Al-Risala · May 1982 · page 16

سب سے بڑی ضمانت

الرسالہ، مئی ۱۹۸۲، صفحہ ۱۶

سب سے بڑی ضمانت

لارڈ ولیم بینٹک انیسویں صدی کے ربع ثانی (۱۸۳۵-۱۸۲۸) میں ہندوستان کے گورنر جنرل تھے۔

انہوں نے ایک بار حکم دے دیا تھا کہ تاج محل کو گرایا جائے مگر عملاً وہ اس میں کامیاب نہ ہوسکے۔ اس کا انکشاف ۱۹۰۰ء کو اس وقت کے وائسرائے لارڈ کرزن نے کیا تھا۔ لارڈ کرزن نے کلکتہ کے ایک جلسہ عام میں کہا کہ ان دنوں ایسٹ انڈیا کمپنی کی اقتصادی حالت خراب ہوگئی تھی۔ کمپنی کو اقتصادی بحران سے نکالنے کے لئے سابق برطانوی گورنر جنرل (لارڈ بینٹک) نے چاہا کہ تاج محل کے سنگ مرمر کو فروخت کردیں۔ اس سے ان کو اس زمانہ میں ایک لاکھ روپیہ حاصل ہونے کی امید تھی۔ جب یہ خبر پھیلی تو لوگوں نے اس کی مخالفت کی۔ اب لارڈ ولیم بینٹک بگڑ گئے اور انھوں نے غصہ میں آکر یہ حکم دیا کہ تاج محل کو گرا کر زمین کے برابر کردیا جائے۔ ان کے اس حکم کے بعد عوام کی مخالفت اور زیاوہ بڑھ گئی۔ ۔ ہندو اور مسلمان دونوں نے مل کر شدید احتجاج کیا۔ حتی کہ یہ اندیشہ پیدا ہوگیا کہ اگر تاج محل کو گرا دیا گیا تو عوامی بغادت پیدا ہوجائے گی۔ لارڈ ولیم بینٹک کے مشیروں نے ان کو صورت حال کی نزاکت بتائی۔ چنانچہ انھوں نے اپنا حکم واپس لے لیا (نو بھارت ٹائکٹر ۱۸ جون ۱۹۶۹)

"تاج محل کو عوام نے نہیں بچایا" اس خبر کو پڑھ کر ایک شخص نے کہا "بلکہ تاج محل کو اس کے اپنے حسن نے بچایا۔ تاج اگر اتنا حسین نہ ہوتا تو برطانوی اقتدار کے مقابلہ میں اس کو ہندوؤں اور مسلمانوں کی اتنی بڑی حمایت حاصل نہیں ہوسکتی تھی "

عمارت کا یہی انجام اس کے معماروں کے لئے بھی مقدر تھا۔ مگر افسوس کہ معمار اپنے اندر وہ "حسن" پیدا نہ کر سکے جو انھوں نے سنگ مرمر کے خاموش مجموعہ میں اپنی مہارت سے پیدا کر دیا تھا۔

آدمی کے اندر کوئی خوبی ہو تو یہ خوبی ہی اس کی زندگی کی سب سے بڑی ضمانت ہوتی ہے۔ وہ دشمنوں میں بھی اپنے دوست پالیتا ہے۔ اغیار کی صفوں میں بھی اس کو اپنے قدرداں مل جاتے ہیں۔ یہ ناممکن ہے کہ کسی کے اندر کوئی واقعی خوبی ہو، اس کے باوجود دنیا میں اس کا اعتراف نہ کیا جائے۔

تاہم اسی کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ آدمی کا حسن سانپ کا حسن نہ ہو۔ ایک سانپ خواہ وہ کتنا ہی حسین ہو آدمی اس سے محبت نہیں کر سکتا۔ اسی طرح جس آدمی کا حال یہ ہو کہ اس کے اندر ایک خوبی تو ہو مگر اسی کے ساتھ اس کی زبان میں "ڈنک" ہو، وہ لوگوں کے سیاسی اور معاشی مفادات کو چیلنج کرنے لگے، وہ لوگوں کے ساتھ تعلقات میں بار بار جارحیت پر اتر آتا ہو، وہ اپنی جذباتی کارروائیوں سے لوگوں کو اپنا مخالف بنالے۔ ایسا آدمی خواہ دہ کتنا ہی زیادہ خوبیوں والا ہو، لوگوں کا محبوب نہیں بن سکتا۔

تاج محل لوگوں کا محبوب اسی وقت بنتا ہے جب کہ وہ خاموش حسن میں ڈھل جائے۔ اگر وہ جارح حسن کا نمونہ ہو تو ایسے تاج محل کو کوئی نہیں بخشے گا۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1982 All issues

Printed page