Al-Risala · May 1982 · page 41

ناموافق حالات ترقی کا زینہ بن گئے

الرسالہ، مئی ۱۹۸۲، صفحہ ۴۱

ناموافق حالات ترقی کا زینہ بن گئے

ایک ملاجی دہلی کی ایک مسجد میں امام تھے امامت کے علاوہ ان کی ذمہ داری یہ بھی تھی کہ وہ روزانہ قرآن کا درس دیں۔ ان تمام خدمات کا معاوضہ تھا۔ ماہانہ ۲۵ روپے تنخواہ، مسجد میں ایک حجرہ اور دو وقت کا کھانا۔ نوجوان ملاجی اس مختصر معاوضہ پر قانع ہونے کے لئے تیار تھے۔ ان کا خیال تھا کہ یہ مسجد میرے لئے کم از کم ایک ٹھکانا تو ہے۔ یہاں رہ کر میں اپنے بچہ کی تعلیم پوری کرالوں گا، میں نہیں تو میرا بچہ مستقبل میں بہتر معاشی زندگی حاصل کرلے گا۔

مگر مسجد کے لوگوں کا سلوک ان کے ساتھ اچھا نہ تھا۔ ہر نمازی ان کو اپنا ملازم سمجھتا۔ ذرا ذرا سی بات میں ہر آدمی ان کے اوپر برس پڑتا اور ان کو ذلیل کرتا۔ کوئی فرش کے لئے، کوئی جھاڑو کے لئے، کوئی لوٹے کے لئے، کوئی کسی اور چیز کے لئے ان کو بگڑتا رہتا۔ وہ معاشی تنگی برداشت کر سکتے تھے۔ مگر ذلت ان کے لئے برداشت سے باہر تھی۔ بالآخر انہوں نے ایک نیا فیصلہ کیا۔ انھوں نے طے کیا کہ مجھے اپنی زندگی کو مستقل طور پر مسجد سے وابستہ نہیں رکھنا ہے بلکہ اپنے لئے کوئی دوسرا کام پیدا کرنا ہے۔ تاہم فوری طور پر مسجد چھوڑنا بھی برا تھا۔ کیونکہ مسجد کی امامت چھوڑنے کے بعد مسجد کا حجرہ ان سے چھن جاتا۔ اور شہر میں دوسری جگہ حاصل کرنا ان کے لئے ممکن نہ تھا۔ انھوں نے مسجد کی امامت کرتے ہوئے شہر کے طبیہ کالج میں داخلہ لے لیا اور خاموشی کے ساتھ طب کی تعلیم حاصل کرنے لگے۔ طبی تعلیم کی تکمیل میں ان کو پانچ سال لگ گئے۔ اس دوران میں وہ مسجد کے لوگوں کے برے سلوک کو پہلے سے بھی زیادہ خوش اسلوبی کے ساتھ برداشت کرتے رہے۔ نئے فیصلہ میں کامیاب ہونے کے لئے ضروری تھا کہ وہ صبر کریں۔ ذلت کی زندگی سے نکلنے ہی کی خاطر ذلت کی زندگی کو چند سال اور برداشت کریں۔ بالآخر وہ وقت آیا کہ انھوں نے طبی کالج سے ڈاکٹری کی سند حاصل کرلی۔ اب انھوں نے مسجد والوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے امامت سے استعفا دے دیا اور شہر کے ایک محلہ میں ایک جگہ کرایہ پر لے کر اپنا مطب کھول لیا۔ ان کی زندگی کے تلخ تجربات اور مستقبل کی خاطر ان کی طویل جدوجہد نے ان کو بہت کچھ سکھا دیا تھا۔ انھوں نے نہایت محنت اور ہوشیاری کے ساتھ اپنا مطب چلایا۔ صرف چھ ماہ بعد ان کی آمدنی اتنی ہوگئی کہ ایک مکان لے کر وہ بچوں کے ساتھ بفراغت رہنے لگے۔ ایک سال کے بعد انھیں مقامی طبی کالج میں لکچر کی جگہ بھی مل گئی۔ اس طرح ان کی معاشی زندگی میں مزید استحکام پیدا ہو گیا۔ کل کے ملاجی اب ڈاکٹر صاحب بن کر زندگی گزار رہے ہیں۔ ان کو عزت بھی حاصل ہے اور معاشی فارغ البالی بھی۔

زندگی کے ناموافق حالات زندگی کے نئے زینے ہوتے ہیں جن کو استعمال کر کے آدمی آگے بڑھ سکتا ہے۔ بشرطیکہ وہ ناموافق حالات سے نفرت اور شکایت کا سبق نہ لے۔ بلکہ مثبت ذہن کے تحت اپنے لئے نیا مستقبل بنانے میں لگ جائے۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1982 All issues

Printed page