دجال کون
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۲۰، صفحہ ۱۹
دجال کون
حدیث کی اکثر کتابوں میں آیا ہے کہ قیامت سے پہلے ایک شخص ظاہر ہوگا، جس کو حدیث میں دجال کہا گیا ہے (مسند احمد، حدیث نمبر 25089)۔ اسی کے ساتھ حدیثوں میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ تیس ایسے لوگ آئیں گے جو دجال کذاب ہوں گے (صحیح البخاری، حدیث نمبر 7121)۔ انگریزی میں دجال کو امپوسٹر (imposter) کہہ سکتے ہیں۔ دجال کا لفظ اگر چہ قرآن میں نہیں آیا ہے، لیکن معنی کے اعتبار سے وہ قرآن میں موجود ہے۔ شیطان کے بارے میں قرآن میں آیا ہے کہ وہ تزئین کرتا ہے۔ اس لحاظ سے غالباً یہ کہنا صحیح ہوگا کہ دجال قرآن کی زبان میں مُرَبَّینِ اکبر ہوگا۔ دجال امت مسلمہ کا ایک فرد ہوگا، لیکن وہ امت کے بعد کے زمانے میں آئے گا۔ گویا کہ تاریخی طور پر اس زمانے میں جب کہ امت زوال کا شکار ہو چکی ہوگی۔ زوال کے زمانے میں کسی امت کے اندر جو نفسیات بنتی ہے، وہ شکست خوردگی کی نفسیات (defeatist mentality) ہوتی ہے۔ یہ زمانہ وہ ہوتا ہے جب کہ امت اس قابل نہیں رہتی کہ وہ عملاً اپنی شکست کو فتح میں تبدیل کر سکے۔ اس وقت امت کے اندر ایسے افراد ابھرتے ہیں، جو امت کو فرضی فخر (false pride) کی غذا دیتے ہیں۔ ان کی دل فریب باتوں سے متاثر ہو کر امت یہ سمجھ لیتی ہے کہ وہ لوگ اس کے مخالفین کے مقابلے میں ڈیفنڈر (defender) کا رول ادا کر رہے ہیں۔
غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ امت کے دور زوال میں جو شخص ڈیفنڈر کی حیثیت سے ابھرے گا۔ وہ حقیقی معنوں یا مثبت معنوں میں ڈیفنڈر کا رول ادا کرنے والا نہ ہوگا، بلکہ وہ صاحب دجل (deceiver) ہوگا۔ یعنی امت دھوکہ کھا کر اس کو اپنا ڈیفنڈر سمجھ لے گی۔ حالاں کہ وہ ڈیفنڈر نہیں ہوگا، وہ ڈیسیور ہوگا۔ اس کی پرسنالٹی استحصال (exploitation) پر مبنی پرسنالٹی ہوگی۔ احادیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس زمانے میں امت کا ایک شخص ظاہر ہوگا، جو دجال کو قتل کرے گا۔ غور کرنے سے سمجھ میں آتا ہے کہ یہ قتل جسمانی قتل نہ ہوگا، بلکہ وہ نظریاتی قتل ہوگا۔ یعنی
‹ Previous page Next page › Contents of October 2020 All issues