Al-Risala · October 1982 · page 25

اللہ سے ڈرنے والے

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۲، صفحہ ۲۵

وقت میں تم کو بتادوں گا کہ تم کیسے عمل کر رہے تھے۔ اے بیٹے ، کوئی چیز رائی کے دانہ کے برابر ہو، وہ کسی چٹان میں ہو یا آسمانوں میں یا زمین میں ، اللہ اس کو نکال لائے گا وہ لطیف و خبیر ہے۔ بیٹے ، نماز قائم کر اور نیکی کا حکم دے اور بدی سے منع کر اور جو مصیبت پڑے اس پر صبر کر، بے شک یہ ہمت کے کام ہیں۔ اور لوگوں سے منہ نہ پھیر اور زمین میں اکڑ کر نہ چل ، اللہ کسی خود پسند اور فخر کرنے والے کو پسند نہیں کرتا۔ اور اپنی چال میں میانہ روی اختیار کر اور اپنی آواز کو پست رکھ، سب آوازوں سے زیادہ بری آواز گدھے کی آواز ہے (لقمان ۱۹ - ۱۳)

اللہ سے ڈرنے والے

لوگ تم سے انفال کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ کہو کہ انفال اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہیں۔ پس تم لوگ اللہ سے ڈرو اور آپس کے معاملات درست رکھو اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اگر تم مومن ہو۔ ایمان والے تو وہ ہیں کہ جب اللہ کا ذکر کیا جائے تو ان کے دل لرز جاتے ہیں اور جب اللہ کی آیتیں ان کے سامنے پڑھی جائیں تو ان کا ایمان بڑھ جاتا ہے اور وہ اپنے رب پر بھروسہ رکھتے ہیں۔ وہ نماز قائم کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔ یہی لوگ سچے مومن ہیں ، ان کے لئے ان کے رب کے پاس بڑے درجے ہیں اور بخشش ہے اور بہترین رزق ہے (الانفال ۴-۱)

حیات طیبہ

اللہ حکم دیتا ہے انصاف کا اور بھلائی کا اور قرابت والوں کے ساتھ صلہ رحمی کرنے کا اور وہ منع کرتا ہے بے حیائی سے اور بدی سے اور زیادتی سے ، اللہ تم کو نصیحت کرتا ہے تاکہ تم سبق لو اور اللہ کے عہد کو پورا کرو عہد کرنے کے بعد اور اپنی قسموں کو پختہ کرنے کے بعد نہ توڑو جب کہ تم اللہ کو اپنے اوپر ضامن بنا چکے ہو ، اللہ جانتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو۔ اور تم اس عورت کی طرح نہ ہو جاؤ جس نے محنت سے سوت کاتا اور پھر اس کو توڑ ڈالا ، تم اپنی قسموں کو ایک دوسرے کے معاملات میں دخل دینے کا بہانہ بناتے ہو تاکہ ایک گروہ دوسرے گروہ سے بڑھ جائے۔ بے شک اللہ اس کے ذریعہ تم کو پرکھتا ہے اور وہ قیامت کے دن تمھارے اختلاف کی حقیقت کھول دے گا۔ اور اگر اللہ چاہتا تو وہ تم سب کو ایک امت بنا دیتا۔ مگر وہ جس کو چاہتا ہے سیدھا راستہ دکھا دیتا ہے اور ضرور تم سے تمھارے اعمال

‹ Previous page Next page › Contents of October 1982 All issues

Printed page