تاریکی ختم ہوگی
الرسالہ، جون ۱۹۸۲، صفحہ ۱۴
تاریکی ختم ہوگی
کائنات ایک انتہائی بامعنی کارخانہ ہے۔ کائنات کسی ایسی چیز کو قبول نہیں کرتی جو اس کے مزاج کے خلاف ہو، جو اس کی تخلیقی اسکیم کے مطابق نہ ہو۔ مگر کائنات کے سب سے زیادہ سرسبز اور قیمتی حصہ پر انسان ظلم و فساد جاری کئے ہوئے ہے۔ حق کے نام پر حق کو قتل کیا جا رہا ہے اور کائنات اپنی تمام معنویت کے با وجود خاموش کھڑی ہوئی ہے۔ وہ زمین پر سب کچھ ہوتے ہوتے دیکھتی ہے مگر اس کے بارے میں اپنا کوئی بیان نہیں دیتی۔ وہ سچ کو سچ نہیں کہتی اور جھوٹ کے جھوٹ ہونے کا اعلان نہیں کرتی۔
کیا کائنات کے اندر تضاد ہے ۔ کیا یہ ایک گونگی کائنات ہے۔ جس کائنات کے پاس سریلے نغمے بکھیرنے والی چڑیاں ہوں کیا اس کے پاس حق کا اعلان کرنے والی زبان نہیں۔ جواب یہ ہے کہ یقیناً ہے۔ مگر خدا نے اس کو قیامت تک خاموش رہنے کا حکم دے رکھا ہے۔ جیسے ہی صور پھونکا جائے گا تمام زبانوں کی مہریں ٹوٹ جائیں گی۔ اس وقت ساری کائنات ایک عظیم ریکارڈبن جائے گی اور پھر خدا کے گواہ کی حیثیت سے وہ سب کچھ بتائے گی جو حق اور عدل کے مطابق اسے بتانا چاہئے۔ اس وقت لوگوں کو معلوم ہوگا کہ جس کائنات کے پاس رات کو دن بنانے والا سورج موجود تھا اس کے پاس یہ بھی انتظام تھا کہ تاریکی میں چھپے ہوئے اعمال کو اجالے میں لاسکے۔
اس دن خدا کے سرکش بندے اپنی سرکشی کی ابدی سزا بھگتنے کے لئے جہنم کی آگ میں ڈال دئے جائیں گے اور خدا کے نیک بندے خدا کی رحمتوں کے سایہ میں جنت میں داخل کئے جائیں گے جہاں وہ عزت اور آرام کی ابدی زندگی کا لطف اٹھاتے رہیں گے۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1982 All issues