آہ یہ انسان
الرسالہ، مارچ ۱۹۸۲، صفحہ ۳
جو آدمی اپنی غلطی کو جان لے اس نے سچائی کا آدھا راستہ طے کر لیا انصاف والا حقیقت میں وہ ہے جو شکایت کے وقت بھی انصاف پر قائم رہے ہر آدمی اصول کی زبان میں بات کرتا ہے حالانکہ بے اصولی کے سوا کسی کا کوئی مذہب نہیں گولی کی چوٹ سہنے والے بہادر بہت ہیں مگر لفظ کی چوٹ سہنے والا بہادر کوئی نہیں آدمی ایک ایسی مخلوق ہے جو قول کے معاملہ میں سب سے زیادہ فیاض ہے اور عمل کے معاملہ میں سب سے زیادہ بخیل اپنے حقوق کو جاننے کا ماہر ہر شخص ہے مگر دوسروں کے حقوق کو کوئی نہیں جانتا اخلاق کا آخری درجہ یہ ہے کہ آدمی دوسرے کو تکلیف نہ دے مگر بہت کم اخلاق والے ہیں جو اس معیار پر پورے اتریں آدمی کیا ہے، اس کا اندازہ غیر معمولی حالات میں ہوتا ہے نہ کہ معمول کے حالات میں بہت سے جواب صرف اس بات کا ثبوت ہوتے ہیں کہ آدمی کے پاس کوئی جواب ہی نہیں آدمی دوسرے کو غلط ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے حالانکہ اکثر حالات میں وہ خود غلطی پر ہوتا ہے لوگوں کی اغراض ایک دوسرے سے وابستہ نہ ہوں تو دنیا میں کوئی کسی کا دوست نظر نہ آئے آدمی بظاہر ایک دلیل دیتا ہے حالانکہ وہ بے معنی الفاظ کے مجموعہ کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا
‹ Previous page Next page › Contents of March 1982 All issues