Al-Risala · March 2026

علم اور تقویٰ

Al-Risala, March 2026, p. 33

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ اللہ سے ڈرو اور وہ تم کو علم دے گا (282 : ۔ سورۃ الانفال میں کہا گیا ہے کہ اگر تم اللہ سے ڈرو گے تو وہ تم کو فرقان عطا فرمائے گا (29 : ۔ ایک اور جگہ ارشاد ہوا ہے کہ اللہ سے ڈرو... وہ تم کو روشنی عطا فرمائے گا جس میں تم چلو گے (28 : ۔ امام مالک نے امام شافعی سے ان کی جوانی کی عمر میں نصیحت کرتے ہوئے کہا تھا: اِنّی أَرى اللهَ قَدْ أَلْقى عَلَى قَلْبِكَ نُوراً، فَلاَ تُطْفِئُهُ بِظُلْمَةِ الْمَعْصِيَةِ (الجواب الکافی لابن القیم، صفحہ 52) ۔ یعنی، میں دیکھتا ہوں کہ اللہ نے تمہارے دل کو روشنی سے بھر دیا ہے تو تم اس کو گناہ کی تاریکی سے نہ بجھاؤ۔ امام شافعی نے اپنے استاد وکیع بن الجراح سے اپنی ایک گفتگو کا ذکر اس طرح اشعار میں کیا ہے: شَكَوْتُ إِلَى وَكِيعٍ سُوءَ حِفْظِي فَأَرْشَدَنِي إِلَى تَرْكِ الْمَعَاصِي وَأَخْبَرَنِي بِأَنَّ الْعِلْمَ نُورٌ وَنُورُ اللَّهِ لاَ يُهْدَى لِعَاصِي میں نے اپنے استاد وکیع سے حافظہ کی خرابی کی شکایت کی تو انھوں نے مجھے نصیحت کی کہ گناہوں کو چھوڑ دو اور انھوں نے مجھے بتایا کہ علم روشنی ہے اور اللہ کی روشنی کسی گناہگار کو راستہ نبیں دکھاتی۔ یہاں علم سے مراد معلومات نہیں، معرفت ہے۔ ایک حقیقی معرفت تک پہنچنے کے لیے صرف یہ کافی نہیں کہ آدمی کے پاس الفاظ اور معلومات کا ذخیرہ ہو، بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ اس کے اندر صحت اللہ کا ڈر آدمی کے اندر یہی صحت فکر پیدا کرتا ہے۔ آدمی جتنا زیادہ سنجیدہ ہو اتنا ہی زیادہ اس کے اندر صحت فکر کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے۔ چونکہ اللہ کا ڈر آدمی کو سب سے زیادہ سنجیدہ بناتا ہے، اس لیے اللہ کا ڈر آدمی کو سب سے زیادہ اس قابل بناتا ہے کہ وہ صحیح اور درست طریقہ پر سوچ سکے۔ اللہ کا ڈر آدمی کے الفاظ اور معلومات کے لیے ایسا ہی ہے جیسے سانچہ خام اشیا کے لیے۔ خام اشیاء کو بامعنی صورت میں تبدیل کرتا ہے۔ اسی طرح اللہ کا ڈر الفاظ اور معلومات کو معرفت میں ڈھال دیتا ہے ہی کچھ علوم انسانی مدرسہ میں پڑھائے جاتے ہیں اور کچھ علوم خدا کے مدرسہ

Printed page