Al-Risala · October 2020 · page 10

رسول سے تعلق

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۲۰، صفحہ ۱۰

رسول سے تعلق

رسول سے تعلق کے بارے میں قرآن کی ایک آیت ان الفاظ میں آئی ہے: قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ ۚ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ (3:31)۔ یعنی کہو، اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا۔ اور تمہارے گناہوں کو معاف کر دے گا۔ اللہ بڑا معاف کرنے والا، بڑا مہربان ہے۔ قرآن کی اس آیت میں اتباعِ رسول کا مطلب رسول کو اپنا رہنما بنانا ہے۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ جو شخص اللہ کے راستے پر چلنا چاہے، اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ رسول کے نمونے سے اپنے لیے رہنمائی حاصل کرے۔ اللہ کے راستے کا مسافر رسول کی رہنمائی سے بے نیاز نہیں ہو سکتا۔

رسول کا معاملہ ایک اعتبار سے یہ ہے کہ رسول، اللہ کا متلاشی تھا۔ پھر اس کو اللہ نے اپنا راستہ دکھایا۔ وحی کے ذریعہ رسول کو بتایا کہ اللہ کے راستے پر چلنے کا مستند طریقہ کیا ہے۔ رسول کا یہ نمونہ احادیث کی صورت میں مختلف کتابوں میں ریکارڈ ہو چکا ہے، اور وہ قیامت تک اللہ کے راستے کے مسافر کے لیے واحد مستند رہنما ہے۔

حدیث اور سنت کے مطالعے سے آدمی کو حکمتِ خداوندی کا علم ہوتا ہے۔ پھر جب آدمی اس حکمت کو عملاً اختیار کرتا ہے تو وہ اللہ کی رحمت کا مستحق بن جاتا ہے۔ اس کو ہر مرحلے میں اللہ کی نصرت ملنے لگتی ہے۔ وہ بھٹکے بغیر اللہ کے راستے پر چلتا رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ آخری منزل پر پہنچ جاتا ہے، جس کا دوسرا نام جنت ہے۔

رسول کا اتباع موجودہ زمانے میں اسی طرح مطلوب ہے، جس طرح وہ پہلے زمانے میں مطلوب تھا۔ تاہم رسول کے پیرو(follower) کے لیے ضروری ہے کہ وہ نئے حالات کے اعتبار سے رسول کے نمونے کا انطباق نو(reapplication) دریافت کرے۔ تا کہ وہ صحیح اسپرٹ کے ساتھ رسول کا متبع بن سکے۔ سچے طالب کے لیے اس قسم کا انطباق نو دریافت کرنا کوئی مشکل کام نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 2020 All issues

Printed page