جنت سب سے بڑا عطیہ
الرسالہ، جون ۱۹۸۲، صفحہ ۹
جنت سب سے بڑا عطیہ
زمین و آسمان کی تمام چیزیں خدا کو سجدہ کر رہی ہیں۔ مگر ایک انسان جب سجدہ کرتے ہوئے اپنا سر زمین پر رکھتا ہے تو یہ تمام عالمِ کائنات کا سب سے زیادہ عجیب واقعہ ہوتا ہے۔ کیونکہ دوسری چیزیں مجبورانہ سجدہ کر رہی ہیں ، جب کہ انسان شعور اور ارادہ کے تحت اپنا سر خدا کے آگے جھکا دیتا ہے انسان کے ذریعہ اس کائنات میں اختیاری محکومی کا واقعہ وجود میں آتا ہے جس سے بڑا کوئی دوسرا واقعہ نہیں۔ یہی انسان کی اصل قیمت ہے۔ انسان وہ نادر مخلوق ہے جو اس کائنات میں شعورِ قدرت کے مقابلہ میں شعورِ عجز کی دوسری انتہا بناتا ہے۔ وہ کائنات کے صفحہ پر" کے مقابلہ میں "نہیں" کا مضمون تحریر کرتا ہے۔ وہ خداوندی انا کے مقابلہ میں اپنے بے انا ہونے کا ثبوت دیتا ہے۔ وہ ہر قسم کا اختیار رکھتے ہوئے اپنے آپ کو خدا کے آگے بے اختیار کر لیتا ہے۔ وہ زبان رکھتے ہوئے خدا کی خاطر اس طرح چپ ہو جاتا ہے جیسے اس کے منھ میں زبان ہی نہیں۔ ایک شخص کا موحد بننا اس آسمان کے نیچے ظاہر ہونے والے تمام واقعات میں سب سے بڑا واقعہ ہے جس کا انعام کوئی سب سے بڑی چیز ہی ہو سکتی ہے ۔ اسی سب سے بڑی چیز کا نام جنت ہے۔ جنت کسی کے عمل کی قیمت نہیں ، جنت کسی بندے کے لئے خدا کی یہ بخشش ہے کہ اس کے بندے نے اپنے رب کو وہ چیز پیش کر دی جو کائنات میں کسی اور نے پیش نہ کی تھی، اس لئے خدا نے بھی اس کو وہ چیز دے دی جو اس نے کسی دوسری مخلوق کو نہیں دیا تھا۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1982 All issues