پیغمبر اسلام
الرسالہ، نومبر ۱۹۸۲، صفحہ ۲۴
پیغمبر اسلام
مسلم مؤرخین کے مطابق، محمدﷺ ۲۰ اپریل ۵۷۱ کو عرب کے صحرا میں پیدا ہوئے ۔ آپ کے نام کا مطلب ہے "بہت تعریف کیا ہوا"۔ میرے نزدیک وہ تمام فرزندانِ عرب میں سب سے زیادہ عالی دماغ انسان تھے۔ سرخ ریت کے اس ناقابلِ عبور صحرا میں جتنے شاعر اور بادشاہ ان سے پہلے یا ان کے بعد ہوئے ، ان سب پر وہ بدرجہا زیادہ فوقیت رکھتے تھے۔ محمدﷺ کا ظہور ہوا تو عرب ایک صحرا تھا، وہ کچھ بھی نہ تھا۔ خالی صحرا سے محمدﷺ کی طاقت اور روح نے ایک نئی دنیا بنائی ۔ نئی زندگی ، نیا کلچر، نئی تہذیب اور نئی سلطنت پیدا کی جو مراکش سے انڈیز تک پھیلی ہوئی تھی اور جس نے تین براعظموں (ایشیا، افریقہ، یورپ) کے خیالات اور زندگی کو متاثر کیا۔
میری اس تحریر کا موضوع ایک ایسے مذہب کے اصولوں کی بابت لکھنا ہے جو کہ تاریخی ہے اور اس کا پیغمبر بھی ایک تاریخی شخصیت ہے۔ سر ولیَم میور جیسا ایک معاند ناقد بھی قرآن کے بارے میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے لکھتا ہے : " دنیا میں غالباً قرآن کے سوا کوئی وہسری کتاب نہیں ہے جس کا متن بارہ سو سال گزرنے کے بعد بھی اس درجہ خاص صورت میں محفوظ ہو"۔ میں یہ بھی اضافہ کروں گا کہ حضرت محمدﷺ ایک تاریخی شخصیت ہیں ۔ آپ کی زندگی کا ہر واقعہ نہایت احتیاط سے منضبط کیا گیا ہے حتیٰ کہ چھوٹی چھوٹی تفصیلات بھی آئندہ نسلوں کے لئے محفوظ کر دی گئی ہیں ۔ آپ کی زندگی اور آپ کا کام پراسراریت کے پردہ میں چھپا ہوا نہیں ہے۔ یہ ضرورت نہیں ہے کہ ایک شخص صحیح معلومات کے لئے اس مشکل مہم کو سر کرے کہ وہ بھُس کے ڈھیر میں سے چھان کر سچائی کے دانے نکالے۔
میرا کام اس لئے بھی ہلکا ہو چکا ہے کہ وہ زمانہ اب بہت تیزی سے رخصت ہو رہا ہے جب کہ کچھ ناقدین سیاسی اور غیر سیاسی وجوہ سے اسلام کو بہت بگاڑ کر پیش کرتے تھے۔ پروفیسر ہیوان "کیمبرج میڈیول ہسٹری" میں لکھتے ہیں " محمدﷺ اور اسلام کے بارے میں کتابیں جو یورپ میں ۱۹ ویں صدی کے آغاز سے پہلے چھپتی تھیں آج ان کو محض قلمی عجوبہ سمجھا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر اسلام اور تلوار کا نظریہ آج کہیں بھی قابلِ لحاظ نہیں سمجھا جاتا ۔ اسلام کا یہ اصول کہ مذہب میں کوئی زبردستی نہیں، آج سب کو پوری طرح معلوم ہے۔ مشہور مورخ گبن نے لکھا ہے " مسلمانوں کی طرف ایک مجرمانہ اصول منسوب کیا جاتا رہا ہے کہ ہر مذہب کو تلوار کے زور سے ختم کر دیا جائے" مگر گبن کہتا ہے کہ جہالت اور تعصب کا یہ الزام قرآن سے، مسلم فاتحین کی تاریخ سے نیز مسلم عوام کے رویہ سے غلط ثابت ہوتا ہے جو کہ ہمیشہ قانونی اور سماجی طور پر مسیحی عبادت کے ساتھ رواداری کا طریقہ اختیار کرتے رہے ہیں محمدﷺ کی زندگی کی عظیم کامیابی صرف اخلاقی طاقت کے ذریعہ ہوئی ، تلوار کی کسی مار کے بغیر۔
قدیم زمانہ میں عربوں کا یہ حال تھا کہ اتنی معمولی سی بات پر دو چالیس سال تک لڑتے رہے کہ ایک قبیلہ کا ایک اونٹ بھٹک کر دوسرے قبیلہ کی چراگاہ میں چلا گیا۔ اس جنگ میں دونوں قبیلوں کے ستر ہزار آدمی مارے گئے
‹ Previous page Next page › Contents of November 1982 All issues