिया जिसमें मैंने उसके भाई का हिस्सा काटकर उसे दे दिया हो, तो वह उसे न ले। क्योंकि असल में मैंने उसे आग का टुकड़ा दिया है जिसे वह क़ियामत के दिन अपनी गर्दन में लटकाए हुए आएगा।"

यह सुनकर दोनों मुसलमान रो पड़े। दोनों ने कहा - "ऐ अल्लाह के रसूल! मैं अपना हक़ अपने भाई को देता हूँ।" रसूलुल्लाह (सल्ल०) ने फ़रमाया - “जब तुमने ऐसा कर दिया है तो अब जाओ, विरासत को दो हिस्सों में बाँटो।"

बड़ा पादरा सफ़र दनूस शहर का दीवार पर चढ़ा, उसन मुस्लिम फ़ाज़ का सम्बोधित करते हुए कहा कि हम तुमसे सुलह करना चाहते हैं, लेकिन शर्त यह है कि सुलह तुम्हारे 'अमीर' के हाथ पर होगी। इस विषय का एक पत्र मदीना भेजा गया, ताकि अमीरुल मोमिनीन फ़िलिस्तीन आएं और फिलिस्तीन वालों से सुलह का मामला तय करें। उमर फ़ारूक़ मदीने से बेतुल मक़िदस जाने के लिए निकले, हाल यह था कि उनके साथ सिर्फ एक सवारी और एक गुलाम था। जब वह शहर से बाहर आए तो उन्होंने अपने गुलाम से कहा, “हम दो हैं और सवारी एक है। अगर मैं सवारी पर बैठूं और तुम पैदल चलो तो मैं तुम्हारे ऊपर जुल्म करूंगा और अगर तुम सवारी पर बैठो और मैं पैदल चलूं तो तुम मेरे ऊपर ज़ुल्म करेंगे और अगर हम दोनों सवारी पर बैठें तो हम उसकी पीठ तोड़ डालेंगे। इसलिए हम लोग तीन बारी तय कर लें। इस तरह उन्होंने रास्ता इस तरह तय किया कि एक बार उमर सवारी पर बैठते और गुलाम पैदल चलता। इसके बाद गुलाम सवारी पर चलता और उमर पैदल चलते और फिर दोनों पैदल चलते और सवारी खाली रहती। इसी तरह वे सफ़र करते रहे और यहां तक कि वह बैतुल मदिस के पास पहुंच गए। इत्तफ़ाक़ से उस समय गुलाम की बारी थी। गुलाम ने सवारी पर बैठकर चलने से इंकार किया और चाहा कि आख़िरी चरण में शहर में दाख़िला इस हाल में

वह मामूली हालत में इधर से उधर दौड़ रहे हो। अहन्फ़ ने पूछा कि क्या बात है? हज़रत उमर ने जवाब दिया कि बैतुलमाल (खज़ाने) का एक ऊंट भाग गया है, उसको ढूंढ रहा हूं, उन्होंने कहा, “आप अमीरुल-मोमिनीन हैं। आप खुद क्यों यह कष्ट कर रहे हैं। आप किसी गुलाम को हुक्म दे देते वह इस काम को कर डालता।” हज़रत उमर ने जवाब दिया: “कौन है जो मुझसे बढ़कर गुलाम है।”

सल्तनत का हाकिम होने के बावजूद अपने आपको आम आदमियों जैसा समझना एक बहुत बड़ी शासकीय नैतिकता है। पर इस शासकीय नैतिकता की व्यावहारिक मिसाल इस्लामी इतिहास के सिवा कहीं और नहीं मिलेगी। हज़रत उमर फ़ारूक की ख़िलाफ़त का दौर 634 से 644 ई. तक है। उन्हीं के ज़माने में फ़िलिस्तीन पर विजय हासिल हुई। इस विजय के मौक़े पर फिलिस्तीन के ईसाई अधिकारियों के आमंत्रण पर हज़रत उमर ने मदीने से फ़िलिस्तीन की यात्रा की। यह सफ़र एक महान साम्राज्य के महान सम्राट का सफ़र था। पर वह इतना सादा था कि इससे ज़्यादा सादगी की कल्पना नहीं की जा सकती। अब्दुल्लाह अत्तल ने, जो फ़िलिस्तीन के युद्ध (1948) में शामिल थे, एक किताब लिखी है। उसका नाम है : 'खतरुल यहूदिया अल आलमिया अलल इस्लाम वल-मसीहिया' (इस्лами दुनिया और ईसाईयत को यहूदियत से ख़तरा)। यह किताब दारूल क़लम (क़ाहिरा) से 1964 में प्रकाशित हुई है। अब्दुल्लाह

फिर उन्हान अम्र बिन आस से कहा, “ए अम्र, तुमने कब से लागा का गुलाम बना लिया, हालांकि उनकी मांओं ने उनको आज़ाद पैदा किया था।” (फुतुहू मिस्र वल-मग़रिब, इब्न अब्दुल हुक्म, पृष्ठ 195)

यह घटना आदमी के सम्मान और इंसानी बराबरी की सर्वश्रेष्ठ और अंतिम मिसाल है। इस घटना ने एक इंसान और दूसरे इंसान के बीच के हर तरह के भेद को व्यवहारतः ख़त्म कर दिया। इसने इंसानी न्याय और इंसाफ़ की ऐसी मिसाल क़ायम कर दी, जिसके आगे इंसानी अद्लो-इंसाफ का कोई और दर्जा नहीं।

Printed page