آزمائش
الرسالہ، اپریل ۱۹۸۲، صفحہ ۶
آزمائش
آدمی کا معاملہ جب کسی سے پڑتا ہے تو اس کو وہ بس ایک انسان کا معاملہ سمجھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ فوراً سرکشی اور بے انصافی پر اتر آتا ہے۔ اگر وہ جانے کہ ہر معاملہ خدا کا معاملہ ہے تو وہ کبھی سرکش نہ بنے، وہ کبھی بے انصافی کا طریقہ اختیار نہ کرے۔ دنیا میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ سب خدا کی اجازت اور اس کے منصوبہ کے تحت ہو رہا ہے۔ اس کے پیچھے خدا کی حکمت امتحان کام کر رہی ہے۔ ہر واقعہ جو پیش آتا ہے وہ اس لئے پیش آتا ہے کہ اس کے ذریعہ سے متعلق افراد کو آزمایا جائے۔ حالات میں ڈال کر ہر ایک کو دیکھا جائے کہ کون کیا تھا اور کون کیا نہیں تھا۔ کسی واقعہ کے دوران یہ دیکھنا مقصود ہوتا ہے کہ آدمی اپنے پڑوسی اور اپنے صاحب معاملہ کو ستاتا ہے یا انصاف کے مطابق اس کا حق ادا کرتا ہے۔ کوئی واقعہ اس لئے پیش آتا ہے کہ یہ دیکھا جائے کہ لوگ اپنے کو جس ترازو سے تولتے ہیں اسی سے دوسرے کو بھی تول رہے ہیں یا اپنے اور دوسرے کے لئے انہوں نے الگ الگ باٹ بنا رکھے ہیں۔ کسی واقعہ کا مقصد یہ جانچنا ہوتا ہے کہ کون آدمی مفاد اور مصلحت کو اہمیت دیتا ہے اور وہ کون ہے جو مفاد اور مصلحت کو نظر انداز کر کے سچائی کی طرف دوڑ پڑتا ہے۔
یہی وہ مواقع ہیں جو آدمی کے ابدی مستقبل کا فیصلہ کرتے ہیں۔ ان مواقع پر درست رویہ اختیار کر کے ایک شخص جنت کا مستحق بن جاتا ہے اور دوسرا شخص غلط رویہ اختیار کر کے اپنے کو جہنم میں گرا لیتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1982 All issues