Al-Risala · May 1982 · page 12

کامیابی کا راز یہاں ہے

الرسالہ، مئی ۱۹۸۲، صفحہ ۱۲

کامیابی کا راز یہاں ہے

یہ مدراس کا واقعہ ہے۔ سمندر کے ساحل پر دو نوجوان نہارہے تھے۔ دونوں دوست تھے اور تیرا کی اچھی جانتے تھے۔ وہ پانی کے اوپر اوپر بھی تیرتے تھے اور ڈبکی لگا کر پانی کے اندر اندر بھی دور تک نکل جاتے تھے۔ دونوں تیرتے ہوئے دور تک چلے گئے۔ اس کے بعد موجوں کا ایک تھپیڑا آیا۔ دونوں اس کی زد میں آگئے ۔ ایک نوجوان زیادہ ماہر تھا۔ "میں موجوں سے لڑ کر پار ہو جاؤں گا " اس نے کہا اور موجوں کے مقابلہ میں اپنی تیراکی کا کمال دکھانے لگا۔ مگر موجوں کا زور زیادہ تھا، وہ اپنے طاقت ور بازوؤں کے با وجود ان سے نکلنے میں کامیاب نہ ہو سکا۔ اور ڈوب کر مر گیا۔

دوسرا نوجوان بھی طوفان کی زد میں آیا۔ تھوڑی دیر اس نے اپنے ساتھی کی پیروی کی ۔ اس کے بعد اس نے محسوس کر لیا کہ موجوں کی شدت اس سے زیادہ ہے کہ میرے بازو اس کا مقابلہ کر کے نکلنے میں کامیاب ہو سکیں۔ اچانک اس کو ایک بات یاد آئی۔ اس نے سنا تھا کہ موجیں خواہ کتنی ہی شدید ہوں ان کا زور اوپر اوپر رہتا ہے۔ پانی کی نیچے کی سطح پھر بھی ساکن رہتی ہے۔ اس کے بعد اس نے اپنا طریق عمل بدل دیا۔ اوپر کی موجوں سے لڑنے کے بجائے اس نے نیچے کی طرف ڈبکی لگائی اور پانی کی نچلی سطح پر پہنچ گیا۔ یہاں پانی نسبتاً ٹھہرا ہوا تھا اور اس کے لیے ممکن تھا کہ وہ اپنے تیرنے کے فن کو کامیابی کے ساتھ استعمال کر سکے۔ اس نے ساحل کی طرف تیرنا شروع کر دیا۔ اگرچہ وہ کافی تھک چکا تھا۔ تاہم ہاتھ پاؤں مارتے ہوئے بالآخر وہ سمندر کے کنارے پہنچ گیا۔ کنارے پہنچتے پہنچتے وہ بے ہوش ہو چکا تھا۔ سمندر کے کنارے چند ملاح اپنی کشتیاں لئے ہوئے موجود تھے۔ انھوں نے فورا اس کو دیکھ کر اٹھایا اور خشکی پر لے گئے۔ اس کے بعد اس کو اسپتال پہنچایا گیا۔ وہاں چند دن زیر علاج رہ کر وہ اچھا ہو گیا ــــ جس نے موجوں سے لڑنے کو تیرا کی سمجھا تھا وہ ہلاک ہو گیا اور جس نے موجوں سے کتراا کر نکلنے کا طریقہ اختیار کیا وہ کامیاب رہا۔

یہی معاملہ پوری زندگی کا ہے۔ زندگی میں طرح طرح کے طوفان آتے ہیں۔ مگر عقل مندی یہ نہیں ہے کہ جو تھپیڑا سامنے آئے بس آدمی اس سے لڑنا شروع کر دے۔ عقل مندی یہ ہے کہ آدمی جائزہ لے کر دیکھے کہ کامیابی کے ساتھ ساحل تک پہنچنے کا زیادہ قابل عمل راستہ کون سا ہے۔ اور جو راستہ قابلِ عمل ہو اسی کو اختیار کرے خواہ وہ موجوں کی سطح سے اتر کر نیچے نیچے اپنا راستہ بنانا کیوں نہ ہو۔ یہ قدرت کا انتظام ہے کہ دریاؤں اور سمندروں میں جو تیز و تند موجیں اٹھتی ہیں وہ پانی کے اوپر اوپر رہتی ہیں۔ پانی کے نیچے کی سطح ساکن رہتی ہے۔ چنانچہ بھنور کے وقت مچھلیاں نچلی سطح پر چلی جاتی ہیں۔ یہ قدرت کا سبق ہے۔ اس طرح قدرت ہم کو بتاتی ہے کہ طوفانی موجوں کے وقت ہم کو کیا طریق عمل اختیار کرنا چاہئے۔ زندگی میں کبھی طوفان سے لڑنا بھی پڑتا ہے۔ مگر اکثر اوقات کامیابی کا راز یہ ہوتا ہے کہ آدمی طوفانی سیلاب سے کتر کر نکل جائے۔ وہ طوفان کی زد سے بچتا ہوا اپنا راستہ بنائے ۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1982 All issues

Printed page