Al-Risala · April 1982 · page 47

اسلام کی روح

الرسالہ، اپریل ۱۹۸۲، صفحہ ۴۷

اسلام کی روح

مومن کون ہے ۔ مومن وہ ہے جو اس واقعہ کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لے کہ اسرافیل صور لئے کھڑے ہیں اور اس بات کے منتظر ہیں کہ کب خدا کا حکم ہو اور پھونک مار کر سارے عالم کو تہ و بالا کر دیں۔ کافر اور مومن کا فرق حقیقت اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ کافر دنیا کی سطح پر جیتا ہے اور مومن آخرت کی سطح پر۔ ایک ظاہر حیات میں گم رہتا ہے۔ دوسرا آخر حیـات میں اپنے لئے زندگی کا رازپالیتا ہے ۔

اسلام کا مطلب یہ ہے کہ زندگی خدا اور آخرت کی یاد میں ڈھل جائے۔ یہاں بندہ اپنے رب سے روحانی سطح پر ملاقات کرتا ہے۔ مگر جب اسلام کے ماننے والوں کو زوال ہوتا ہے تو اسلام کی روح غائب ہو جاتی ہے اور صرف اس کے ظاہری پہلو باقی رہ جاتے ہیں ۔ اسلام اپنی سطح سے اتر کر ماننے والوں کی سطح پر آ جاتا ہے۔

اب نظر نہ آنے والے خدا سے تعلق کمزور ہو جاتا ہے البتہ نظر آنے والے خداؤں کا چرچا خوب شروع ہو جاتا ہے۔ خدا کے لئے تنہائیوں میں رونا باقی نہیں رہتا البتہ اسلام کے نام پر ہنگامے خوب ترقی کرتے ہیں ۔ نماز لوگوں کی روح کو پُر رونق نہیں بناتی البتہ مسجدوں کی رونقیں بہت بڑھ جاتی ہیں۔ روزہ سے پرہیز گاری کا جذبہ نکل جاتا ہے البتہ افطار و سحر کی دھوم خوب دکھائی دیتی ہے۔ عید میں عبدیت کی روح نہیں ہوتی البتہ تماشے کی چیزیں خوب رونق پکڑتی ہیں۔ رسول لوگوں کے لئے زندگی کا رہنما نہیں ہوتا ، البتہ رسول کے نام پر جشن اور جلسہ جلوس کی بہاریں شباب پر نظر آتی ہیں۔

خلاصہ یہ کہ خدا کے دین کو اپنی دنیا دارانہ زندگی میں ڈھال لیا جاتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 1982 All issues

Printed page