پیغمبر اسلام
الرسالہ، نومبر ۱۹۸۲، صفحہ ۳۵
کے تصورات کا تعین، جاہل وحشی اور عقل مند فلسفی دونوں کے لیے یکساں طور پر مناسب اور بدلنے کی صلاحیت رکھنے والا ہونا ان تعلیمات کی خصوصیات میں سے ہے۔
لیکن یہ بات ٹھیک سے ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ اچھے اعمال کی تاکید اعتقاد کی درستگی کو قربان کر کے نہیں کی گئی ہے۔ ایسے مدارس فکر بھی ہیں جو اعمال کو قربان کر کے متعینہ اعتقاد کی دعوت دیتے ہیں، یا اعتقاد کو قربان کر کے عمدہ اعمال کی دعوت دیتے ہیں، لیکن اسلام صحیح اعتقاد اور صحیح اعمال پر قائم ہے۔ وسائل اتنے ہی اہم ہیں جتنے نتائج ۔ اور نتائج اتنے ہی اہم ہیں جتنے وسائل ۔ ان دونوں کے درمیان زندہ وحدت ہے۔ دونوں ایک ساتھ زندہ ہیں اور نشوونما پاتے ہیں۔ اگر آپ ان دونوں کو الگ الگ کر دیں تو دونوں میں اضمحلال پیدا ہو جائے گا اور دونوں کا خاتمہ ہو جائے گا۔ اسلام میں عقیدہ کا تعلق اعمال سے ختم نہیں کیا جا سکتا ہے۔ صحیح علم کو صحیح عمل میں تبدیل کر کے صحیح نتائج حاصل کیے جاتے ہیں ۔ " جو ایمان لاتے ہیں اور اچھے اعمال کرتے ہیں وہی جنت میں داخل ہوں گے"۔ یہ الفاظ قرآن میں بار بار کم از کم پچاس بار دہرائے گئے ہیں۔ غور و فکر کی ہمت افزائی کی گئی ہے، لیکن غور و فکر خود ایک مقصد نہیں ہے۔ اسلام کے دائرہ میں ان لوگوں کا وجود نہیں ہے جو اعتقاد تو رکھتے ہیں لیکن ان پر عمل نہیں کرتے۔ ایسے لوگوں کا تصور بھی ناقابل فہم ہے جو ایمان تو رکھیں لیکن عمل غلط کریں۔ الہی قانون صرف معیاروں کا قانون نہیں، بلکہ محنت عمل کا قانون ہے۔ الہی قانون نے انسان کے لیے دائمی ترقی کا راستہ بتایا ہے جس میں انسان علم سے عمل کی طرف اور عمل سے اطمینان کی طرف ترقی کرتا ہے۔
وہ صحیح اعتقاد کون سا ہے جس سے صحیح عمل خود بخود ابلتا ہے اور جس سے مکمل سکینت حاصل ہوتی ہے ؟ یہ مرکزی اعتقاد توحید ہے۔ "خدا کے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے" کا اعتقاد ہی وہ محور ہے جس کے گرد اسلام کی ساری تعلیمات اور سارے اعمال گھومتے ہیں۔ خدا ہر طرح سے ایک نادر شے ہے، نہ صرف اپنے الہی وجود کی وجہ سے بلکہ اپنی الہی صفات کی وجہ سے بھی۔
تھامس کارلائل نے لکھا ہے کہ اسلامی تعلیم کے مطابق ہماری ساری طاقت خدا کی اطاعت میں چھپی ہوئی ہے۔ چاہے وہ ہمارے ساتھ کچھ بھی کر رہا ہو، چاہے وہ موت یا موت سے بدتر کوئی چیز بھیج رہا ہو، وہ بہر حال ہمارے لئے اچھی ہے اور یوں ہم اپنے کو خدا کے سپرد کر دیتے ہیں۔ کارلائل مزید لکھتا ہے "گوئٹے کا کہنا ہے کہ اگر اسلام یہی ہے تو کیا ہم سب اسلام میں نہیں رہ رہے ہیں۔ ہاں ہم سب جو اخلاقی زندگی رکھتے ہیں اسلام ہی میں رہ رہے ہیں۔ یہ وہ سب سے بڑی حکمت ہے جو کہ اب تک آسمان نے زمین پر آشکارا کی ہے۔ نوٹ: یہ مضمون ایک انگریزی کتاب "محمدی پرافت آف اسلام"، کے کچھ اجزاء کا ترجمہ ہے۔ یہ کتاب پر فیسر کے۔ ایس۔ راما کرشنا راؤ (ریٹائرڈ ڈیپارٹمنٹ آف فلاسفی گورنمنٹ کالج فارومین، میسور) کی لکھی ہوئی اور بورڈ آف اسلامک پبلی کیشنز دہلی کی طرف سے پہلی بار ۱۹۷۹ میں شائع ہوئی ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 1982 All issues