Al-Risala · April 1982 · page 31

زندگی کا سفر

الرسالہ، اپریل ۱۹۸۲، صفحہ ۳۱

زندگی کا سفر

ہر آدمی امیدوں اور تمناؤں کی ایک دنیا اپنے ذہن میں لئے ہوئے ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ میں اپنی امیدوں کی دنیا کی طرف بڑھ رہا ہوں۔ میں اپنے خوابوں والے کل کی طرف چلا جارہا ہوں۔ مگر اس کی موت اسے آکر بتاتی ہے کہ وہ اپنی تمناؤں والی دنیا کی طرف نہیں بلکہ خدا کی دنیا کی طرف بڑھ رہا تھا، وہ دنیا کی منزل کے بجائے آخرت کی منزل کی طرف چلا جارہا تھا۔ آدمی کہاں جارہا ہے اور کہاں پہنچ رہا ہے۔ مگر کسی کو اس کی خبر نہیں۔

آدمی اپنے بچوں کے مستقبل کی خاطر اپنا سب کچھ لگا دیتا ہے مگر اس سے پہلے کہ وہ اپنے بچوں کے مستقبل کو دیکھ کر خوش ہو وہ خود اپنے اس مستقبل کی طرف ہانک دیا جاتا ہے جس کے لئے اس نے کوئی تیاری نہیں کی تھی۔ آدمی اپنے آرام کے لئے ایک مکان کھڑا کرتا ہے مگر ابھی وہ وقت نہیں آتا کہ وہ اپنے پسندیدہ مکان میں چین کے ساتھ رہے کہ موت اس کے اور اس کے مکان کے درمیان حائل ہو جاتی ہے ۔ آدمی کماتا ہے، وہ سمجھتا ہے کہ میں عزت و ترقی کی بلندیوں پر اپنے کو بٹھانے جا رہا ہوں مگر بہت جلد اس کو معلوم ہوتا ہے کہ آنے والا دن اس کے لئے جس چیز کا انتظار کر رہا تھا وہ ایک سنسان قبر تھی نہ کہ عزت و ترقی کی رونقیں۔ آدمی اپنے وقتی عیش کو کھونا نہیں چاہتا اس لئے وہ کھلی کھلی حقیقتوں کو ماننے کے لئے تیار نہیں ہوتا۔ اگر وہ جانے کہ اس کا وقتی عیش بالآخر ابدی عذاب میں تبدیل ہونے والا ہے۔ تو اچانک اس کی زندگی کچھ سے کچھ ہو جائے۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 1982 All issues

Printed page