Al-Risala · April 1982 · page 3

وحید الدین

الرسالہ، اپریل ۱۹۸۲، صفحہ ۳

بسم الله الرحمن الرحيم

زندگی میں سب سے زیادہ طاقت ور جذبہ خوف کا جذبہ ہے۔ خوف کا جذبہ آدمی کے فکر وعمل کی صلاحیتوں کو جتنا جگاتا ہے کوئی دوسری چیز اس کو اتنا نہیں جگاتی۔

دنیا کی تمام سرگرمیاں کسی نہ کسی خوف کا نتیجہ ہوتی ہیں ـــــ معاشی بدحالی کا خوف، بے عزت ہونے کا خوف، برتر طاقت کا خوف، قوی دشمن کا خوف، یا اور کوئی خوف۔ ہر آدمی کسی دیکھے یا ان دیکھے خوف کے تحت عمل کرتا ہے ، خواہ وہ اس کو شعوری طور پر جانتا ہو یا نہ جانتا ہو۔ مگر یہ تمام جھوٹے خوف ہیں۔ اصلی خوف جس کے تحت آدمی کو متحرک ہونا چاہئے وہ صرف ایک خدا کا خوف ہے۔ خدا ہی اس قابل ہے کہ اس سے ڈرا جائے اور اس سے تمام اندیشے وابستہ کئے جائیں۔ وہ تمام سرگرمیاں باطل ہیں جو کسی دوسرے خوف کی بنیاد پر ابھری ہوں۔ اور صرف وہی سرگرمی سچی سرگرمی ہے جو اللہ کے خوف کی بنیاد پر قائم ہو۔

خدا نے تمام چیزوں کو پیدا کیا ہے۔ وہی ہر چیز کا مالک ہے۔ اسی کے پاس ہر قسم کے اختیارات ہیں۔ یہ واقعہ کافی ہے کہ آدمی صرف ایک خدا سے ڈرے۔ مگر بات صرف اتنی ہی نہیں ہے۔ اس سے زیادہ سخت بات یہ ہے کہ خدا نے انسان کو صرف پیدا کرکے چھوڑ نہیں دیا ہے۔ وہ ہر شخص کو بالآخر اپنے پاس بلائے گا۔ اس دن وہ ہر ایک سے اس کے قول وعمل کا حساب لے گا اور ہر ایک کو اس کے کار نامہ زندگی کے مطابق اچھا یا برا بدلہ دے گا۔

واقعہ کا یہ پہلو زندگی کے معاملہ کو بے حد سنگین بنا دیتا ہے۔ اس کا تقاضا ہے کہ آدمی اپنے آپ کو خدا کی ماتحتی میں دے دے۔ اگر اس نے ایسا نہ کیا تو وہ سخت ترین سزا سے کسی طرح بچ نہیں سکتا۔ کرنے کا کام کیا ہے ، اس سوال کا صرف ایک ہی جواب ہے اور وہ یہ کہ اپنے آپ کو اور دوسرے بندگان خدا کو آگ کے عذاب سے بچانے کی کوشش کی جائے۔ خدا کے پیغمبروں نے زندگی کی جو حقیقت بتائی ہے اس کے مطابق زندگی کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ آدمی آخرت میں خدا کی پکڑ سے بچ سکے۔ اس آنے والے دن کی سختیوں سے اپنے آپ کو بچانا اور دوسرے انسانوں کو اس سے بچنے کی تلقین کرنا، یہی موجودہ دنیا میں مسلمانوں کا اصل کام ہے۔ اس کے سوا جو مطلوب چیزیں ہیں وہ سب اسی کام کے نتیجہ میں حاصل ہوتی ہیں۔

وحید الدین

‹ Previous page Next page › Contents of April 1982 All issues

Printed page