Al-Risala · July 1982 · page 29

پاره ۱۱

الرسالہ، جولائی ۱۹۸۲، صفحہ ۲۹

تذکیر القرآن ۲ یونس ۱۰ اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یرْجُوْنَ لِقَآءَنَا وَرَضُوْا بِالْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَاطْمَاَنُّوْا بِهَا وَالَّذِیْنَ هُمْ عَنْ اٰیٰتِنَا غٰفِلُوْنَ ؗ اُولٰٓئِكَ مَأْوَاهُمُ النَّارُ بِمَا كَانُوا یَكْسِبُونَ ؗ اِنَّ الَّذِیْنَ اَمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ یَهْدِیْهِمْ رَبُّهُمْ بِاِیْمَانِهِمْ ؗ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهِمُ الْاَنْهٰرُ فِیْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ ؗ دَعْوَاهُمْ فِیْهَا سُبْحٰنَكَ اللَّهُمَّ وَتَحِیَّتُهُمْ فِیْهَا سَلٰمُ ۚ وَاٰخِرُ دَعْوَاهُمْ اَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ؗۙ بے شک جو لوگ ہماری ملاقات کی امید نہوں رکھتے اور دنیا کی زندگی پر راضی اور مطمئن ہیں اور جو ہماری نشانیوں سے بے پروا ہیں، ان کا ٹھکانا جہنم ہو گا یہ سبب اس کے جو وہ کرتے تھے۔ بے شک جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کئے، اللہ ان کے ایمان کی بدولت ان کو پہنچا دے گا ۔ ان کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی نعمت کے باغوں میں۔ اس میں ان کا قول ہو گا کہ اے اللہ تو پاک ہے۔ اور ملاقات ان کی سلام ہوگی۔ اور ان کی خری بات یہ ہو گی کہ ساری تعریف اللہ کے لیے ہے جو رب ہے سارے جہان کا ۔ ۱۰۔۷ جہنم کس کے لئے ہےــــــ ان لوگوں کے لئے جو اس دن کو بھولے ہوئے ہوں جب کہ خدا سے ان کا سامنا ہو گا۔ جو آخرت کی ابدی نعمتوں کے مقابلہ میں دنیا کی عارضی چیزوں پر راضی ہو گئے ہوں۔ جن کا یہ حال ہو کہ دنیا میں انھیں جو کچھ امتحان کے طور پر ملا ہے اسی پر وہ مطمئن ہو جائیں۔ جو غیر خدائی چیزوں میں اتنا دل لگا لیں کہ خدا کی طرف سے ظاہر کی جانے والی حقیقتوں سے غافل ہو جائیں۔ یہ سب خدا کے نزدیک جہنمی راستوں میں چلنا ہے ، اور جو لوگ جہنمی راستوں میں چل رہے ہیں وہ آخر کار جہنم کے سوا اور کہاں پہنچیں گے۔ "اللہ انھیں ان کے ایمان کی وجہ سے جنت کی منزل تک پہنچائے گا" اس سے معلوم ہوا کہ ایمان آدمی کے لئے رہنمائی ہے۔ وہ آدمی کو غلط راہوں سے بچا کر صحیح راستہ پر چلاتا رہتا ہے، یہاں تک کہ اس کو حقیقی منزل تک پہنچا دیتا ہے۔

ایمان خدا کی دریافت ہے۔ جس آدمی کو ایمان حاصل ہو جائے اس کو علم کا سرا ہاتھ آ جاتا ہے، وہ اس قابل ہو جاتا ہے کہ ہر معاملہ میں صحیح مقام سے اپنی سوچ کا آغاز کر سکے۔ وہ فکری بے راہ روی سے بچ کر فکری صحت کا مالک بن جائے۔ مزید یہ کہ خدا کو ماننا کسی کتابی فلسفہ کو ماننا نہیں ہے۔ یہ ایک زندہ خدا کو ماننا ہے جو بالا آخر تمام انسانوں کو اپنے یہاں جمع کر کے ان کا حساب لینے والا ہے۔ اس طرح ایمان آدمی کے اندر اپنے انجام کے بارے میں اندیشہ کی کیفیت پیدا کر کے اس کو انتہائی سنجیدہ انسان بنا دیتا ہے۔ وہ اپنے کو مجبور پاتا ہے کہ پاره ۱۱

‹ Previous page Next page › Contents of July 1982 All issues

Printed page