Al-Risala · May 1982 · page 21

پتھر کا سبق

الرسالہ، مئی ۱۹۸۲، صفحہ ۲۱

مشکلیں ہیرو بنا دیتی ہیں :

اوہائیو اسٹیٹ یونیورسٹی (امریکہ) میں ایک ادارہ ہے جس کا نام ہے آفات و حوادث کی تحقیق کا مرکز (Disaster Research Centre) یہ ادارہ ۱۹۶۳ میں قائم ہوا۔ اب تک اس نے ایک سو سے زیادہ تعداد میں مختلف قسم کی بڑی بڑی انسانی آفتوں کا مطالعہ کیا ہے۔ اس نے پایا کہ غیر معمولی مشکل مواقع پر انسان کے اندر غیر معمولی طور پر کچھ نئی قوتیں ابھر آتی ہیں جو اس کو حوادث کا شکار ہونے سے بچاتی ہیں۔ مثلاً ۱۹۶۱ میں ٹیکساس میں زبردست قسم کا ساحلی طوفان آیا مگر اس طوفان میں اس علاقہ کے صرف آدھے ملین لوگوں نے اپنا مکان چھوڑا۔ ۷۰ فی صد سے زیادہ آبادی اپنے مکانوں میں جمی رہی۔ جب کہ اس طوفان کے آنے کی اطلاع چار دن پہلے دی جا چکی تھی۔ ۱۹۷۱ میں کیلیفورنیا کے زلزلہ میں ایک بہت بڑا ڈیم کمزور ہو گیا جس سے ۷۰ ہزار آبادی کے لئے سنگین خطرہ لاحق ہو گیا۔ مگر ایسے نازک حالات میں اپنے گھروں کو چھوڑ کر جانے والوں کی تعدا د صرف۷ فی صد تھی۔

تجربہ سے معلوم ہوا ہے کہ حادثات کا شکار ہو جانے کے بعد بھی اکثر لوگ پر امید رہتے ہیں۔ ٹیکساس کے دو شہروں میں ہولناک طوفان سے تباہ ہونے والے لوگوں سے ان کے مستقبل کے بارے میں پوچھا گیا۔ ۱۰ فی صد سے بھی کم لوگوں نے مستقبل کے بارے میں کسی اندیشہ کا اظہار کیا بقیہ تمام لوگ تباہی کے باوجود اپنے مستقبل کے بارے میں پر امید تھے۔ حوادث کے بارے میں اپنی لمبی تحقیق کا خلاصہ مذکورہ ادارہ کی رپورٹ میں ان الفاظ میں بتایا گیا ہے: واقعات کا مطالعہ بتاتا ہے کہ انسان مصیبتوں کے مقابلہ میں حیرت انگیز طور پر قایم یافتہ اور لچکدار واقع ہوئے ہیں۔ مصائب کے وقت انسان جس رویہ کا مظاہرہ کرتے ہیں، اس کو دہشت اور گھبراہٹ کے بجائے ہیرو ازم کے لفظ سے تعبیر کرنا زیادہ صحیح ہوگا۔

In conclusion, the reality of events suggests that human beings are amazingly controlled and resilient in the face of adversity. Perhaps heroism — not panic or shock — is the right word to describe their most common behaviour in time of disaster. انسان کو اس کے بنانے والے نے حیرت انگیز طور پر بے شمار صلاحیتیں عطا فرمائی ہیں۔ اسی میں سے ایک صلاحیت یہ ہے کہ عین بربادی کے کھنڈر میں کھڑا ہو کر بھی وہ ختم نہیں ہوتا بلکہ اپنی نئی تعمیر کا منصوبہ سوچتا ہے اور بہت جلد اپنے نقصانات کی تلافی کر لیتا ہے۔ انسان کے اندر یہ فطری امکان ہم کو بہت بڑا سبق دے رہا ہے۔ کوئی فرد یا قوم اگر کسی حادثہ کا شکار ہو جائے تو اس کو ماتم اور شکایت میں ایک لمحہ ضائع نہیں کرنا چاہیے بلکہ خدا کی دی ہوئی صلاحیت کو بروئے کار لا کر اپنے کو دوبارہ اٹھانے کی کوشش میں لگ جانا چاہئے۔ عین ممکن ہے کہ حالات نے جہاں آپ کی کہانی ختم کر دینی چاہی تھی وہیں سے آپ کی زندگی کے ایک نئے شان دار باب کا آغاز ہو جائے ۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1982 All issues

Printed page