جمہوریت کا دور
Al-Risala, March 2026, pp. 15–16
By Maulana Wahiduddin Khan
مولانا محمد الحسنیٰ مشہور عربی مجلہ البعث الاسلامی (ندوۃ، لکھنو) کے بانی تھے۔ ان کا انتقال 44 سال کی عمر میں 1979 میں ہوا۔ ان کے انتقال پر مولانا محمد منظور نعمانی (وفات 1997) نے ایک مضمون شائع کیا تھا، اس مضمون کا ایک جزء یہ تھا: 11 جون 1979 کی شام کو "البعث الاسلامی" کا شمارہ میرے پاس آیا۔ مغرب اور عشاء کے درمیان میں نے سب سے پہلے اس کا افتتاحیہ پڑھا۔ عزیز مرحوم محمد الحسنی کے قلم کا لکھا ہوا تھا۔ اس کا عنوان تھا: "سُؤَالٌ حَائِرٌ يَحْتَاجُ إِلَى جَوَابٍ"۔ سات صفحے کا مضمون تھا۔ اس میں ممالک اسلامیہ عربیہ خاص کر سعودی مملکت کے ذمہ داروں سے وہ باتیں صاف صاف کہی گئی تھیں، جن کا اس طرح صاف صاف کہا جانا یہ ان کی خیر خواہی کا بھی تقاضا تھا، اور از روئے دین فرض ہو گیا تھا۔ (ماہنامہ الفرقان، لکھنو، مارچ 2013، صفحہ 8) پچھلے دو سو سال کا زمانہ پریس کا زمانہ ہے۔ اس پوری مدت میں مسلم علما اور مسلم رہنماؤں نے احیائے ملت کے نام پر بے شمار تحریکیں چلائی ہیں، مگر ان تحریکوں کا خاص نشانہ زیادہ تر صرف ایک تھا، اور وہ تھا، حکمرانوں کو خطاب کر کے ان کی ذمہ داریاں یاد دلانا۔ سید جمال الدین افغانی (وفات 1897) سے لے کر اکیسویں صدی کے مسلم قائدین تک تقریباً سب لوگ اس اسلوب کو اختیار کیے ہوئے ہیں۔ سو سال سے زیادہ مدت کی پر جوش جد و جہد کے باوجود یہ تحریکیں مکمل طور پر ناکام ہیں۔ اس ناکامی کا سبب صرف ایک ہے اور وہ ہے۔ دور جمہوریت میں دور بادشاہت کے اسلوب پر کام کرنا۔
قدیم زمانے میں حکمرانوں کو خطاب کیا جاتا تھا، مگر موجودہ جمہوری زمانے میں کام کا نتیجہ خیز طریق صرف ایک ہے اور وہ ہے عوام کے اندر ذہنی بیداری لانا۔ مسلم قائدین جس طریقہ کار پر قائم ہیں۔ قسم کی خلاف زمانہ روش ہے۔ اور فطرت کے قانون کے مطابق، اس قسم کی روش کبھی نتیجہ خیز نہیں ہو سکتی۔ موجودہ زمانہ ایک نیا زمانہ تھا۔ اس وقت موثر کام کرنے کے لیے ضروری تھا کہ زمانی حالات کا غیر جانب دارانہ مطالعہ کیا جائے، یہ سمجھا جائے کہ جدید تقاضے کیا ہیں، اور پھر انہی کے مطابق
اسلامی کام کی منصوبہ بندی کی جائے ۔ مگر عملاً یہ ہوا کہ لوگوں نے پرجوش تقریر و تحریر کو کافی سمجھ لیا۔ بلاشبہ ایک غلط اندازہ تھا۔ اس غلطی کا نتیجہ تھا کہ موجودہ زمانے میں بے شمار قربانیوں کے باوجود مطلوب نشانہ حاصل نہ ہوسکا۔
کامیابی بھی ناکامی ہوسکتی ہے!
امریکہ کے ایک ناشر نے جب اپنی پہلی کتاب چھاپی تو وہ ایک مہینہ میں پانچ لاکھ کی تعداد میں فروخت ہوگئی ۔ بظاہر یہ ایک نہایت شاندار کامیابی تھی۔ مگر دوسرے ہی مہینہ وہ ناشر دیوالیہ ہوگیا۔ اس کی ناکامی کی وجہ یہ تھی کہ اس نے کتاب کی لاگت کا کم اندازہ لگایا۔ چنانچہ اس نے جو قیمت مقرر کی اس پر اس کو آٹھ سینٹ فی نسخہ نقصان ہو رہا تھا۔ اگر کتاب کم بکتی تو وہ گھاٹے سے بچ سکتا تھا۔ جب اس کو اپنی غلطی کا علم ہوا تو نقصان کی مقدار اس کی برداشت سے باہر ہو چکی تھی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اتنی زبردست کامیابی کے باوجود اس کا کاروبار ختم ہوگیا۔
یہی حال تمام اجتماعی اقدامات کا ہے ۔ ہو سکتا ہے کہ ایک نعرہ کسی وجہ سے لوگوں کو اپیل کر جائے اور بہت سے لوگ اس کے ساتھ چل پڑیں۔ لیکن اگر اس میں دور اندیشی اور حقیقت پسندی نہیں ہے ، اگر اقدام کے وقت حالات کا صحیح اندازہ نہیں لگایا گیا ہے۔ تو عین ممکن ہے کہ نعرہ اور اس کے ساتھ دینے والے سارے لوگ نا قابل تلافی نقصان سے دوچار ہو جائیں۔
آخرت کے پہلو سے بھی اس کے اندر نصیحت موجود ہے ۔ ہو سکتا ہے کہ ایک دینی کام کافی پھیل جائے ۔ لاکھوں لوگ اس حلقہ میں شامل ہو جائیں۔ اس کے رہنماؤں کو اعزاز اور قدر و منزلت حاصل ہو جائے ۔ لیکن اگر اس کے پیچھے صحیح اسلامی جذبہ نہیں ہے تو آخرت کے اعتبار سے اس کا وہی انجام ہوگا جو امریکی ناشر کا ہوا۔ ( ہفت روزہ الجمعیة، 20 دسمبر 1967، صفحہ 10)