Al-Risala · March 2026

ذہین لوگوں کا قبرستان

Al-Risala, March 2026, p. 17

By Maulana Wahiduddin Khan

تاریخ ذہین لوگوں کا قبرستان ہے۔ یہ بات اتنی زیادہ عام ہے کہ مشکل ہی سے اس میں کسی کا استثنا (exception) معلوم کیا جاسکتا ہے۔ ایک عرب شیخ نے کہا تھا: السُّعُودِيَّةُ مَقْبَرَةُ لِلْعُلَمَاءِ الْمُسْلِمِينَ (سعودی عرب مسلم علما کا مقبرہ ہے)۔ یہی بات عمومی طور پر اس طرح کہی جا سکتی ہے: التَّارِيخُ مَقْبَرَةُ لِلْأَذْکِیَاءِ (تاریخ، ذہین لوگوں کا قبرستان ہے)۔ یہ معاملہ ان لوگوں کا ہے، جن کو خالق نے ذہین (brilliant) انسان کی حیثیت سے پیدا کیا، یعنی اعلیٰ ذہن والا انسان۔ یہ لوگ گویا کہ خالق کی امید (hope) تھے۔ اپنی اعلی صلاحیت کی وجہ سے وہ بڑے بڑے کام کر سکتے تھے۔ ان کے اندر یہ صلاحیت تھی کہ وہ پوری تاریخ کو ایک نیا رخ دے وہ ایک نئی برتر تہذیب پیدا کر سکیں۔ لیکن ان اعلیٰ صلاحیت کے لوگوں میں سے تقریباً ہر ایک کا حال یہ ہوا کہ وہ اپنے فطری امکانات (potential) کو واقعۃ (actual) نہ بنا سکا۔ مدت کے بعد وہ مر کر اس دنیا سے چلا گیا۔ اس قسم کے غیر معمولی افراد کی مثالیں ماضی میں بھی تھیں اور آج بھی موجود ہیں۔

غیر معمولی ذہانت رکھنے والوں کی اس ناکامی کا سبب کیا ہے۔ اس کا سبب صرف ایک وہ یہ کہ جو آدمی غیر معمولی صلاحیت کے ساتھ پیدا ہوا، اس نے فوراً ہی تواضع وہ ایک مغرور (arrogant) انسان بن گیا۔ اس تاریخی المیے کا واحد سبب یہی ہے۔ اس دنیا میں کسی انسان کی سب سے بڑی مثبت صفت تواضع ہے، اور سب سے بڑی منفی صفت غرور (arrogance)۔ یہی واحد سبب ہے، جس کی بنا پر اعلیٰ صلاحیت کے لوگ صرف ناکامی کی تاریخ بنا سکے، کامیابی کی تاریخ بنانا، ان سے ممکن نہ ہو سکا۔ فطرت کے قانون کے مطابق ، اس دنیا میں تواضع کامیابی کی ضامن ہے اور غرور کسی آدمی کو ناکامی کے سوا کہیں اور

Printed page