Al-Risala · March 2026

مخالفت یا غلط فہمی

Al-Risala, March 2026, p. 21

By Maulana Wahiduddin Khan

برطانیہ کی کرسچن مشنری کے ایک ممبر کو یہ کام سونپا گیا کہ وہ قرآن کا مطالعہ کر کے ایسی چیزیں جمع کریں جن کو اسلام اور مسلمانوں کے خلاف استعمال کیا جا سکے۔ اس منصوبے کے مطابق ، انہوں نے قرآن کے انگریزی ترجمے کا مطالعہ شروع کر دیا۔ کچھ دنوں کے مطالعے کے بعد وہ قرآن سے اس قدر متاثر ہوئے کہ انہوں نے مسیحی مذہب چھوڑ کر اسلام قبول کر لیا۔ قبول اسلام کے بعد ان کا نام یہ رکھا گیا: داؤد بربانک (Dawud Burbank)۔ اس کے بعد انہوں نے عربی زبان اور دینی تعلیم کے حصول کے لیے 1980 میں جامعہ اسلامیہ (مدینہ) میں داخلہ لیا۔ فراغت کے بعد انہوں نے پچاس سے زیادہ عربی کتابوں کا انگریزی زبان میں ترجمہ کیا۔ قبول اسلام کے بعد انہوں نے پاکستان کی ایک مسلم خاتون سے شادی کرلی۔ وہ دونوں حج کے لیے گئے ہوئے تھے۔ یکم نومبر 2011 کو مکہ جاتے ہوئے ایک روڈ حادثے میں ان دونوں کا انتقال ہو گیا۔ بوقت وفات ان کی عمر 49 سال تھی۔ یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اکثر مخالفت کا سبب صرف ایک ہوتا ہے، اور وہ غلط فہمی (misunderstanding) ہے۔ درست طرز عمل یہ ہے کہ کسی کو محض ظاہری مخالفت کی بنا پر دشمن قرار نہ دیا جائے اور نہ اسے اپنے سے الگ سمجھا جائے۔ بلکہ ان کے کیس کو غلط فہمی کا کیس سمجھا جائے، اور سنجیدہ انداز میں ان کو اسلام کا مطالعہ کرایا جائے۔ اس کے بعد وہی ہوگا جس کی خبر قرآن میں ان الفاظ میں دی گئی ہے: بھلائی اور برائی دونوں برابر نہیں۔ تم جواب میں وہ کہو جو اس سے بہتر ہو، پھر تم دیکھو گے کہ تم میں اور جس شخص میں دشمنی تھی، وہ ایسا ہو گیا جیسے کوئی دوست قرابت والا (41:34)۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر آدمی صحیح فطرت پر پیدا ہوتا ہے۔ بعد کو مختلف اسباب سے اس کی رائے کسی کے بارے میں منفی اور کسی کے بارے میں مثبت بن جاتی ہے۔ یہ رائے اکثر حقیقت پر مبنی نہیں ہوتی، بلکہ وہ غلط فہمی پر مبنی ہوتی ہے۔ اگر آدمی کو مطالعے کا موقع دیا جائے تو عین ممکن ہے کہ وہ معاملے کی صحیح نوعیت کو سمجھ جائے اور اپنی غلط سوچ کی اصلاح کر لے۔

Printed page