تعلیم، قدیم اور جدید
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۲۰، صفحہ ۲۴
تعلیم، قدیم اور جدید
قدیم زمانے میں عام طور پر علم برائے علم کا رواج تھا۔ قدیم زمانے میں علم یا تعلیم کا رشتہ معاش سے کم اور زندگی سے زیادہ جڑا ہوا تھا۔ لوگ علم کی خاطر علم حاصل کیا کرتے تھے۔ قدیم زرعی دور میں معاش کا تعلق جسمانی محنت سے زیادہ تھا، اور دماغی محنت سے کم۔ اس صورت حال نے علم کو معاش کے بجائے زیادہ تر خود علم سے جوڑ رکھا تھا۔ مگر جدید دور میں صورت حال بدل چکی ہے۔ قدیم زمانے میں تعلیم اپنے آپ کو تیار کرنے کے لیے نہیں ہوتی تھی۔ لیکن موجودہ زمانے میں تعلیم کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ اپنے آپ کو وقت کے تقاضے کے مطابق تیار کیا جائے۔ تا کہ انسان ترقی کی دوڑ میں اپنا سفر جاری رکھ سکے۔ قدیم زمانے میں تعلیم عملاً ایک جامد ڈسپلن کی حیثیت رکھتی تھی_موجودہ زمانے میں تعلیم ایک تخلیقی سرگرمی (creative activity) کا نام ہے۔ قدیم زمانے میں تعلیم کا تعلق کچھ محدود لوگوں سے ہوتا تھا۔ قدیم دور میں تعلیم کا دائرہ سماج اور قبیلے تک محدود ہوا کرتا تھا، یعنی اپنے سماج یا قبیلے کی روایت کو مینیٹین (maintain) کرنا۔ موجودہ زمانے میں تعلیم کا تعلق زندگی کے تمام شعبوں سے ہو گیا ہے۔ قدیم زمانے میں تعلیم کا نشانہ یہ نہیں ہوتا تھا کہ نئی نئی چیزوں کو دریافت کیا جائے، تا کہ تہذیب کے ارتقا میں ان کا استعمال ہو۔ موجودہ زمانے میں تعلیم ایک انقلابی عمل کی حیثیت رکھتی ہے۔
جدید دور میں ساری دنیا تک تعلیم کا دائرہ پھیلا ہوا ہے۔ ماڈرن ایجوکیشن کا مقصد ہے انسان کے اندر سائنس اور ٹکنالوجی کی صلاحیت ڈیولپ کرنا، اس کے اندر تخلیقیت (creativity) پیدا کرنا، تا کہ وہ دنیا کو کچھ نیا دے سکے۔ قدیم دور میں تعلیم قیاس پر مبنی ہوا کرتی تھی، جس میں خیالی کہانیوں وغیرہ کے ذریعے بچوں میں سماجی اقدار و آداب منتقل کیے جاتے تھے۔ جدید دور سائنسی تجربات پر مبنی تعلیم کا دور ہے۔ آج خیالی کہانیوں اور مثالوں کے بجائے حقیقی واقعات و تجربات پر مبنی تعلیم پر زور دیا جاتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 2020 All issues