موت کا سبق
الرسالہ، اپریل ۱۹۸۲، صفحہ ۱۸
موت کا سبق
آدمی زندگی چاہتا ہے مگر بہت جلد اس کو معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں صرف موت اس کا استقبال کرنے کے لئے کھڑی ہوئی ہے۔ عین اس وقت جب کہ وہ اپنی ترقی کے عروج پر پہنچ چکا ہوتا ہے، موت اس کے اور اس کی کامیابیوں کے درمیان حائل ہو جاتی ہے ۔ آدمی مجبور ہوتا ہے کہ ایک ایسی دنیا میں داخل ہو جائے جس کے لئے اس نے کوئی تیاری نہیں کی تھی ۔
انسان اپنی عظمت کا محل تعمیر کرتا ہے مگر موت کا طوفان اس کو تنکوں کی طرح اڑا کر یہ سبق دیتا ہے کہ انسان کو اس دنیا میں کوئی قدرت حاصل نہیں۔ انسان کہتا ہے کہ میں اپنا مالک ہوں مگر تقدیر اس کو کچل کر اسے بتاتی ہے کہ تیرا مالک کوئی اور ہے ۔ انسان موجودہ دنیا میں اپنی آرزوؤں کا باغ اگانا چاہتا ہے مگر موت اس کے منصوبہ کو برباد کر کے یہ سبق دیتی ہے کہ اپنے لئے دوسری دنیا تلاش کرو کیونکہ موجودہ دنیا میں تمہاری آرزوؤں کی تکمیل ممکن نہیں۔
موت ہماری زندگی کی سب سے بڑی معلم ہے۔ موت ہر آدمی کو ایک ایسے سوال کے بارے میں سوچنے پر مجبور کر دیتی ہے جس کے جواب میں زندگی کا تمام راز چھپا ہوا ہے۔ موت ہم کو بتاتی ہے کہ ہم اپنے مالک آپ نہیں ہیں۔ موت ہم کو بتاتی ہے کہ موجودہ دنیا میں ہماری زندگی محض عارضی زندگی ہے۔ موت ہم کو بتاتی ہے کہ موجودہ دنیا وہ مقام نہیں جہاں ہم اپنی تمناؤں کو حاصل کر سکیں۔ موت ہم کو جینا سکھاتی ہے۔ موت ہم کو بتاتی ہے کہ حقیقی کامیابی کو حاصل کرنے کے لئے ہمیں کیا کرنا چاہئے۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1982 All issues