حضرت محمد
الرسالہ، نومبر ۱۹۸۲، صفحہ ۱۳
حضرت محمد
جب وقت حضرت محمد صاحب کے ظہور کا ہوا، ملک عرب میں بہت سی مذہبی، مجلسی اور اخلاقی برائیاں پھیلی ہوئی تھیں، انسانی زندگی کو لوگ کھلونوں کی طرح بے حقیقت سمجھتے تھے۔ ذرا سی بات پر کسی کی جان لے لینا ان کے لئے محض تماشا تھا۔ عورتوں کو بہت ذلیل سمجھا جاتا تھا۔ ایک ایک مرد آٹھ آٹھ دس دس بلکہ اس سے بھی زیادہ شادیاں کر سکتا تھا۔ لڑکیوں کا پیدا ہونا بہت برا خیال کیا جاتا تھا۔ لڑکیوں کو زندہ قبر میں دبا دیا جاتا تھا۔ غلاموں کی تجارت عام تھی۔ شراب خوری کی یہ حالت تھی کہ لوگوں کے گھروں میں گھڑے کے گھڑے بھرے رکھے رہتے تھے۔ لوگ شراب میں بدمست ہو کر بہت سی بے ہودہ کارروائیاں کرتے تھے۔ قمار بازی بہت زوروں پر تھی۔ بت پرستی کا یہ حال تھا کہ ہر ایک گھرانے اور خاندان میں علیحدہ علیحدہ بت موجود تھے۔
عرب کی اس افسوس ناک حالت کا نقشہ مولانا حالی صاحب نے اپنی مشہور نظم مسدس حالی میں خوب کھینچا ہے۔ جب عرب کی یہ حالت تھی تو ضر درہی تھا کہ اس کو دور کرنے کے لئے خدا وند تعالیٰ کے اٹل قانون کے مطابق کوئی اس خاص بندہ آتا اور اس حالت کو دور کرتا۔
چنانچہ قریش قبیلے میں عبد المطلب کے بیٹے عبد اللہ کے ہاں ۲۹ را گست ۵۷۱ء کو حضرت محمد صاحب پیدا ہوئے۔ مگر افسوس کہ ان کے باپ ان کی پیدائش سے چند ماہ پیشتر ہی چو بیس برس کی عمر میں اس جہان سے چل بسے تھے، اور ان کے دادا عبد المطلب نے ان کی پرورش کا انتظام کیا۔ کچھ روز ان کی والدہ حضرت آمنہ نے انہیں اپنا دودھ پلایا پھر ان کو ایک دایہ حلیمہ نامی کے سپرد کر دیا۔ ابھی چھ سال کے ہونے نہ پائے تھے کہ والدہ کا سایہ سر سے اٹھ گیا ۔ اور کچھ عرصے بعد ان کے دادا بھی انتقال فرما گئے، اب ان کی پرورش ان کے چچا ابو طالب کے ذمے ہوئی۔
ان میں شروع سے ہی غور و فکر کی عادت تھی۔ اکثر چپ چاپ بیٹھے زندگی کے مختلف مسائل سوچا کرتے تھے۔ ان کے چچا ان کا دل بہلانے اور کچھ کاروبار سکھلانے کی غرض سے ، جب وہ تجارت کے سلسلے میں باہر جاتے تو انہیں اپنے ساتھ لے جاتے۔ قدرت نے ان کے اندر شروع سے ہی راست بازی اور دیانت داری کوٹ کوٹ کر بھر دی تھی۔ بہت سے لوگ آکر ان سے اپنے جھگڑوں اور تنازعوں کا فیصلہ کراتے تھے۔ ان سفروں میں پہاڑوں اور سمندروں کے نظاروں نے ان کے دل پر خدا کی قدرت کا سکہ خوب بٹھا دیا۔
جب ان کی عمر پچیس برس کی تھی۔ تو انہیں خدیجہ نامی ایک بیوہ نے ان کی شہرت اور دیانت داری کا حال سن کر بلا بھیجا۔ اور بہت سا مال دے کر تجارت کی غرض سے یمن کی طرف بھیجا۔ انہیں چچا کے ساتھ رہتے رہتے تجارت کا کافی تجربہ ہو گیا تھا۔ انھوں نے خدیجہ کے مال کو بہت نفع پر فروخت کیا۔ ان کو دو گنی تنخواہ پیش کی گئی۔ اور ان کی خوبیوں سے
‹ Previous page Next page › Contents of November 1982 All issues