ضمیر، ایگو
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۲۰، صفحہ ۳۸
ضمیر، ایگو
دہلی کے جسولا وہار کے علاقہ میں ایک تقریری پروگرام کے تحت جانا ہوا۔ نظام الدین سے اوکھلا وہار تک کے اس سفر میں مندرجہ ذیل افراد میرے ساتھ تھے: برادر محمد خالد ندوی، مسجد کے امام قاری محمد سمیع اللہ صاحب، اور واحد علی انجینئر صاحب۔
10 جون 1998 کی شام کو میں اس مسجد میں پہنچا، جس کو عام طور پر جسولا وہار کی مسجد کہا جاتا ہے۔ اس مسجد کو میں نے اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا، اور نہ اس کے بارے میں مجھے کوئی واقفیت تھی۔ عشاء کے وقت جب میں وہاں پہنچا تو یہ میرے لیے ایک غیر متوقع منظر تھا۔ میں نے دیکھا کہ یہ مسجد جس کا نام اقرأ مسجد ہے کسی آبادی میں نہیں ہے، بلکہ وہ ایک کھلی جگہ پر ہے۔ گفتگو کے دوران معلوم ہوا کہ یہاں مسجد کے چاروں طرف مسلمانوں کی ایک بڑی کالونی تھی اس کالونی کے اندر انھوں نے مسجد بنائی تھی۔ مگر یہ کالونی غیر قانونی تھی اور دہلی کے ماسٹر پلان کے خلاف بنائی گئی تھی۔ چنانچہ 1989 میں راجیو گاندھی کی حکومت کے زمانہ میں اس قسم کی دوسری بہت سی کالونیوں کی طرح اس کو بھی مکمل طور پر توڑ دیا گیا۔ دہلی ڈیویلپمنٹ اتھارٹی (ڈی ڈی اے) کے عملہ نے بلڈوزر کے ذریعہ مسلمانوں کے ہزاروں مکانوں کو ڈھا دیا۔
آخر میں مسجد کی باری تھی مگر یہاں ایک عجیب واقعہ پیش آیا۔ D.D.A کا ایک ملازم جس کا نام پنڈت شرما تھا، وہ بلڈوزر کا آپریٹر تھا۔ اس نے مسجد کو بلڈوزر کرنے سے انکار کر دیا۔ اس کے افسر نے سختی کے ساتھ حکم دیا، مگر وہ راضی نہیں ہوا۔ افسر نے دھمکی دی کہ میں تم کو ملازمت سے برخاست کر دوں گا۔ پنڈت شرما نے کہا کہ آپ جو چاہیں کریں، مگر میں مسجد پر اپنا بلڈوزر نہیں چلا سکتا۔ چنانچہ پوری کالونی مکمل طور پر ڈھا دی گئی۔ مگر یہ مسجد اکیلی عمارت کی حیثیت سے کھڑی رہی۔ ایک عرصہ تک یہ مسجد غیر آباد پڑی ہوئی تھی۔ اب قاری محمد سمیع اللہ صاحب نے اس کو آباد کیا ہے۔ انھوں نے اس کی نئی تعمیر کر کے وہاں ایک مدرسہ بھی قائم کر دیا ہے، جس کا نام مدرسہ الحرّاء ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 2020 All issues