بے کچھ سے سب کچھ تک
الرسالہ، مئی ۱۹۸۲، صفحہ ۴۷
بے کچھ سے سب کچھ تک
جو شخص کم فائوہ پر قناعت کرے گا وہ بڑے فائدہ کا مالک بنے گا ۔ یہ ایک ایسا بے خطا اصول ہے، جو اپنے اندر ابدی اہمیت رکھتا ہے۔ آپ جس معاملہ میں بھی اس کو آزمائیں گے یقینی طور پر آپ کامیاب رہیں گے۔
ایک شخص نے بازار میں چھوٹی سی دکان کھولی۔ وہ کپڑا دھونے کا صابن اور کچھ اور چیزیں بیچتا تھا۔ اس کی دکان پر بہت جلد بھیڑ لگنے لگی ۔ دن کے کسی وقت بھی اس کی دکان گاہکوں سے خالی نہ رہتی۔ اس کا راز یہ تھا کہ وہ دو روپے کا صابن پونے دو روپے میں بیچتا تھا۔ آدمی اگر چار صابن خریدے تو عام نرخ کے لحاظ سے اس کا ایک روپیہ بچ جاتا تھا۔ ایک آدمی نے تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ پونے دو روپیہ اس صابن کی تھوک قیمت ہے، دکان دار کو وہ صابن کارخانہ سے پونے دو روپے میں ملتا تھا اور اسی دام پر وہ اس کو گاہکوں کے ہاتھ فروخت کر دیتا تھا ۔
اس آدمی نے دکان دار سے پوچھا کہ تم دام کے دام صابن بیچتے ہو۔ پھر تم کو اس میں کیا فائدہ ملتا ہے۔ دکان دار نے کہا کہ میری دکان پر اتنا صابن بکتا ہے کہ اس کی ۲۵ پیٹیاں دن بھر میں خالی ہو جاتی ہیں ۔ میں ان خالی پیٹیوں کو ایک روپیہ فی پیٹی کے حساب سے ۲۵ روپیہ میں بیچ دیتا ہوں، اس طرح ہر روز میرے ۲۵ روپے بچ جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ جب آدمی میرے یہاں سے صابن لیتا ہے تو اکثر وہ کچھ نہ کچھ دوسری چیزیں بھی خرید لیتا ہے، یہ فائدہ اس کے علاوہ ہے۔
یہ دکان دار دھیرے دھیرے ترقی کرتا رہا۔ اس کا نفع پہلے ۲۵ روپے روز تھا۔ پھر ۵۰ روپے روز ہوا۔ پھر دہ سو روپے اور دو سو روپے روز تک پہنچا۔ آدمی نے پیسہ بچا کر اپنے بغل کی دکان بھی حاصل کرلی اور دونوں کو ملا کر ایک کافی بڑی دکان بنا لی۔ اب اس کا کاروبار اور بڑھا۔ یہاں تک کہ دس سال میں وہ شہر کا ایک بڑا دکان دار بن گیا۔
یہ واقعہ بتاتا ہے کہ موجودہ دنیا میں کامیابی حاصل کرنے کے امکانات کس قدر زیادہ ہیں ۔ حتیٰ کہ یہاں یہ بھی ممکن ہے کہ آدمی آج ”بے نفع کی تجارت شروع کرے اور کل وہ زبر دست نفع والا تاجر بن جائے ۔ آج وہ اپنے آپ کو ''بے کچھ “ پر راضی کرلے اور کل وہی شخص ہو جو "سب کچھ" کا مالک بنا ہوا ہو۔ مگر دنیا کے ان بے حساب امکانات کو اپنے حق میں واقعہ بنانے کی لازمی شرط صبر اور عقل مندی ہے۔ جس کے پاس صرف بے صبری اور نادانی کا سرمایہ ہو اس کے لئے دنیا کے بازار میں کچھ نہیں۔