جنتی انسان
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۲، صفحہ ۲۷
جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے (الاعراف ۳۶ - ۳۳)
جنتی انسان
بے شک انسان بے صبر پیدا کیا گیا ہے۔ اس پر مصیبت آتی ہے تو گھبرا اُٹھتا ہے۔ اور جب اس کو خوش حالی نصیب ہوتی ہے تو بخیل بن جاتا ہے، سوائے ان لوگوں کے جو نماز پڑھنے والے ہیں ۔ جو اپنی نماز کی ہمیشہ پابندی کرتے ہیں۔ جن کے مالوں میں سائل اور محروم کا مقرر حق ہے۔ اور جو روزِ جزا کو سچا مانتے ہیں اور جو اپنے رب کے عذاب سے ڈرنے والے ہیں۔ ان کے رب کا عذاب اور جو اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں۔ بجز اپنی بیویوں اور اپنی مملوکہ عورتوں کے کہ ان کے لئے ان پر کوئی ملامت نہیں۔ البتہ جو اس کے علاوہ کچھ اور چاہیں تو وہی ہیں حد سے نکل جانے والے ہیں۔ اور جو اپنی امانتوں کی اور اپنے عہد کی حفاظت کرتے ہیں۔ اور جو اپنی گواہیوں میں سچائی پر قائم رہتے ہیں۔ اور جو اپنی نماز کی حفاظت کرتے ہیں۔ یہی لوگ عزت کے ساتھ جنت کے باغوں میں رہیں گے (المعارج ۳۵ - ۱۹)
اطمینان والی روح
انسان کا حال یہ ہے کہ اس کا رب جب اس کو آزماتا ہے اور اس کو عزت اور نعمت دیتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ میرے رب نے مجھ کو عزت دار بنایا۔ اور جب اس کو دوسری طرح آزماتا ہے اور اس کی روزی اس پر تنگ کر دیتا ہے تو وہ کہنے لگتا ہے کہ میرے رب نے مجھ کو ذلیل کر دیا۔ ہرگز نہیں۔ بلکہ تم لوگ یتیم کے ساتھ عزت کا سلوک نہیں کرتے۔ میراث کا مال سمیٹ کر کھا جاتے ہو۔ اور مال کی محبت میں بری طرح پڑے ہوئے ہو۔ ہرگز نہیں۔ جب زمین کو توڑ توڑ کر ریزہ کر دیا جائے گا اور تمھارا رب ظاہر ہو گا اور فرشتے قطار در قطار آئیں گے۔ اور جہنم اس روز سامنے لائی جائے گی، اس دن انسان کو سمجھ آجائے گی۔ مگر اب سمجھ میں آنے کا موقع کہاں۔ آدمی کہے گا، کاش میں نے اپنی اس زندگی کے لئے آگے کچھ بھیجا ہوتا۔ اس دن اللہ جو عذاب دے گا ویسا عذاب دینے والا کوئی نہیں۔ اور اللہ جیسا باندھے گا ویسا باندھنے والا کوئی نہیں۔ اے اطمینان والی روح، چل اپنے رب کی طرف اس حال میں کہ تو اللہ سے راضی، اللہ تجھ سے راضی۔ شامل ہو جا میرے بندوں میں اور داخل ہو جا میری جنت میں (الفجر ۳۰- ۱۵)
‹ Previous page Next page › Contents of October 1982 All issues