کامل دنیا
الرسالہ، جون ۱۹۸۲، صفحہ ۱۲
کامل دنیا
دنیا انتہائی لذیذ ہے مگر اس کی لذتیں چند لمحے سے زیادہ باقی نہیں رہتیں ۔ دنیا بے پناہ حد تک حسین ہے مگر اس کو دیکھنے والی آنکھ بہت جلد بے نور ہو جاتی ہے۔ دنیا میں عزت اور خوشی حاصل کرنا انسان کو کتنا زیادہ مرغوب ہے مگر دنیا کی عزت اور خوشی آدمی ابھی پوری طرح حاصل نہیں کر پاتا کہ اس پر زوال کا قانون جاری ہو جاتا ہے۔ دنیا میں وہ سب کچھ ہے جس کو انسان چاہتا ہے مگر اس سب کچھ کو حاصل کرنا انسان کے لئے ممکن نہیں، حتی کہ اس خوش قسمت انسان کے لئے بھی نہیں جو بظاہر سب کچھ حاصل کر چکا ہو۔ ہر آدمی کچھ ایسی محدودیتوں میں گھرا ہوا ہے کہ وہ پا کر بھی نہیں پاتا۔ کامیاب ہونے کے بعد بھی خوشیوں کا چمن اس کے لئے نہیں اگتا۔
انسان ایک کامل وجود ہے مگر اس کا المیہ یہ ہے کہ اس کو کامل دنیا حاصل نہیں ۔ انسان کی زندگی اس وقت تک بے معنی ہے جب تک اس کو ایک ایسی دنیا نہ ملے جو ہر قسم کی محدودیت اور ناموافق حالات سے پاک ہو۔
خدا نے یہ کامل دنیا جنت کی صورت میں بنائی ہے۔ مگر یہ دنیا کسی کو اپنے آپ نہیں مل سکتی۔ اس آنے والی مکمل دنیا کی قیمت موجودہ نامکمل دنیا ہے۔ جو شخص اپنی موجودہ دنیا کو آنے والی دنیا کے لئے قربان کر سکے وہی آنے والی جنتی دنیا کو پائے گا۔ جو شخص اس قربانی کے لئے تیار نہ ہو وہ بھی اگر چہ موت کے بعد ابدی دنیا میں داخل ہوگا، مگر اس کے لئے یہ ابدی دنیا حسرتوں اور مایوسیوں کی دنیا ہوگی نہ کہ خوشیوں اور لذتوں کی دنیا ۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1982 All issues