Al-Risala · May 1982 · page 19

یہ وقت کا سوال ہے نہ کہ قیمت کا

الرسالہ، مئی ۱۹۸۲، صفحہ ۱۹

یہ وقت کا سوال ہے نہ کہ قیمت کا

آکسفورڈ یونیورسٹی ۱۱۶۳ میں قائم ہوئی۔ اس کے ہرے بھرے لان ساری دنیا میں مشہور ہیں۔ ایک امریکن کرور پتی نے اس کے لان دیکھے تو وہ ان کو بہت پسند آگئے۔ انھوں نے چاہا کہ ایسا ہی لان ان کی کوٹھی میں بھی ہو۔ ’’ایسا لان کتنے ڈالر میں تیار ہو جائے گا‘‘، انھوں نے آکسفورڈ کے مالی سے پوچھا۔ ’’مفت میں‘‘، مالی نے سنجیدگی کے ساتھ جواب دیا ’’وہ کیسے‘‘ ’’اس طرح کہ آپ اپنی زمین کو ہموار کرکے اس پر گھاس جما دیجئے ۔ جب گھاس بڑھے تو اس کو کاٹ کر اوپر سے رولر پھیر دیجئے۔ اسی طرح پانچ سو برس تک کرتے رہیے جب پانچ سو سال پورے ہوں گے تو ایسا ہی لان آپ کے یہاں تیار ہو جائے گا۔ یہ وقت کا سوال ہے نہ کہ قیمت کا۔ ‘‘ شام کے وقت سورج آپ کے اوپر غروب ہو جائے اور آپ دوبارہ صبح کا منظر دیکھنا چاہیں تو آپ کو پوری رات تک انتظار کرنا ہوگا۔ رات کا وقفہ گزارے بغیر آپ دوبارہ صبح کے ماحول میں آنکھ نہیں کھول سکتے۔ آپ کے پاس ایک بیج ہے اور آپ اس کو درخت کی صورت میں دیکھنا چاہتے ہیں تو آپ کے لئے اس کے سوا چارہ نہیں کہ ۲۵ سال تک انتظار کریں۔ اس سے پہلے آپ کا بیج ایک سرسبز شاداب درخت کی صورت میں کھڑا نہیں ہو سکتا۔ اسی طرح قدرت کے تمام واقعات کے ظہور کے لئے ایک ’’وقت‘‘ مقرر ہے۔ کوئی واقعہ اپنے مقررہ وقت سے پہلے ظہور میں نہیں آتا۔

وقت سے مراد وہ مدت ہے جس میں ایک طریق عمل جاری ہوکر اپنی تکمیل کو پہنچتا ہے۔ قدرت کے پورے نظام میں یہی اصول کارفرما ہے۔ انسان کے سوا بقیہ کائنات میں یہ اصول براہ راست خدائی انتظام کے تحت قائم ہے اور انسان کو اپنے ارادہ کے تحت اس کو اپنی زندگی میں اختیار کرنا ہے۔ کائنات اپنے پورے نظام کے ساتھ انسان کو یہ عملی سبق دے رہی ہے کہ واقعات کے ظہور کے لئے وہ کون سی حقیقی تدبیر ہے جس کو اختیار کرکے آدمی اس دنیا میں کامیاب ہو سکتا ہے۔

شخصی زندگی کی تعمیر کا معاملہ ہو یا قومی زندگی کی تعمیر کا، دونوں معاملات میں انسان کے لئے واحد صورت یہ ہے کہ وہ ’’آغاز‘‘ سے اپنا سفر جاری کرے اور مطلوبہ مدت سے پہلے نتیجہ دیکھنے کی تمنا نہ کرے۔ ورنہ اس کا انجام اس مسافر کا ہوگا جو ایک دوڑتی ہوئی ٹرین میں بیٹھا ہو اور اسٹیشن کے آنے سے پہلے اسٹیشن پر اترنا چاہے۔ ایسا مسافر اگر وقت سے پہلے اپنے ڈبہ کا دروازہ کھول کر اتر پڑے تو اس کے بعد وہ جہاں پہنچے گا وہ قبر ہوگی نہ کہ اس کی مطلوبہ منزل۔ ــــــــ ہر کامیابی سب سے زیادہ جو چیز مانگتی ہے وہ وقت ہے۔ مگر کامیابی کی یہی وہ قیمت ہے جو آدمی دینے کے لئے تیار نہیں ہوتا۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1982 All issues

Printed page