Al-Risala · October 2020 · page 35

شکایت نہیں

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۲۰، صفحہ ۳۵

مُذَمًّا وَأَنَا مُحَمَّدٌ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 3533)۔ یعنی کیا تم کو یہ بات عجیب نہیں معلوم ہوتی کہ اللہ مجھ سے قریش کے سب وشتم اور لعنت کو کس طرح دور کر رہا ہے۔ مجھے وہ مذمم کہہ کر شتم کرتے ہیں، مذمم کہہ کر وہ مجھ پر لعنت بھیجتے ہیں۔ حالانکہ میں تو محمد ہوں۔

اس سے معلوم ہوا کہ پیغمبر اسلام کا طریقہ سب وشتم پر مشتمل ہونا نہیں ہے، اور نہ فریق مخالف کے خلاف شکایت اور احتجاج کرنا ہے۔ بلکہ اس سے اعراض کرنا ہے۔ یہ بلند اخلاقی کا معاملہ ہے، نہ کہ قانونی سزا کا معاملہ۔ یہ اعلیٰ سوچ کی ایک انوکھی مثال ہے۔ چنانچہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے یہ ممکن ہوا کہ آپ مسائل کے درمیان مواقع کو دیکھ سکیں، اور ان کو واویل کریں۔ اس کو کہتے ہیں۔ حالات سے اوپر اٹھ کر سوچنا۔

وہ مواقع کیا تھے۔ مثلاً یہ کہ قدیم کعبہ جو توحید کا سینٹر ہونے کے باوجود بتوں کا مرکز بن گیا تھا۔ یہ بات توحید کے پیغمبر کے لیے ناقابل برداشت تھی کہ وہ ایسا ہوتے ہوئے دیکھے، اور اس کے خلاف احتجاج نہ کرے۔ مگر پیغمبر اسلام کی سیرت کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے ان بتوں کو کعبہ سے ہٹانے کی کوئی بات نہیں کی۔ اس کے برعکس، آپ نے حالات سے اوپر اٹھ کر عمل کیا۔ یعنی آپ نے گہرے مطالعے کے بعد سمجھا کہ جس کعبہ میں بت رکھے ہوئے ہیں، اسی بت کی وجہ سے پورے عرب سے روزانہ بڑی تعداد میں زائرین آتے ہیں، جو پوٹنشل آڈینْس کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اگر بتوں کے خلاف آواز اٹھائی جائے، تو بت نہیں ہٹے گا، مگر نقصان یہ ہوگا کہ زائرین، یعنی پوٹنشل آڈینْس کا آنا بھی بند ہو جائے گا۔ اس کے برخلاف، جب بتوں کے خلاف ہنگامہ نہ کیا جائے تو زائرین، یعنی آڈینْس آئیں گے، جن کو آسانی سے اپنا پیغام پہنچایا جا سکتا ہے۔ پیغمبر اسلام نے یہی طریقہ اختیار کیا، اور سارا عرب آپ کے لیے توحید کا آڈینْس بن گیا۔ اس طرح آپ نے بتوں کے اجتماع کو پنج کر کے اس کو توحید کا آڈینْس بنا دیا۔

اسی طرح یہ کہ پیغمبر اسلام نے اپنا مشن قدیم مکہ میں شروع کیا۔ وہاں آپ کی شدید مخالفت ہوئی ۔ یہاں تک کہ انھوں نے آپ کو الٹی میٹم دے دیا کہ آپ مکہ کو چھوڑ دیں، ورنہ ہم آپ کو قتل

‹ Previous page Next page › Contents of October 2020 All issues

Printed page