Al-Risala · October 2020 · page 40

ضمیر، ایگو

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۲۰، صفحہ ۴۰

خاموشی کی روش اختیار کرلی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ دہلی کی مسجد جہاں تھی وہیں بدستور قائم رہی، بلکہ سرکاری حکم کے باوجود ہندو نے اس کو توڑنے سے انکار کر دیا۔

جسولا وہار کی مسجد اور ایودھیا کی مسجد کا تقابل کرنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ دونوں کلی طور پر ایک دوسرے کے مشابہ ہیں۔ تمثیل یا تقابل کا یہ مطلب کبھی نہیں ہوتا کہ دونوں کے درمیان کلی یکسانیت پائی جائے۔ تمثیل یا تقابل ہمیشہ دو چیزوں کے درمیان جزئی مشابہت کے اعتبار سے ہوتا ہے، نہ کہ کلی مشابہت کے اعتبار سے۔ جسولا وہار کی مسجد اور ایودھیا کی مسجد کے درمیان جو تقابل کیا گیا ہے، وہ صرف ایک پہلو کے اعتبار سے ہے، اور وہ یہ ہے کہ دونوں مسجدوں کا معاملہ یکساں طور پر ہندو کے ساتھ پیش آتا ہے، مگر ایک ہند و مسجد کو توڑ ڈالتا ہے اور دوسرا ہندو مسجد کو نہیں توڑتا۔ زندگی کے معاملات کو سمجھنے کے لیے تقابل (comparison) کا طریقہ نہایت اہم ہے۔ تقابل ہی سے زندگی کی زیادہ گہری حقیقتیں سمجھ میں آتی ہیں۔ بشرطیکہ کہ تقابلی مطالعہ کرنے والا آدمی کھلے ذہن کے ساتھ یہ مطالعہ کرے۔ اور مطالعہ کا جو نتیجہ نکلے اس کو وہ بلا بحث مان لے، خواہ یہ نتیجہ اس کے خلاف ہو، اور خواہ یہ نتیجہ اس کے پورے نظریاتی ڈھانچہ کو ڈھاد دینے والا ہو۔ کوئی آدمی جب ایک سچائی کا انکار کرتا ہے تو وہ سمجھتا ہے کہ میں ایک خارجی چیز کا انکار کر رہا ہوں، حالانکہ وہ خود اپنا انکار کر رہا ہوتا ہے، اگر چہ وہ اپنی نادانی کی بنا پر اس کو نہیں جانتا۔

ایک مثال

مشرقی یوپی کے ایک شہر کا واقعہ ہے۔ اس شہر میں ایک مسلمان نے اپنے لیے گھر بنایا۔ مکان کے ساتھ ایک خالی زمین بھی ان کے پاس میں تھی۔ اُن کے پڑوس میں ایک ہندو ٹھیکہ دار تھا۔ اس ہندو ٹھیکہ دار کا دعویٰ تھا کہ یہ زمین اُس کی ہے۔ چنانچہ اُس نے شہر کے کٹر ہندوؤں سے مل کر انھیں بھڑکایا۔ یہاں تک کہ ایک دن ہندوؤں کی ایک بھیڑ گھر کے سامنے سڑک پر اکٹھا ہوگئی، اور نعرے لگانے لگی۔

مذکورہ مسلمان کے پاس اُس وقت دو بندوقیں تھی۔ مگر انھوں نے بندوق نہیں اٹھائی۔ وہ تنہا

‹ Previous page Next page › Contents of October 2020 All issues

Printed page