پیغمبر اسلام
الرسالہ، نومبر ۱۹۸۲، صفحہ ۲۹
بری چیز کا سایہ ہے۔ انھں نے آپ کے علاج کے لئے تشدد کو بھی اپنایا۔ لیکن ان میں جو عمدہ ترین لوگ تھے انھوں نے دیکھا کہ ایک نیا نور آپ پر نازل ہوا ہے اور انھوں نے اس نور کو پانے کے لئے پیش قدمی کی۔ پیغمبر اسلام کی تاریخ کا قابل ذکر واقعہ ہے کہ آپ کے قابل ترین رشتہ دار، چچا زاد بھائی، آپ کو قریب سے جاننے والے عزیز، دوست، سب پر آپ کے پیغام کا گہرا اثر ہوا اور سب آپ کے خدائی الہام کی صداقت سے متاثر ہوئے۔ اگر یہ شریف ذی عقل، صاحب علم اور آپ کی ذاتی زندگی کو قریب سے جاننے والے مرد اور عورت آپ کے اندر ذرہ برابر بھی حیلہ سازی، دھوکہ، دنیا داری یا ایمان کی کمی پاتے تو اخلاقی زندگی، روحانی بیداری اور اجتماعی اصلاح کے بارے میں محمدؐ کا منصوبہ ناکام ہو گیا ہوتا اور ساری عمارت چند لمحوں میں ٹوٹ کر زمین پر آر ہتی اس کے برعکس ہم پاتے ہیں کہ آپ کے ماننے والے آپ پر اتنا زیادہ فدا تھے کہ خود اختیاری طور پر انھوں نے آپ کو اپنی زندگی کا قائد مان لیا تھا۔ انھوں نے آپ کی خاطر ظلم اور بھوک کا مقابلہ کیا۔ شدید ترین تشدد اور قبیلہ سے اخراج کی وجہ سے انتہائی ذہنی کرب کے باوجود آپ کے لئے ان لوگوں کا ایمان، بھروسہ، اطاعت اور تعظیم برقرار رہی۔ اگر انھوں نے اپنے لیڈر میں ذرا سی بھی خامی دیکھی ہوتی تو کیا ایسا ہو سکتا تھا۔
اسلام کے ابتدائی مومنین کی تاریخ پڑھیے تو بے گناہ مردوں اور عورتوں پر ہونے والے ظلم سے ہر دل دہل اٹھے گا۔ معصوم عورت سمیہ کو نیزے مار مار کر ٹکڑے کر دیا گیا۔ خباب بن ارت کو جلتے ہوئے کوئلے پر لیٹنے پر مجبور کیا گیا۔ اور وہ بھی اس حال میں کہ بے رحم ظالم اپنا پیران کے سینے پر رکھے ہوئے تھا، تاکہ وہ حرکت نہ کر سکیں جس کی وجہ سے ان کی جلد کے اندر کی چربی پگھل گئی۔ خباب بن عدی کو ظالمانہ طور سے جسم کے ایک حصہ کو کاٹ کر اور ان کا زندہ گوشت تراش کر ہلاک کیا گیا اور جب اس ظلم کے درمیان ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ یہ تمنا نہیں کرتے کہ خود محمدؐ ان کی جگہ ہوتے جو کہ اس وقت اپنے گھر میں اپنے خاندان کے ساتھ تھے۔ اس حالت میں بھی مظلوم نے چیخ کر کہا کہ اگر محمدؐ کو کانٹا بھی چبھے تو وہ خود کو اور اپنے پورے خاندان کو قربان کر دیں گے تاکہ آپ کو کانٹے کی تکلیف نہ ہو۔ اس قسم کے درجنوں دل سوز واقعات بیان کئے جاسکتے ہیں۔ لیکن یہ واقعات کیا ظاہر کرتے ہیں ؟ ایسا کیوں ہوا کہ اسلام کے ان مرد و عورت جاں نثاروں نے نہ صرف اپنا ایمان محمدؐ کے حوالے کر دیا، بلکہ انھوں نے اپنے جسموں، دلوں اور روحوں کو بھی آپ پر نچھاور کر دیا۔ کیا محمدؐ کے قریب ترین معتقدین کا یہ مضبوط ایمان و یقین اس بات کی اعلیٰ ترین گواہی نہیں ہے کہ آپ اپنے پیغام کے بارے میں مخلص تھے اور اپنے کام میں انتہائی حد تک خود کو کھپائے ہوئے تھے۔
اور یہ لوگ معمولی حیثیت یا کمتر ذہنی سطح کے لوگ نہیں تھے۔ بالکل ابتدائی دور سے ہی، آپ کے گرد نکہ کا مکھن جمع ہو گیا تھا۔ یہ شریف ترین لوگ تھے جو کہ منصب، جاہ، ثروت اور ثقافت کے مالک تھے۔ ان میں آپ کے قریبی رشتہ دار بھی تھے جو کہ آپ کی زندگی کے داخلی اور خارجی پہلوؤں سے خوب واقف تھے۔ اور آپ کے بعد اسلام کے پہلے چار خلیفہ بھی اسی ابتدائی زمانہ کے مومنین میں سے تھے جنھوں نے عظیم ذمہ داریاں اٹھائیں۔ انسائیکلو پیڈیا یا ٹرینیکا کا کہنا ہے کہ "محمدؐ تمام نبیوں اور دینی شخصیات میں سب سے زیادہ کامیاب ہیں۔ لیکن یہ کامیابی کسی اتفاقی واقعہ کی
‹ Previous page Next page › Contents of November 1982 All issues