پیغمبر اسلام
الرسالہ، نومبر ۱۹۸۲، صفحہ ۲۷
لئے اذان دینے کا کام ابتدائی اسلام کے زمانے میں ایک عزت کا کام سمجھا جاتا تھا اور یہ باعزت کام اس نیگر و غلام کے سپرد کیا گیا تھا۔ مکہ فتح ہونے کے بعد، پیغمبر نے ان کو حکم دیا کہ وہ نماز کے لئے اذان دیں۔ اور یہ نیگر و غلام، اپنے کالے رنگ اور اپنے موٹے ہونٹوں کے ساتھ مقدس کعبہ کی چھت پر کھڑا ہوا، جو کہ اسلامی دنیا میں سب سے زیادہ تاریخی اور سب سے زیادہ مقدس جگہ ہے۔ اس وقت کچھ مغرور عرب تکلیف کے ساتھ بولے : اُف، یہ کالا حبشی غلام، برا ہو اس کا۔ وہ مقدس کعبہ کی چھت پر کھڑا ہوا ہے اذان دینے کے لئے! “ غرور اور تعصب کا یہ مزاج پیغمبر اسلام ختم کرنا چاہتے تھے۔ اس لئے آپ نے اس کا جواب دیتے ہوئے اپنی ایک تقریر میں کہا : ساری حمد اور شکر اللہ کے لئے ہے جس نے ہم کو جاہلیت کے زمانے کے فخر اور برائی سے نجات بخشی ہے۔ اے لوگو! یاد رکھو، تمام انسان صرف دو قسموں میں بٹے ہوئے ہیں، متقی اور اللہ سے ڈرنے والے جو اللہ کے پسندیدہ بندے ہیں۔ دوسرے گنہگار اور سخت دل جو اللہ کے نزدیک حقیر اور بے قیمت ہیں۔ تمام انسان آدم کی اولاد ہیں اور آدم کو خدا نے مٹی سے پیدا کیا تھا۔ یہی بات قرآن میں اس طرح کہی گئی ہے : اے لوگو! ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا ہے اور تم کو مختلف قومیں اور مختلف خاندان بنا دیا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو۔ یقیناً اللہ کے نزدیک تمھارا سب سے باعزت وہ ہے جو سب سے زیادہ پر ہیز گار ہو۔ اللہ خوب جاننے والا پوری طرح خبردار ہے (حجرات ) پیغمبر اسلام نے اس طرح اتنی زبر دست تبدیلی پیدا کی کہ وہ لوگ جو خالص عرب تھے اور اعلیٰ ترین خاندان سے تعلق رکھتے تھے، انھوں نے اپنی لڑکیاں اس نیگر و غلام کے لئے شادی میں پیش کیں۔ اسلام کے دوسرے خلیفہ جو عمر فاروق کے نام سے مشہور ہیں، جب وہ اس نیگر و غلام کو دیکھتے تو وہ فوراً ان کی تعظیم کے لئے کھڑے ہو جاتے اور ان الفاظ کے ساتھ ان کا استقبال کرتے : یہ ہمارے معلم آگئے، یہ ہمارے سردار آگئے! قرآن اور محمد کے ذریعہ کیسا حیرت ناک انقلاب تھا جو عربوں کے درمیان آیا، وہ عرب جو اس زمانہ میں سب سے زیادہ مغرور قوم کی حیثیت رکھتے تھے یہی وجہ ہے کہ عظیم ترین جرمن شاعر گوئٹے نے قرآن پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا : ”یہ کتاب تمام زمانوں میں سب سے زیادہ مؤثر کتاب کی حیثیت سے باقی رہے گی“ اور یہی وجہ ہے کہ برنارڈ شا کو یہ کہنا پڑا ”اگر کوئی مذہب ہے جو انگلینڈ، نہیں بلکہ یورپ پر اگلے .. اصل کے اندر حکومت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے تو وہ اسلام ہے! “ اسلام کی یہی جمہوری اسپرٹ ہے جس نے عورت کو مرد کی غلامی سے نکالاـــــــسر چارلس ایڈورڈ آرچیبالڈ ہیملٹن نے کہا ہے : ”اسلام بتاتا ہے کہ انسان پیدائشی طور پر بے گناہ ہے۔ وہ بتاتا ہے کہ مرد اور عورت دونوں ایک ہی جوہر سے پیدا ہوئے ہیں، دونوں کے اندر ایک ہی روح ہے اور دونوں ذہنی، روحانی اور اخلاقی ترقی کی یکساں قابلیت رکھتے ہیں! “ عربوں کے یہاں یہ زبر دست روایت چلی آ رہی تھی کہ وراثت کا حق دار وہی ہے جو برچھا چلاتا ہے اور تلوار کے قبضہ کو پکڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ مگر اسلام صنف نازک کا حامی بن کر ظاہر ہوا اور عورتوں کو یہ حق دیا کہ وہ اپنے سر پرستوں کی وراثت میں حصہ دار بن سکتی ہیں۔ اسلام بہت پہلے عورت کو یہ دے چکا تھا کہ وہ جائداد کی مالک بن سکتی ہیں۔ اس کے بارہ صدیوں بعد ایسا ہو سکا کہ ۱۸۸۱ میں انگلستان نے، جو کہ جمہوریت کا گہوارہ سمجھا جاتا ہے، اسلام کی اس تعلیم کو
‹ Previous page Next page › Contents of November 1982 All issues