Today India is free
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۲۰، صفحہ ۴۳
(1807-1945) کی تقیہ ستینہ کا مقام سیکھنا بڑا سستا ہے اور آج (1897-1945) کی تحریر سنی۔ جیسا کہ معلوم ہے کہ سبھاش چندر بوس نے آزاد ہند فوج 1942 میں بنائی تھی۔ ان کا نعرہ یہ تھا:
اسی طرح میں نے ایک سوشلسٹ اجتماع (gathering) میں شریک ہو کر جے پرکاش نارائن (1902-1979) کی تقریر سنی۔ یہ جلسہ اعظم گڑھ میں ہوا تھا۔ جیسا کہ معلوم ہے جے پرکاش نارائن بعد کو لوک نائک کے خطاب سے مشہور ہوئے۔ اس طرح میری نوجوانی کے دن گزر رہے تھے۔ یہاں تک کہ 15 اگست 1947 ء کا دن آگیا۔ 15 اگست 1947 ء کی رات کو میں نے وہ تاریخی تقریر تو نہیں سنی، جس میں اس وقت کے وائسرائے لارڈ ماؤنٹ بیٹن (1900-1979) نے نار سٹینڈرڈ ہیں، جس میں اس مدت کے دوران آنے والے آڈر مارک اس رات کو 12 بج کر ایک منٹ پر آل انڈیا ریڈیو سے اعلان کیا تھا:
Today India is free
میں وائسرائے کی تقریر ریکارڈ تو نہیں سن سکا، لیکن بہت سے دوسر نے لوگوں کی طرح میں وائسرائے کی تحریر اور ویڈیو پر لوہیں۔ جن بہت سے دوسرے لوگوں کی طرح اگلے دن صبح کو اخبار میں پڑھا۔ 15 اگست 1947ء کو میں اعظم گڑھ میں تھا۔ مجھے یاد ہے کہ رات کے وقت جب میں اپنی قیام گاہ سے باہر نکلا، اور شہر کی سڑکوں پر پہنچا تو میرے چاروں طرف خوشی کے دیے جل رہے تھے۔ پورا شہر روشنی میں ڈوبا ہوا تھا۔
اب وہ روشنی بجھ چکی ہے، لیکن اب وقت آ گیا ہے کہ ہم سب لوگ مل کر ایک نئے دور کے آغاز کا دیا جلائیں۔ وہ ہے انڈیا کی نئی تعمیر کا دور۔ وہ دور جس کا خواب سوامی وویکانندا نے دیکھا تھا۔ وہ دور جس کی یاد میں مہاتما گاندھی نے اپنی جان دے دی۔ وہ دور جس کا آخری صفحہ لکھنے کے لیے شاید انڈیا کا مؤرخ انتظار کر رہا ہے۔
میں اب 90 پلس ہو چکا ہوں۔ لیکن میری امیدیں ابھی تک باقی ہیں۔ میرا معمول ہے کہ میں روزانہ صبح کو اپنے کمرے سے نکل کر باہر بیٹھ جاتا ہوں، اور صبح کے سورج کے نکلنے کا انتظار کرتا رہتا ہوں۔ مجھے یاد ہے کہ ایک مرتبہ 15 اگست پر ہونے والے ایک پروگرام میں میں نے راہنما ہوں ، مت یادِ مہِ زیب (باقی حاشیہ، اگلا صفحہ ملاحظہ ہو) اول س س
‹ Previous page Next page › Contents of October 2020 All issues