Al-Risala · November 2020 · page 24

ایلین لائف

الرسالہ، نومبر ۲۰۲۰، صفحہ ۲۴

ایلین لائف

اسٹیفن ہاکنگ (Stephen Hawking) موجودہ زمانے کا ایک ممتاز برٹش سائنس داں ہے۔ کائنات کے طویل مطالعے کے بعد اس نے کہا کہ میرا ریاضیاتی ذہن یہ بتاتا ہے کہ زمین کے ماورا بھی انسان کے مانند کوئی ذہین وجود ہونا چاہیے۔ اس وجود کو اس نے اجنبی زندگی (Alien life) کا نام دیا ہے۔ اس معاملے میں اسٹیفن ہاکنگ کی سادہ منطق یہ ہے کہ ہماری کائنات میں تقریباً ایک سو بلین کہکشائیں ہیں۔ ہر کہکشاں میں کئی سو بلین ستارے ہیں۔ اتنی بڑی کائنات میں یہ بات نا قابلِ قیاس ہے کہ صرف زمین وہ واحد سیارہ ہو، جہاں زندگی کا ارتقا ہوا ہے۔ میرے ریاضیاتی ذہن کے مطابق، ستاروں کی یہ عظیم تعداد ہی اس نظریے کو پوری طرح معقول ماننے کے لیے کافی ہے: Hawking has suggested that extraterrestrials are almost certain to exist. Hawking's logic on aliens is, for him, unusually simple. The universe has 100 billion galaxies, each containing hundreds of millions of stars. In such a big place, Earth is unlikely to be the only planet where life has evolved. “To my mathematical brain, the numbers alone make thinking about aliens perfectly rational.”

(The Times of India, New Delhi, April 26, 2010, p. 17)

سیارہ زمین پر ذہین وجود کا ہونا، اولاً جس چیز کو ثابت کرتا ہے، وہ استثنا (exception) ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ اس استثنا کی توجیہہ کیا ہے۔ اسٹیفن ہاکنگ نے ارتقا (evolution) کے مفروضہ نظریے کو توجیہہ کی بنیاد قرار دیا ہے۔ مگر زیادہ معقول بات یہ ہے کہ اس استثنا کی توجیہہ، مداخلت (intervention) کی بنیاد پر کی جائے۔ کیوں کہ مداخلت اپنے آپ میں ثابت ہے، اور جب مداخلت کو مان لیا جائے تو خالق کا وجود اپنے آپ ثابت ہو جاتا ہے۔ موجودہ زمانے میں بہت سی نئی حقیقتیں دریافت ہوئی ہیں۔ یہ نئی حقیقتیں خالق کے وجود کو ثابت کر رہی تھیں، لیکن ارتقائی مفروضے کے تحت ان کو ارتقائی عمل کا نتیجہ قرار دے دیا گیا۔ مگر یہ محض ایک قیاس ہے، اور ایک قیاس سے دوسرے قیاس کو ثابت کرنا، بلاشبہ ایک غیر منطقی استدلال کی حیثیت رکھتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 2020 All issues

Printed page