Al-Risala · May 1982 · page 25

الٹا اہرام

الرسالہ، مئی ۱۹۸۲، صفحہ ۲۵

الٹا اہرام

دہلی کی سب سے اونچی عمارت وکاس مینار ہے۔ جب یہ عمارت بنی اور اخبار میں اس کی خبر چھپی تو خبر کا پہلا لفظ یہ تھا: "شہر کی ۲۱ منزلہ عمارت تیار ہوگئی'' ظاہر ہے عمارت اس طرح نہیں بنی کہ اس کی ۲۱ ویں منزل سب سے پہلے بن کر کھڑی ہوگئی ہو۔ عمارت کی تعمیر کا کام اس کی بنیاد سے شروع ہوا۔ پھر ہوتے ہوتے کئی سال میں اوپری منزل تک پہنچا۔ مگر خبر کی ترتیب میں ”۲۱ منزل“ کا لفظ سب سے پہلے تھا۔ اخباروں میں خبر مرتب کرنے کا یہی طریقہ رائج ہے۔ اس طریقہ کو صحافتی اصطلاح میں مثلث معکوس یا الٹا اہرام (Inverted Pyramid) کہتے ہیں۔ یعنی خبر کو اس کی اصلی ترتیب کے ساتھ بیان کرنے کے بجائے الٹی ترتیب کے ساتھ بیان کرنا۔ کوئی واقعہ جو ہماری زندگی میں پیش آتا ہے وہ ایک فطری ترتیب سے پیش آتا ہے۔ اس کی ایک ابتداء ہوتی ہے۔ پھر درمیانی اجزاء سامنے آتے ہیں۔ اس کے بعد اس کا آخری اور انتہائی جزرو وقوع میں آتا ہے۔ یہ واقعہ کی فطری ترتیب ہے۔ مگر اخباری رپورٹر کو معاملہ کی واقعاتی ترتیب سے دل چسپی نہیں ہوتی۔ اس کے پیش نظر صرف یہ ہوتا ہے کہ فورا کوئی بڑی سی بات کہہ کر قارئین کی توجہ اپنی طرف مائل کرلے۔ اسی لئے جب وہ خبر کو مرتب کرتا ہے تو وہ اس کی ترتیب کو الٹ دیتا ہے۔ اصل واقعہ کا جو جزو بالکل آخر میں پیش آیا تھا اس کو وہ آغاز میں رکھ دیتا ہے اور اس کے بعد پوری خبر بیان کرتا ہے۔ گویا کہ ”اہرام“ کے بننے کی ترتیب خبر کی صورت اختیار کرتے وقت الٹ جاتی ہے۔ اخباری رپورٹر ایسا اس لئے کرتا ہے تاکہ وہ پہلے ہی مرحلہ میں ناظرین کی توجہ اپنی طرف کھینچ سکے۔

”الٹا اہرام اخبار کے صفحات میں بن سکتا ہے مگر وہ زمین پر نہیں بن سکتا۔ اسی طرح ملت کے مستقبل کا قلعہ بھی الٹی سمت سے صرف الفاظ کی دنیا میں کھڑا کیا جاسکتا ہے وہ حقیقت کی دنیا میں وجود میں نہیں آسکتا۔ اگر آپ کو تعمیر ملت کی لفظی مہم چلانا ہے تو وہ ایک ”عہد آفریں“ اعلان یا ایک ”تاریخ ساز“ اجلاس کے ذریعہ آخری منزل سے بھی شروع ہوسکتی ہے۔ مگر کوئی واقعی تعمیر اس کے بغیر ممکن نہیں کہ ابتدائی مقام سے اپنے کام کا آغاز کیا جائے۔

الفاظ بولنے والا اپنے پہلے ہی جملہ میں آخری منزل پر چھلانگ لگا کر یہ کہہ سکتا ہے کہ ”شہر کی بیس منزلہ عمارت تیار ہوگئی“ لفظ بولنے والے کے لئے موقع ہے کہ وہ اپنے ”عمل“ کو آخری مرحلہ سے شروع کرے۔ مگر جو شخص ایک حقیقی واقعہ کو ظہور میں لانا چاہتا ہو اس کے لئے ضروری ہے کہ اپنے عمل کو ابتدا سے شروع کرے، وہ آخری منزل سے اپنے سفر کا آغاز نہیں کر سکتا۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1982 All issues

Printed page