ایک ہی موقع
الرسالہ، اپریل ۱۹۸۲، صفحہ ۳۵
ایک ہی موقع
انسان ایک ابدی مخلوق ہے۔ اس کی عمر کا تھوڑا سا حصہ موجودہ دنیا میں گزرتا ہے اور بقیہ تمام حصہ آخرت کی دنیا میں جو مرنے کے بعد سامنے آنے والی ہے۔ موجودہ دنیا عمل کرنے کی جگہ ہے اور اگلی دنیا اپنے عمل کا انجام پانے کی جگہ۔
آخرت کی دنیا کے لئے کوئی شخص جو کچھ کر سکتا ہے اسی موجودہ دنیا میں کر سکتا ہے ۔ اس کے بعد کرنا نہیں، صرف بھگتنا ہے۔ موجودہ زندگی کا عرصہ بہت کم ہے۔ کتنے لوگ ہیں جن کو ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا مگر آج وہ ہمارے درمیان نہیں ہیں۔ اسی طرح جو لوگ آج ہم کو دیکھ رہے ہیں، ایک وقت آئے گا کہ ہم ان کے دیکھنے کے لئے اس دنیا میں موجود نہ ہوں گے۔ ہم اپنی عمر پوری کر کے اپنے رب کے پاس جا چکے ہوں گے۔
موجودہ زندگی وہ پہلا اور آخری لمحہ ہے جب کہ انسان اپنے ابدی مستقبل کی تعمیر کے لئے کچھ کر سکتا ہے۔ نہ اس سے پہلے ایسا کوئی موقع انسان کو ملا تھا اور نہ اس کے بعد ایسا کوئی موقع انسان کو ملے گا۔ ہم ایک ایسے امتحان سے گزر رہے ہیں جس کا ایک لازمی نتیجہ سامنے آنے والا ہے۔ اور بہت جلد ہم ایک ایسے نتیجہ سے دوچار ہوں گے جس سے بچنے کی ہمارے پاس کوئی سبیل نہیں۔
یاد رکھئے، زندگی کا ہر لمحہ جو آپ صرف کر رہے ہیں آخری طور پر صرف کر رہے ہیں۔ کیونکہ وہ دوبارہ آپ کے لئے واپس آنے والا نہیں۔ ہمارے لئے صرف ایک ہی موقع ہے، ہم خواہ اس کو استعمال کریں یا اس کو ضائع کر دیں۔ یہ دنیا، ہم کو صرف ایک بار دی گئی ہے، خواہ یہاں ہم اپنے لئے جنت کی فصل اگائیں یا جہنم کی ۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1982 All issues