Al-Risala · June 1982 · page 20

مومن خدا کی انڈسٹری ہے

الرسالہ، جون ۱۹۸۲، صفحہ ۲۰

مومن خدا کی انڈسٹری ہے

ہر آدمی ایک انڈسٹری ہے۔ ایک شخص وہ ہے جس کی انڈسٹری سے صرف زہر اور انگارے برآمد ہوئے۔ اس کو جب موقع ملا تو اس نے اپنی بڑائی کا جھنڈا بلند کیا۔ اس کے پاس دولت آئی تو اس نے اس کو نمائشتی کاموں میں خرچ کیا۔ اس نے کسی کے اوپر غلبہ پایا تو اس کی بربادی کے منصوبے بنائے ۔ اس کو کسی سے اختلاف ہوا تو اس نے اسے کڑوی بات اور شیطانی عمل کا مزہ چکھایا۔ اس سے جب کسی کا معاملہ پڑا تو اس کو اس سے خود غرضی ، بے انصافی اور دھاندلی کا تجربہ ہوا۔

ایسا آدمی اپنے اندر جہنم کی انڈسٹری قائم کئے ہوئے ہے ۔ جو چیز بھی اس کے اندر داخل ہوتی ہے وہ زہر اور آگ اور بدبو بن کر باہر آتی ہے۔ موت کے بعد اس کی یہ پیداوار اسے گھیرلے گی۔ وہ اپنے آپ کو خود اپنے بنائے ہوئے جہنم میں پھنسا ہوا پائے گا۔ دوسرا انسان وہ ہے جس کو خدا نے بڑائی دی تو اس نے تواضع کی صورت میں اس کا رد عمل پیش کیا۔ اس کا احتساب کیا گیا تو اس نے عجز کی نفسیات کے ساتھ اس کو قبول کیا۔ اس کے پاس دولت آئی تو اس نے خدا کے راستہ میں اس کا استعمال ڈھونڈ نکالا ۔ اس کو اپنے آپ کو نمایاں کرنے کے مواقع ملے مگر وہ اپنے آپ کو خدا کی خاطر دفن کرنے پر راضی ہو گیا۔ اس نے لوگوں کے اوپر قابو پایا تو وہ ان کے لئے انصاف اور خیر خواہی کا پیکر بن گیا۔ یہ وہ شخص ہے جس نے اپنے اندر خدا کی انڈسٹری قائم کی۔ جو چیز بھی اس کے اندر داخل ہوئی وہ ربانی پیکر میں ڈھل کر باہر نکلی ۔ اس نے موجودہ دنیا میں پھول اور خوشبو کی فصل اگائی تھی ، آخرت میں وہ ہمیشہ کے لئے پھول اور خوشبو والے باغوں میں رہے گا۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 1982 All issues

Printed page