Al-Risala · January 1982 · page 47

چند واقعات

الرسالہ، جنوری ۱۹۸۲، صفحہ ۴۷

اعلان کر کے جرمنی کی حکومت پر قبضہ کر لیتے ۔ مگر ٹائم بم اس وقت پھٹا جب کہ شڈلر کیمپ سے باہر آ چکا تھا ۔ -۱۹۴۷ء میں کشمیر کے وزیر اعظم مسٹر مہر چند مہاجن تھے ۔ انھوں نے اپنی کتاب " لوکنگ بیک " (Looking Back) میں الحاق کی کہانی بتاتے ہوئے لکھا ہے : پاکستان کا ایک منصوبہ یہ تھا کہ مہاراجہ کشمیر کو اور مجھ کو اغوا کر لیا جائے اور سنگین کی نوک پر ہم سے الحاق کی منظوری پر دستخط کرا لئے جائیں۔ یہ منصوبہ ہم نے بھیم بر کے ڈاک بنگلہ میں دن کا کھانا کھایا اور ۱۰ بجے رات کو جموں پہنچے۔ اس کے بعد جیسا کہ طے تھا، ۲۱ اکتوبر کو بھیم بر کا ڈاک بنگلہ گھیر لیا گیا۔ ہم اس سازش کا شکار ہو جاتے، اگر ہم نے اصل پروگرام کے مطابق سفر کیا ہوتا۔ مہاراجہ کی پیش اندیشی نے ہم کو پاکستان کے قبضہ میں جانے سے بچا لیا۔ “ ۵۔ چین کے سابق وزیراعظم مسٹر چو این لائی احقاق کے مسودہ پر کبریٰ دستخط کرائے جائیں۔ مسودہ یہ تھا کہ ہم کو بھیم بر کے ڈاک بنگلہ میں اس وقت گرفتار کرلیا جائے جب کہ ہم وہاں پہنچ کھار ہے ہوں۔ بھیم بر (۱۹۲۴-۱۸۹۸ء) کے آبی وں کے آخری چند دن پہلے شمالی ویت نام کے ایک کمیونسٹ لیڈر سے اسپتال میں ملاقات کی تھی۔ دونوں کمیونزم کے بعض فکری پہلوؤں بالکل پاکستان کی سرحد پر ہے اور کشمیر کو جانے والی مشہور مغل روڈ پر واقع ہے۔ اس روڈ کے ایک طرف کشمیر ہے اور دوسری طرف پاکستان۔ ہم نے طے کیا تھا کہ ہم ۲۰ اکتوبر ۱۹۷۴ء کو کٹھوعہ کا دورہ کریں گے اور ۲۱کو بھیم بر اور میرپور کی طرف جائیں گے۔ پاکستان کے لوگوں نے ایک ہتھیار بند موٹر تیار کر رکھی تھی جو ۲۱ کو ہماری گرفتاری کے لئے پھینبہ پر پہنچنے والی تھی۔ مگر واقعات کی ایک پر بحث کرتے رہے۔ جب دمیٹ نامی لیڈر جانے لگا تو چاؤ نے ہنس کر کہا: "اب میں اس مسئلہ کو خود کارل مارکس سے سمجھنے کی کوشش کروں گا۔ کیونکہ چند ہی دن میں میں اس کے پاس جانے والا ہوں" اور فی الواقع اس کے چند دن بعد ۶ جنوری کی شام کو ان کا انتقال ہو گیا۔ ۴۔ چنگیز خاں کے پوتے قبلائی خاں (۱۲۹۴-۱۲۱۶) نے ۱۲۸۱ء میں جاپان پر حملہ کیا۔ اس نے ایک عظیم جنگی بیڑہ غیر متوقع کروٹ نے ہم کو بچا لیا۔ ۲۰ اکتوبر کی صبح کو جب ہم کٹھوعہ کے لئے روانہ ہوئے اور ایک چورستہ پر پہنچے ، جہاں سے ایک سڑک کٹھوعہ کی طرف اور دوسری اکھنور اور بھیم بر کی طرف جاتی تھی، مہاراجہ نے اچانک جیپ ڈرائیور کو ہدایت کی کہ وہ کٹھوعہ کے بجائے گاڑی کو بھیم بر کی طرف موڑ دے۔ میں نے عرض کیا ، کٹھوعہ میں سرکاری افسران اور عوام ہمارا انتظار کر رہے ہوں گے اور بھیم بر کے لئے ہم نے کوئی پرو گرام نہیں بھیجا ہے اور اس وقت وہاں کوئی انتظام نہیں ہوگا۔ مہاراجہ نے میری گزارش کو نظر انداز کر دیا اور کہا کہ وہ کسی پرو گرام کے پابند نہیں ہیں۔ اس لئے ہم اکھنور اور بھیم بر کی طرف روانہ ہوئے اور مہور نہ پہنچ سکے۔ تیار کر کے ان جزائر کو فتح کرنے کے لئے روانہ کیا۔ اس وقت جاپان ایشیا کے ایک کمزور ملک کی حیثیت رکھتا تھا۔ قبلائی خاں جیسے فاتح کی فوج سے مقابلہ کرنے کی طاقت ان میں بالکل نہیں تھی، تاہم ان کو اپنے خداوند (آفتاب) پر بھروسہ تھا جس کی وہ اپنے کو اولاد کہتے ہیں۔ جیسے ہی خطرہ کا احساس ہوا، ان کا مذہبی پیشوا اٹھا اور لوگوں سے کہنا شروع کیا کہ سب لوگ دعائیں مانگھ انھوں نے رات دن اپنے دشمن کے مقابلہ میں اپنے خدا کو پکارنا شروع کیا۔ ابھی قبلائی خاں کی فوج جاپان کے ساحل پر اتری بھی نہ تھی کہ زبردست سمندری طوفان آیا اور تمام بحری بیڑہ سمندر کی ہولناک لہروں میں غرق ہو گیا۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 1982 All issues

Printed page