Al-Risala · November 1982 · page 44

آپ سب سے بڑے تھے

الرسالہ، نومبر ۱۹۸۲، صفحہ ۴۴

کی مرکزیت اور یہ واقعہ کہ وہ عربی زبان میں لکھا گ ہے ، اس نے غالباً عربی کو اس سے بچایا ہے کہ وہ مختلف اور ایک دوسرے کے لئے ناقابل فہم زبانوں میں تقسیم ہوجائے۔ حالاں کہ درمیانی تیرہ صدیوں میں ایسا ہونا یا بالکل قرین قیاس تھا۔ عرب ریاستوں میں اختلاف اور تقسیمیں یقیناً موجود ہیں اور وہ قابلِ لحاظ ہیں، مگر جزی کی عدم اتحاد کو دیکھ کر ہمیں اتنا اندھا نہیں ہونا چاہئے کہ ہم ان اہم اتحادی اجزاء کو نہ دیکھیں جو مسلسل ان کے درمیان پائے جارہے ہیں۔ مثال کے طور پر ۱۹۷ء کی سردیوں میں عربوں نے تیل کا بائیکاٹ کیا تو ایران اور انڈونیشیا اس میں شریک نہیں ہوئے۔ مگر یہ محض اتفاق نہیں ہے کہ تمام عرب ریاستیں اور صرف عرب ریاستیں اس منصوبے میں شریک ہوئیں۔

ہم دیکھ رہے ہیں کہ ساتویں صدی میں عربوں کی فتوحات انسانی تاریخ میں مسلسل اہم حصہ ادا کر رہی ہیں۔ یہ سلسلہ اب تک جاری ہے۔ مذہبی اور دنیاوی اثرات کا یہی بے نظیر اجتماع ہے جو میری نظر میں محمد کو اس لائق بناتا ہے کہ ان کو تاریخ کا سب سے زیادہ با اثر واحد شخص قرار دیا جائے ۔ (انگریزی سے ترجمہ)

یہ مضمون مائیکل ہارٹ (پیدائش ۱۹۳۲) کی کتاب ایک سو (100 The) سے ماخوذ ہے۔ مصنف ایک امریکی عالم فلکیات ہیں اور اسی کے ساتھ مورخ بھی۔ انھوں نے اور ان کی اعلیٰ تعلیم یافتہ بیوی نے مل کر دنیا کی مشہور شخصیتوں کا مطالعہ کیا ہے۔ اس مطالعہ کا حاصل انھوں نے ۴۷۵ صفحات کی ایک انگریزی کتاب کی صورت میں پیش کیا ہے۔ اس کتاب میں ایک سو ایسے آدمیوں کے حالات درج ہیں جنھوں نے مصنف کے نزدیک تاریخ پر نمایاں ترین اثرات ڈالے۔ کتاب میں پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو سرِ فہرست رکھا گیا ہے۔ کیوں کہ مصنف کے مطالعہ کے مطابق وہ تاریخ کے سب سے بڑے انسان ہیں۔ انسانی تاریخ پر آپ نے جو اثرات ڈالے وہ کسی دوسرے شخص نے نہیں ڈالے۔ اس کتاب میں نمبر ۲ پر حضرت مسیح ، نمبر ۳ پر حضرت موسیٰ ۳ اور نمبر ۴ پر حضرت عمر بن الخطاب کو رکھا گیا ہے۔ یہاں کتاب کے اس حصہ کا ترجمہ پیش کیا گیا ہے جو پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم سے متعلق ہے۔

کتاب میں اگرچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو غیر معمولی خراجِ تحسین پیش کیا گیا ہے تاہم طارق مطالعہ کے اعتبار سے اس میں وہ خامیاں موجود ہیں جو غیر مسلم سیرت نگاروں کے یہاں اکثر پائی جاتی ہیں۔ مثلاً یہ کہنا کہ آپ نے ابتدا میں یہودیوت اور عیسائیوں سے توحید کا تصور لیا۔ یہ کہ آپ قرآن کے مصنف تھے۔ یہ باتیں نہ صرف ہمارے عقائد کے خلاف ہیں بلکہ خالص علمی پہلو سے بھی بالکل بے بنیاد ہیں اور ان کے رد میں اب تک بہت کچھ لکھا جا چکا ہے۔ ان مزعومات کے علمی اور تاریخی طور پر باطل ثابت ہونے کے باوجود مغربی علماء کیوں انھیں دہراتے رہتے ہیں۔ اس کی وجہ ان کا مخصوص ذہن ہے، وہ ’’علم‘‘ کے کسی غیر زمینی ماخذ کو نہیں مانتے۔ اس لئے ان کی سمجھ میں نہیں آتا کہ ایک شخص نے زمین سے ماورا کسی ذریعہ سے کیسے علم حاصل کر لیا۔ جب آدمی کے ذہن میں کوئی بات بیٹھ جائے تو اس کے خلاف کوئی بات، خواہ وہ کتنی ہی مدلل ہو، اس کے ذہن کی پکڑ میں نہیں آتی۔ وہ اپنی بات کو اس طرح دہراتا رہتا ہے جیسے کہ وہ بدستور ایک مسلمہ صداقت ہے۔ خواہ اس کو کتنے ہی معقول دلائل سے رد کیا جا چکا ہو (مترجم)

‹ Previous page Next page › Contents of November 1982 All issues

Printed page