آدمی اکیلا ہے
الرسالہ، اپریل ۱۹۸۲، صفحہ ۳۰
آدمی اکیلا ہے
موت یہ ثابت کرتی ہے کہ ہر آدمی اکیلا ہے۔ دنیا میں آدمی دوسروں کے ساتھ ہوتا ہے۔ ہر آدمی ایک خاندان میں شامل ہوتا ہے۔ ہر آدمی اپنے کو کسی نہ کسی مجموعہ سے وابستہ کے رہتا ہے۔
مگر موت انتہائی بے رحمی کے ساتھ آدمی کو ہر چیز سے الگ کر دیتی ہے۔ موت آدمی کو اس کے ساتھیوں سے جدا کر کے اس کو تنہا کھڑا کر دیتی ہے۔ موت اس حقیقت کو یاد دلاتی ہے کہ آدمی اکیلا ہے۔ کوئی اس کا ساتھی اور مددگار نہیں۔ یہ تجربہ ہر روز اور ہر مقام پر ہوتا ہے۔ آدمی اپنے سامنے دیکھتا ہے کہ ایک آدمی اپنے خاندان اور اپنے گروہ میں جی رہا تھا۔ اس کے بعد موت آئی اور اس نے اس کو کھینچ کر ایک ایسے گڑھے میں پہنچا دیا جہاں نہ کوئی اس کے دائیں ہوتا اور نہ کوئی اس کے بائیں ۔ کیسا عجیب اور کیسا شدید ہے یہ تجربہ۔ مگر کوئی نہیں جو اس تجربہ کو دیکھ کر سبق لے۔
دنیا کی زندگی میں ہر موقع پر بہت سے ساتھی اس کی مدد کے لئے کھڑے ہونے والے تھے۔ مگر موت کے بعد کی زندگی میں وہ تنہا اپنی قبر کو بسا تا ہے۔ وہ فرشتوں سے مقابلہ کے لئے اکیلا ہوتا ہے۔ وہ خدا کے سامنے اس طرح پہنچتا ہے کہ اس کے آگے پیچھے کوئی دوسرا نہیں ہوتا۔
انسان اپنے کو بہت کچھ سمجھتا ہے، مگر انسان بے کچھ ہے۔ موت اس لئے آتی ہے کہ وہ آدمی کو اس کی اس حقیقت سے آخری حد تک باخبر کر دے۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1982 All issues