Al-Risala · February 1982 · page 5

اندھیرا ختم ہوگا

الرسالہ، فروری ۱۹۸۲، صفحہ ۵

اندھیرا ختم ہوگا

خدا کی دنیا میں انسان بظاہر ایک تضاد ہے۔ ایک ایسی دنیا جہاں سورج ہر روز ٹھیک اپنے وقت پر طلوع ہوتا ہے وہاں انسان کا حال یہ ہے کہ آج ایک بات کہتا ہے اور کل وہ اس سے پھر جاتا ہے۔ جس دنیا میں سخت پتھروں کے اندر سے بھی پانی نکل پڑتا ہے وہاں ایک انسان دوسرے انسان کے ساتھ بدترین بے دردی کا ثبوت دیتا ہے۔ جس دنیا میں اس کا چاند تمام مخلوقات کے اوپر بلا امتیاز چمکتا ہے وہاں انسان ایک کے ساتھ کچھ سلوک کرتا ہے اور دوسرے ساتھ کچھ ۔ جس دنیا کا ضمیر اپنے آپ کو پھولوں کی لطافت کی صورت میں ظاہر کرتا ہے وہاں انسان کانٹوں سے بھی زیادہ برے کردار کا مظاہرہ کرتا ہے۔ جس دنیا میں ہواؤں کے جھونکے ہر طرف بے غرض خادم کی طرح پھر رہے ہیں وہاں انسان اس طرح رہتا ہے جیسے ذاتی غرض پوری کرنے کے سوا اس کا اور کوئی مقصد ہی نہیں ۔ جس دنیا میں ایک درخت دوسرے درخت کو دکھ نہیں دیتا وہاں ایک انسان دوسرے انسان کو ستاتا ہے، ایک انسان دوسرے انسان کو برباد کر کے خوشی کے قہقہے لگاتا ہے۔

یہ سب کچھ اس دنیا میں ہر روز ہو رہا ہے مگر خدا یہاں مداخلت نہیں کرتا، وہ اس تضاد کو ختم نہیں کرتا ۔ مخلوقات کے آفاقی آئینہ میں خدا کتنا حسین معلوم ہوتا ہے مگر انسانی زندگی کے المناک گوشہ میں اس کا چہرہ کتنا مختلف ہے خدا کے سامنے درندگی کے واقعات آتے ہیں مگر اس کے اندر کوئی تڑپ پیدا نہیں ہوتی۔ خدا انسانوں کو ذبح ہوتے ہوئے دیکھتا ہے مگر اسے اس کی کوئی پروا نہیں ہوتی۔ وہ کائنات کے سب سے زیادہ حساس باسیوں کے ساتھ وحشیانہ سلوک کا مشاہدہ کرتا ہے مگر اس کے خلاف اس کے اندر کوئی بے چینی نہیں ابھرتی۔ کیا خدا پتھر کی مورتی ہے ، کیا وہ ایک انتہائی کامیاب اسٹیچو ہے جو سب کچھ دیکھتا ہے مگر اس کے بارہ میں اپنے رد عمل کا اظہار نہیں کرتا ۔ اس سوال نے ہر زمانہ کے سوچنے والوں کو سب سے زیادہ پریشان کیا ہے۔ مگر یہ سوال صرف اس لئے پیدا ہوتا ہے کہ مخلوقات کے بارے میں ہم خالق کی حکمت کو ملحوظ نہیں رکھتے۔ خالق کی اسکیم میں دنیا دار الامتحان ہے مگر ہم اس کو دارالجزاء کے روپ میں دیکھنا چاہتے ہیں۔ جو کچھ کل کے دن پیش آنے والا ہے اس کو ہم چاہتے ہیں کہ آج ہی کے دن ہماری آنکھوں کے سامنے آ جائے ۔

جس طرح ہر روز رات کے اندھیرے کے بعد سورج کی روشنی پھیلتی ہے اسی طرح لازماً یہ بھی ہونے والا ہے کہ زندگی کا اندھیرا ختم ہو ظالم اور مظلوم ایک دوسرے سے الگ کئے جائیں ۔ سرکش انسانوں کی گردنیں توڑی جائیں اور سچے انسانوں کو ان کی سچائی کا انعام دیا جائے ۔ یہ سب کچھ اپنی کامل ترین صورت میں ہوگا ، مگر وہ موت کے بعد ہوگا نہ کہ موت سے پہلے ۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 1982 All issues

Printed page